عالمی خبریں

بنگلہ دیش میں خسرہ بے قابو، 118 اموات، بیشتر متاثرین بچے

بنگلہ دیش میں خسرہ تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں 118 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، زیادہ تر بچے ہیں۔ ماہرین نے ویکسین کی کمی اور نظامی کمزوریوں کو بحران کی بڑی وجہ قرار دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں خسرہ کا پھیلاؤ تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے، جہاں 15 مارچ سے لے کر پیر کی صبح تک کم از کم 118 افراد کی موت ہو چکی ہے، جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔ ملک کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے مطابق حالیہ دنوں میں اموات میں تیزی آئی ہے اور صرف اتوار سے پیر کے درمیان 24 گھنٹوں میں پانچ افراد دم توڑ گئے۔

Published: undefined

محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق خسرہ کے مشتبہ مریضوں کی تعداد 2006 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں اور مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ راجشاہی میڈیکل کالج اسپتال میں بھی صورت حال سنگین ہے جہاں متعدی علامات کے شکار مزید دو بچوں کی موت کے بعد وہاں اموات کی مجموعی تعداد 42 ہو گئی ہے۔

اسپتال کے ترجمان شنکر کمار بسواس کے مطابق یہ دونوں اموات بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہوئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ ویکسینیشن پروگرام میں رکاوٹ ہے۔ سابق ڈائریکٹر برائے امراض کنٹرول بینظیر احمد کے مطابق محمد یونس کی عبوری حکومت نے اچانک ایک ایسے سیکٹوریل پروگرام کو ختم کر دیا تھا جو ویکسینیشن کے لیے فنڈ فراہم کرتا تھا، جس کے نتیجے میں خسرہ کی ویکسین کی قلت پیدا ہو گئی۔

انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ عالمی یوم صحت کے موقع پر مثبت پیش رفت کے بجائے ملک ایک خطرناک وبا سے نبرد آزما ہے۔ ان کے مطابق 2026 تک خسرہ اور روبیلا کے خاتمے کا ہدف مقرر تھا، مگر موجودہ حالات اس کے برعکس ہیں اور اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

Published: undefined

مزید برآں، 2024 کے آخر میں طے شدہ خصوصی ٹیکہ کاری مہم سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے شروع نہیں ہو سکی، جبکہ 2025 کے دوران ویکسین لگانے والے کارکن تین بار ہڑتال پر گئے، جس سے معمول کے ٹیکہ کاری پروگرام شدید متاثر ہوئے۔

محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فنڈ کی کمی کے باعث جنوری سے کچھ علاقوں میں ویکسین کی محدود تقسیم کی جا رہی ہے۔ ماہر صحت مشتاق حسین کے مطابق حکومت نے ہنگامی ویکسینیشن مہم ضرور شروع کی ہے، لیکن طویل مدتی بہتری کے لیے صحت کے نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

Published: undefined

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خسرہ ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ ایک مریض 16 سے 18 افراد کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ فوری، مؤثر اور مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined