
آئی اے این ایس
ہیلسنکی: ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے روس سے تیل خریدنے کے فیصلے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر قومی مفاد، توانائی کی ضروریات، قیمت اور دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔ انہوں نے یورپی ممالک کی جانب سے ہندوستان کے موقف پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یورپی ممالک کے فروخت کردہ ہتھیار ماضی میں ہندوستان کے خلاف استعمال ہوتے رہے ہیں۔
Published: undefined
فن لینڈ کی راجدھانی ہیلسنکی میں منعقدہ ’کلتارانتا مذاکرات‘ کے دوران ’ابھرتی طاقتیں اور نیا جغرافیائی سیاسی مقابلہ‘ کے موضوع پر ایک پینل مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے جے شنکر نے روس۔یوکرین تنازع کے حوالے سے ہندوستان کی پالیسی کا دفاع کیا۔ اس مباحثے میں فن لینڈ کی وزیر خارجہ ایلینا والٹونن اور متحدہ عرب امارات کی معاون وزیر خارجہ لانا نسیبہ بھی شریک تھیں۔
گفتگو کے دوران جے شنکر سے سوال کیا گیا کہ یورپ میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ روس۔یوکرین جنگ کے معاملے میں ہندوستان کا رویہ روس کے لیے نسبتاً نرم ہے اور نئی دہلی روس سے تیل خریدنے میں خاص دلچسپی دکھاتا ہے۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان تیل کی خریداری ہمیشہ قیمت اور دستیابی کی بنیاد پر کرتا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ جس وقت روس۔یوکرین جنگ کے بعد عالمی توانائی منڈی میں تبدیلیاں آ رہی تھیں، اس وقت یورپی ممالک بڑی مقدار میں مشرق وسطیٰ سے تیل خرید رہے تھے، جو پہلے ہندوستان کے اہم سپلائروں میں شامل تھا۔ ایسے حالات میں ہندوستان کو اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑے اور روسی تیل ایک قابل عمل آپشن کے طور پر سامنے آیا۔
جے شنکر نے اس موقع پر یورپی ممالک کے اسلحہ برآمد کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی یورپی ملک پر کبھی ہندوستانی ہتھیاروں سے حملہ نہیں ہوا، لیکن یورپی ممالک کے فروخت کردہ ہتھیار ہندوستان کے خلاف استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب اخلاقی مؤقف یا اصولوں کی بات کی جاتی ہے تو اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
Published: undefined
بعد ازاں مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے ایسے ہتھیار فروخت کیے گئے ہیں جنہیں ہندوستان کے خلاف استعمال کیا گیا، جبکہ ہندوستان نے کبھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے یورپ کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک جائز اور حقیقت پسندانہ نکتہ ہے جس پر غور کیا جانا چاہیے۔
ہندوستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ روس سے تیل کی خریداری کا فیصلہ ملک کی توانائی سلامتی، عوامی مفاد اور معاشی ضروریات کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی نئی دہلی یہ بھی دہراتا رہا ہے کہ روس۔یوکرین تنازع کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined