عالمی خبریں

عصمت دری کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کا عالمی سطح پر جرم قرار دینے کا مطالبہ

فمزیلے ملامبو نے کہا کہ جو ریپ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ کتنا طاقتور ہتھیار ہے جس سے متاثرہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجا تی ہے اور اس کے ذریعہ اس کی آواز کو بھی دبایا جاتا ہے

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا  

نیویارک: عصمت دری کو معاشرے کے لئے ناقابل برداشت عمل قرار دیتے ہوئے اسے عالمی سطح پر غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے کہا کہ زیادہ تر عصمت دری ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوتا یا انہیں سزائیں نہیں ہوتی ہیں۔

Published: undefined

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فمزیلے ملامبو نے خواتین پر تشدد کے خاتمہ کے لئے منائے جانے والے عالمی دن کے موقع پر کہا کہ دنیا کے اس وقت نصف سے زائد ممالک میں ’ازدواجی عصمت دری‘ یا ’مرضی کے اصولوں کے مخالف‘ ہونے والے ریپ کو مجرمانہ عمل قرار دینے کے قوانین موجود نہیں ہیں۔

Published: undefined

ان کا کہنا تھا کہ ’’ریپ کرنے والوں کے احتساب کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کو اس طرح کے واقعات کی تحقیقات کرنے کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ متاثرین کے ساتھ تعاون کے لئے کرمنل جسٹس پراسیس کے ذریعہ میکانزم تیار کیا جانا چاہیے جس کی رسائی قانون، پولس اور انصاف کی فراہمی کے نظام سمیت صحت اور سماجی سروسز تک ہو‘‘۔

Published: undefined

ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کی ایک خواہش پوری ہوسکے تو وہ دنیا سے ریپ کے خاتمہ کی خواہش کریں گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’ریپ تنہائی میں کیا گیا مختصر سا عمل نہیں بلکہ اس کی وجہ سے جسمانی و ذہنی نقصانات ہوتے ہیں، اس سے زندگیاں تبدیل ہوجاتی ہیں اور اس کے دیرینہ اور تباہ کن اثرات اہل خانہ، دوست، شراکت داروں اور دیگر افراد پر بھی ہوتے ہیں‘‘۔

Published: undefined

ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے خواتین میں حملہ یا کلنک کا خوف پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ برادری کو چھوڑ بھی سکتی ہیں اور ایسی صورتحال میں خواتین یا لڑکیاں غیر محفوظ ٹرانسپورٹ اور غیر محفوظ زندگی کے حالات سے گزرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

Published: undefined

دوسری جانب کم عمر میں کی گئی شادیوں کی وجہ سے جوان سال لڑکیوں کو ازدواجی ریپ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے بعد وہ وہاں سے بھاگنے اور کہیں پناہ لینے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔ ان کے بیان میں کہا گیا کہ ’’دنیا کے کئی ممالک میں موجودہ، سابقہ شوہروں، شراکت داروں یا بوائے فرینڈ کی جانب سے خواتین پر جنسی تشدد کا خدشہ ہے، لاکھوں لوگوں کے لئے گھر محفوظ جگہ نہیں ہے‘‘۔

Published: undefined

ان کا کہنا تھا کہ جرائم زیادہ تر رپورٹ نہیں ہوتے یا ملزمان کو سزا نہیں ہوتی کیونکہ اس کے لئے متاثرین کا سامنے آنا بھی ضروری ہوتا ہے جبکہ متاثرین کے لئے اہم چیز انہیں حوصلہ دیا جانا، انہیں کہاں جانا چاہیے اس کی معلومات دینا اور واقعہ کے بعد زندگی دوبارہ جینا سکھانا شامل ہے‘‘۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ ’’کئی ممالک میں خواتین سمجھتی ہیں کہ جب وہ جنسی تشدد کا واقعہ رپورٹ کریں گی تو ان کی بات پر یقین نہیں کیا جائے گا اور الٹا ان ہی کو قصوروار ٹھہرایا جائے گا‘‘۔ بیان کے مطابق’’بہت کم خواتین ایسی ہیں جو ریپ کے بعد ماہرین کی مدد طلب کرتی ہیں اور ان میں سے صرف 10 فیصد ہی پولس کے پاس جاتی ہیں‘‘۔

Published: undefined

ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے اقوام متحدہ نے پولس میں خواتین کی تعداد میں اضافے کی تجویز بھی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’پولس میں خواتین کی تعداد کے اضافے اور ان کی تربیت اہم ہے تاکہ متاثرین کا بھروسہ بحال ہوسکے اور انہیں احساس ہو کہ ان کی شکایت پر ہر مرحلہ میں سنجیدگی سے عمل کیا جائے گا‘‘۔

Published: undefined

انہوں نے مزید کہا کہ’’جو ریپ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ کتنا طاقتور ہتھیار ہے جس سے متاثرہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجا تی ہے اور اس کے ذریعہ اس کی آواز کو بھی دبایا جاتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined