
ایبولا، تصویر/آئی اے این ایس
دنیا ایک بار پھر وبائی مرض کے خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ افریقہ کے کچھ ممالک میں ایبولا وائرس کے معاملوں میں لگا تار اضافہ ہو رہا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے ایبولا وائرس کو انٹر نیشنل پبلک ہیلتھ ایمرجنسی اعلان کر دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے اتوار کو بتایا کے کانگو میں ایبولا کے 900 سے زائد سے زائد مشتبہ معاملے سامنے آئے ہیں جن میں سے 101 معاملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
Published: undefined
کانگو عوامی جمہوریہ کے صوبہ اتوری میں روامپارا اور مونگ بوالو علاقوں میں علاج کے مراکز کو جلائے جانے کی واردات بھی سامنے آئی ہے، جہاں سب سے زیادہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ کچھ طبقات میں بڑھتی ہوئی مخالفت وبائی مرض سے نمٹنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ لوگوں کے غصہ کی بڑی وجہ ایبولا سے مشتبہ اموات کی آخری رسومات کے حوالے سے بنائے گئے سخت ضوابط بتائے جارہے ہیں۔ کیونکہ بیماری پھیلنے سے روکنے کے لیے انتظامیہ جہاں تک ممکن ہو، آخری رسومات کا عمل خود انجام دے رہی ہے۔
Published: undefined
لوگ مقامی حکومت کی ناکامی اور بین الاقوامی امداد میں تخفیف جیسے مسائل کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق ایبولا کے معاملے کی جانچ کے عمل میں خامیوں کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ کئی چیلینجوں اور غلطیوں کی وجہ سے وائرس کی پہچان میں تاخیر ہوئی ہے۔ بتا دیں کہ ایبولا ایک خطرناک وائرس سے ہونے والی بیماری ہے جو کئی معاملوں میں جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے جسم کی رطوبتوں جیسے خون، قے، پسینہ اور منی کے رابطے میں آنے سے ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے۔
Published: undefined
ڈبلیو ایچ او نے اطلاع دی ہے کہ یہ وبائی بیماری ’بنڈی بگیو‘ وائرس کی وجہ سے ہے، جس کے لیے کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ ایبولا کی تمام اقسام کی علامات تقریباً یکساں مانی جاتی ہیں حالانکہ یہ آہستہ آہستہ سنگین ہوتی جاتی ہیں۔ شروعات میں اس کے انفیکدشن فلو جیسے ظاہر ہوتے ہیں، جیسے اچانک تیز بخار، سردرد، پٹھوں اور جوڑوں میں درد، تھکاوٹ اور کمزوری۔ اس کے کچھ دنوں بعد قے، اسہال، پیٹ میں درد اور گلے میں خراش جیسے مسائل بھی سامنے آنے لگتے ہیں۔ جیسے جیسے مرض بڑھتا ہے، آنکھوں، مسوڑھوں یا جسم کے دیگر حصوں میں بغیر وجہ خون بہنا، چوٹ جیسے نشان پڑنا، سانس لینے میں دشواری اور کئی معاملوں میں اعضاء کا فیل ہونا جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ انفیکشن کے 2 سے 21 دنوں کے اندر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر قومی آواز / وپن