
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان ٹیرف سے متعلق تنازع بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اس دوران امریکہ نے یورپ سے آنے والی کاروں پر زیادہ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں یورپی یونین نے ہفتہ کو کہا کہ اگر امریکہ مشترکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا ہے تو وہ اپنے مفادات کی حفاظت کے تمام آپشن کھلے رکھے گا۔ یہ رد عمل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی کاروں اور ٹرکوں پر 25 فیصد ٹیرف بڑھانے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔
Published: undefined
یورپی کمیشن کے ترجمان نے چینی خبر رساں ایجنسی سنہوا سے کہا کہ ہم ایک مستحکم اور باہمی طور پر فائدہ مند ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں لیکن اگر امریکہ نے مشترکہ بیان پر عمل نہیں کیا تو ہم اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھیں گے۔
Published: undefined
ترجمان نے واضح کیا کہ یورپی یونین گزشتہ سال کے معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو عام قانونی عمل کے مطابق نافذ کر رہا ہے اور اس دوران امریکی انتظامیہ کو مسلسل آگاہ کیا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی برسلز معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کے بارے میں واشنگٹن سے وضاحت طلب کر رہا ہے۔ گزشتہ سال ہوئے یورپی یونین-امریکہ تجارتی معاہدے کے مطابق یورپی یونین نے امریکی صنعتی مصنوعات پر ٹیرف معطل کرنے اور زرعی، غذائی مصنوعات کے لیے ٹیرف شرح کوٹہ نافذ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے عوض امریکہ نے زیادہ تر یورپی مصنوعات پر 15 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
Published: undefined
ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ انہوں نے یورپی یونین سے آنے والی کاروں اور ٹرکوں پر ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یورپی یونین موجودہ تجارتی معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا ہے۔ مرین ون سے روانگی سے قبل ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم نے یورپی یونین سے آنے والی کاروں پر ٹیرف میں اضافہ کیا ہے کیونکہ وہ ہمارے تجارتی معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہے تھے۔‘‘ یہ امریکہ کے لیے اربوں ڈالر لائے گا اور کمپنیوں کو اپنی پیداوار کو تیزی سے امریکہ منتقل کرنے کے لیے مجبور کرے گا۔
Published: undefined
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس اقدام کا مقصد عالمی گاڑی مینوفیکچررس کو امریکہ میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ترغیب دینا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت امریکہ میں 100 بلین ڈالر سے زیادہ کے آٹو پلانٹس زیر تعمیر ہیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ اس میں جاپان، جنوبی کوریا، کینیڈا اور میکسیکو کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ ٹیرف میں اضافے کے اس فیصلے کو امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی کشیدگی میں ایک نئے اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر آٹو سیکٹر میں، جو دونوں فریقوں کے درمیان طویل عرصے سے تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ تنازعہ بڑھتا ہے تو اس سے عالمی سپلائی چین اور معاشی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined