عالمی خبریں

اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات سے ایران کی پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا: اسماعیل بقائی

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج سے تہران کی پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، اسرائیل نے اس خطے کو تشدد اور نسل کشی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 
Sha Dati

تہران: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسرائیل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج سے ایران پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں اسرائیل کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اسرائیل نے اس خطے کو تشدد اور نسل کشی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ایران خطے کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی سرحدوں اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔

تہران میں پیر کو منعقدہ ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بقائی نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جنہیں ایران نسل کشی قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق، ایران کے خلاف اسرائیل کی دھمکیاں بھی اس کی معاندانہ پالیسیوں کا حصہ ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکام کے ان دعوؤں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ ایران اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے پہلے حملہ کر سکتا ہے، بقائی نے کہا کہ اسرائیل فرضی حملوں یا ’فالس فلیگ‘ کارروائیوں کو انجام دینے میں کافی مہارت رکھتا ہے۔ ایسی کارروائیوں میں کسی حملے کی ذمہ داری کسی دوسرے فریق پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بقائی نے کہا کہ ایران خود کو جنگ کی صورت حال میں سمجھتا ہے اور اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی فوج ملک کی سرحدوں اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ دوسری جانب، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز اور اس سے گزرنے والے سمندری راستوں کا انتظام اب پہلے جیسا نہیں رہے گا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد مغربی ایشیا میں بنیادی اور تزویراتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق، خطے میں نئی حقیقتیں سامنے آ چکی ہیں اور آبنائے ہرمز کے راستوں اور ان کے انتظام میں بھی تبدیلی آئے گی۔

عراقچی نے کہا کہ اس سلسلے میں بعض معاملات پر بات چیت ہو چکی ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کی سلامتی کی ذمہ داری وہاں کے ممالک کو خود اٹھانی چاہیے اور انہیں اس مقصد کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق، بیرونی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ اور اسرائیل کی حمایت کے لیے خطے میں موجود ہیں۔ ان کی مسلسل موجودگی پورے مغربی ایشیا میں عدم تحفظ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ عراقچی نے کہا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران ایک طرف اپنی سلامتی اور دفاع کو ترجیح دے رہا ہے، تو دوسری طرف خطے کے معاملات میں بیرونی طاقتوں کے کردار کو محدود کرنے پر زور دے رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔