
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
کئی ممالک کو جنگ کے میدان میں گھسیٹنے اور بھاری جان ومال کی تباہی کے الزامات کا سامنا کرنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے امریکی اسرائیلی حملے پرایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل کا غلط اندازہ لگایا ہے۔ یہ سنسنی خیز دعویٰ ’نیویارک ٹائمز‘ نے کیا ہے۔ امریکہ کے بڑے میڈیا گروپ ’نیویارک ٹائمز‘کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے کم اندازہ لگایا کہ امریکہ۔ اسرائیل حملے کا ایران کیا جواب دے گا۔
Published: undefined
رپورٹ کے مطابق حملے سے پہلے ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کر دیا تھا کہ جنگ سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ امریکی توانائی کے سکریٹری کرس رائٹ نے فروری میں کہا تھا کہ انہیں مارکیٹ میں رکاوٹ کی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے کی اسٹرائک کے دوران تیل کی قیمتیں کچھ دیر کے لیے ہی بڑھی تھیں اور پھر مستحکم ہوگئی تھیں۔
Published: undefined
کچھ مشیروں نے مبینہ طور پر ان انتباہات کو خارج کر دیا کہ ایران اقتصادی جنگ کے ساتھ جوابی کارروائی کر سکتا ہے جس میں دنیا کی تیل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد لے جانے والے جہاز رانی کے راستے کو روکنا بھی شامل ہے۔ اس کارروائی سے خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور سپلائی کی رفتار کافی کم ہو گئی ہے۔ امریکہ اب ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں اپنے اڈوں پر میزائل حملوں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبے بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔
Published: undefined
ایران نے گزشتہ سال 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز جوابی کارروائی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے امریکی فوجی اڈوں، عرب شہروں اور اسرائیلی بستیوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ خلیجی خطے میں جہاز رانی کی آمدورفت میں کمی کے ساتھ انتظامیہ اب گھریلو سطح پر بڑھتی ہوئی گیس کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
Published: undefined
سینیٹر کرس مرفی نے انکشاف کیا ہے کہ انتظامیہ کے پاس آبنائے ہرمز کو بحفاظت دوبارہ کھولنے کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی اعتراف کیا کہ ایران کے سخت جوابی حملے نے پینٹاگون کو کسی حد تک حیران کردیا ہے۔ انتظامیہ کے اندر کچھ اہلکار اب جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی محسوس کر رہے ہیں۔
Published: undefined
واشنگٹن کے مطابق جہاں ٹرمپ ایران میں قیادت جیسی بڑی مانگ کررہے ہیں وہیں وزیرخارجہ مارکو روبیو اور سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ محدود اہداف کی بات کر رہے ہیں جس سے سفارتی راستے سے جنگ سے نکلا جاسکے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے انتظامیہ کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے تیل کی منڈی کو ایران کے خطرے سے آزاد کرنا ضروری ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined