عالمی خبریں

فرانس میں فسادات کے دوران اے آئی سے جعلی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کا دعویٰ، میکرون نے کی مذہبی تعلق کی تردید

فرانس کے صدر میکرون نے دعویٰ کیا ہے کہ فسادات کے دوران اے آئی سے جعلی تصاویر اور ویڈیوز تیار کی گئیں۔ انہوں نے مہاجرین اور اسلام پسندوں کے حملے سے متعلق دعووں کو غلط قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

دوحہ: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کر کے جعلی تصاویر اور ویڈیوز تیار کی گئیں، جن میں ایسے مناظر دکھائے گئے جو حقیقت میں فرانس میں پیش ہی نہیں آئے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں ہونے والے فسادات کا کسی مخصوص مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا اور فرانس پر مہاجرین اور اسلام پسندوں کے حملے سے متعلق دعوے پوری طرح بے بنیاد ہیں۔

میکرون نے خلیجی ممالک کے دورے کے بعد دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ فرانسیسی صدر کے سرکاری دفتر ایلیسی پیلس نے ان کی پریس کانفرنس کا براہ راست نشریہ کیا۔

میکرون نے کہا کہ اطلاعات کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر چھیڑ چھاڑ کی گئی، جس کے نتیجے میں کئی افراد، حتیٰ کہ غیر ملکی رہنماؤں نے بھی غیر ذمہ دارانہ تبصرے کیے۔ ان کے مطابق بعض رہنماؤں نے اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی جعلی ویڈیوز دیکھنے کے بعد فرانس میں ہونے والے فسادات کے بارے میں بیانات دیے۔

فرانسیسی صدر نے تاہم واضح کیا کہ انہیں ملک میں ہونے والے واقعات کے دوران کسی غیر ملکی مداخلت کا ثبوت نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی سے تیار کی گئی ایسی تصاویر سامنے آئیں جن میں ایسے واقعات اور مناظر دکھائے گئے جو فرانس میں کبھی پیش ہی نہیں آئے تھے۔

میکرون نے کہا کہ بعض افراد نے یہ دعویٰ کیا کہ مہاجرین اور اسلام پسندوں کے ہجوم نے فرانس پر حملہ کر دیا ہے، جبکہ یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کون فرانس کے حق میں ہے اور کون اس کے خلاف۔ انہوں نے اپنے ناقدین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس وقت فرانس کے بارے میں منفی باتیں کر رہے ہیں، وہ ملک کو پسند نہیں کرتے۔

فرانس میں حالیہ عرصے کے دوران مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا تھا۔ ان واقعات کے پس منظر میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز کی صداقت اور ان کے ذریعے عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کے امکانات بھی زیر بحث آئے ہیں۔

دریں اثنا، فرانس میں میکرون کے مشرق وسطیٰ کے دورے پر بھی بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ اتوار کو قوم سے ان کے خطاب کو بھی ناقدین نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر نے اپنے خطاب میں مستقبل کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل پیش نہیں کیا۔ تاہم میکرون نے دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ حالات ان کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھبراہٹ یا بے چینی کی کوئی بات نہیں ہے اور وہ اپنے عہدے پر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔