
بشیر بدر (فوٹو سوشل میڈیا)
پدم شری ایوارڈ یافتہ عالمی شہرت یافتہ شاعر بشیر بدر اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ انہوں نے جمعرات (28 مئی) کو دوپہر تقریباً 12 بجے دنیا کو الوداع کہا۔ بشیر بدر نے 91 سال کی عمر میں بھوپال کے عید گاہ ہلز میں واقع اپنے گھر میں آخری سانس لی۔ بتایا جا رہا ہے کہ معروف شاعر بشیر بدر کافی عرصے سے علیل تھے۔ انہیں عمر سے متعلق مسائل بھی تھے۔
Published: undefined
بھوپال کے رہنے والے بشیر بدر کا شمار اردو شاعری کی دنیا کے سب سے مقبول اور نرم لہجے والے شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1935 کو اترپردیش کے ایودھیا میں ہوئی تھی۔ بشیر بدر طویل عرصے سے ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا تھے۔ وہ اپنی یاد داشت سے محروم ہوچکے تھے جس کی وجہ سے وہ لوگوں کو پہچاننے سے قاصر تھے۔ ان کی طبیعت گزشتہ کچھ عرصے سے کافی خراب تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بشیر بدر کی تدفین کا وقت ابھی طے نہیں ہوا ہے۔ تاہم ان کے اہل خانہ کے مطابق مرحوم کی آخری رسومات آج شام ادا کی جا سکتی ہیں۔
Published: undefined
کئی دہائیوں تک اپنی غزلوں کے لیے مقبول رہنے والے بشیر بدر نے محبت، تنہائی، رشتوں، یادوں اور انسانی جذبات کو اپنی شاعری کے ذریعہ بڑی سادگی سے بیان کیا۔ انہیں آنے والی دہائیوں تک اس کے لیے یاد رکھا جائے گا۔ بشیر بدر جب بھی مشاعروں میں شریک ہوتے تو لوگ انہیں سننے کے لیے بے تاب نظر آتے تھے۔
Published: undefined
بشیر بدر کے انتقال کی خبر عام ہوتے ہی ادبی، سماجی اور سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی اور ہر طرف سے رنج وغم کا اظہار کیا جانے لگا۔ اس دوران شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے بشیر بدر کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری زبان اردو تھوڑی غریب ہو گئی ہے۔ انتہائی خوش کن شاعر بشیر بدر ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔ ان کی غزلیں ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined