
امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک ممکنہ معاہدے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اشارہ دیا کہ جوہری معاہدے کے معاملے میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور اگر ضرورت پیش آئی تو جاری جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
Published: undefined
ٹرمپ کے مطابق ایران اب ان شرائط پر غور کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے، جنہیں وہ چند ماہ قبل قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت خوشگوار ماحول میں جاری ہے اور دونوں فریق سنجیدگی کے ساتھ کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیا جائے، کیونکہ یہ عالمی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند دنوں میں مذاکرات کی رفتار مزید تیز ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ ہفتے کے اختتام پر دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان براہ راست ملاقات بھی ہو۔ جنگ بندی کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ اگر معاہدہ قریب ہوا تو اسے بڑھانے پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ حالات کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
Published: undefined
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے اور تصادم کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔ ان کے مطابق ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں امریکی معاشی پابندیوں اور دباؤ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت متاثر ہوئی ہے اور اس کی بین الاقوامی تجارت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
معاشی پہلو پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان پیش رفتوں کا عالمی منڈیوں پر مثبت اثر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق حصص بازار میں بہتری دیکھی جا رہی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حالات بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔
Published: undefined
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری بات چیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایک ہفتے کی جنگ بندی کے لیے مثبت تجاویز زیر غور ہیں، جن میں حزب اللہ کی شمولیت بھی ممکن ہے۔ انہوں نے اس عمل کو خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
ٹرمپ نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت کو بھی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں اور وہ خطے کے مسائل پر مسلسل رابطے میں ہیں۔ یوکرین کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ وہاں حالات پیچیدہ ہیں، مگر فی الحال امریکہ کی توجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر مرکوز ہے۔ انہوں نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے اور امریکہ اس مقصد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined