عالمی خبریں

برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے پوتن، وزیراعظم مودی سے ہوگی دوطرفہ ملاقات: پیسکوف

روس کے صدر ولادیمیر پوتن برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچیں گے اور وزیراعظم نریندر مودی سے دوطرفہ ملاقات کریں گے۔ کریملن نے ہندوستان کو روس کا ’اسٹریٹجک پارٹنر‘ قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>

تصویر آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: روسی صدر ولادیمیر پوتن نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے اور اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ دوطرفہ ملاقات کریں گے۔ کریملن نے دونوں رہنماؤں کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے ہندوستان کو روس کا ’اسٹریٹجک پارٹنر‘ قرار دیا ہے۔

پوتن کے ہندوستان پہنچنے سے قبل کریملن کے ترجمان اور روسی صدر کے پریس سکریٹری دمتری پیسکوف نے منگل کو میڈیا سے ورچوئل گفتگو میں ہندوستان-روس تعلقات اور برکس سے متعلق متعدد اہم امور پر روس کا موقف پیش کیا۔

پیسکوف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے باہمی رابطے انتہائی اہم ہوں گے، بالخصوص وزیراعظم مودی کے ساتھ صدر پوتن کی ملاقات۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے رہنماؤں کے درمیان قریبی اور عملی نوعیت کے تعلقات ہیں اور دونوں عالمی ایجنڈے اور باہمی تعلقات سے متعلق حساس معاملات پر کھلے اور تعمیری انداز میں بات چیت کر سکتے ہیں۔

انہوں نے برکس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ برکس کوئی باقاعدہ تنظیم نہیں بلکہ مختلف ممالک کا ایک ’’کلب‘‘ ہے۔ اس کے پاس کوئی چارٹر، باقاعدہ قواعد یا مستقل دفتر نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ ایسے ممالک کا پلیٹ فارم ہے جو عالمی معاملات کو چلانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے طریقہ کار کے حوالے سے مشترکہ سوچ رکھتے ہیں۔

پیسکوف نے کہا کہ روس برکس تعاون کے تین بنیادی ستونوں، یعنی سیاست و سلامتی، معیشت و مالیات اور ثقافتی و انسانی روابط، کو مزید فروغ دینے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے برکس تعاون میں مزید ممالک کو شامل کرنے کی حمایت بھی کی۔ انہوں نے برکس کے ’’پارٹنر کنٹری‘‘ تصور کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2024 میں قائم کی گئی اس نئی کیٹیگری میں بیلاروس، بولیویا، ویتنام، قازقستان، کیوبا، نائجیریا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، یوگنڈا اور ازبکستان شامل ہیں۔

پیسکوف کے مطابق روس اور برکس ممالک کے درمیان تقریباً 90 فیصد ادائیگیاں اب قومی کرنسیوں میں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں اصلاحات اور عالمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق برکس کے اندر ماہر سطح کی بات چیت کا بھی ذکر کیا۔ ہندوستان کی جانب سے روسی توانائی کی درآمد اور اس سلسلے میں امریکی پابندیوں سے متعلق سوال پر پیسکوف نے مجوزہ امریکی پابندیوں کے قانون کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا۔

مودی اور پوتن کی ملاقات میں روس-یوکرین جنگ اور امن کی کوششوں پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ ہندوستان مسلسل جنگ کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیتا رہا ہے۔ پیسکوف نے کہا کہ روس ہندوستانی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس صرف اقتصادی تعاون کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ ابھرتی ہوئی کثیر قطبی عالمی نظام کی علامت بھی ہے۔ پیسکوف نے ہندوستان کی برکس صدارت میں کی جانے والی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ برکس کی بنیادی سوچ ایک کثیر قطبی دنیا کے تصور سے جڑی ہوئی ہے۔

پیسکوف نے ہندوستان-روس تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف تیل اور دفاع تک محدود نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوستان میں نئے جوہری بجلی گھر کی ترقی میں مزید پیش رفت کی امید ظاہر کی اور روس میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ کا بھی خیرمقدم کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔