عالمی خبریں

اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر کردیا حملہ! راجدھانی تہران میں متعدد دھماکے، دھوئیں سے سیاہ ہوا آسمان

اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں اور توقع تھی کہ مذاکرات اگلے ہفتے بھی جاری رہیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو ویڈیو گریپ</p></div>

فوٹو ویڈیو گریپ

 
ali

اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف ایک ’پریوینٹیو اٹیک‘ یعنی احتیاطی فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ہفتے کی صبح اس کارروائی کی تصدیق کی۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے ملک بھر میں ایک ’پیشگی الرٹ‘ جاری کرتے ہوئے سائرن بجائے تاکہ ممکنہ ایرانی میزائل حملوں سے پہلے لوگ محفوظ مقامات پر پہنچ سکیں۔ حکومت نے شہریوں کو محتاط رہنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

Published: undefined

اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں اور توقع تھی کہ مذاکرات اگلے ہفتے بھی جاری رہیں گے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ ’قبل از وقت حملہ‘ اسرائیل کے خلاف خطرات کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ پچھلے جون میں اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا، جس سے 12 روزہ جنگ شروع ہوئی۔ بعد میں امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

Published: undefined

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ایران کی راجدھانی تہران میں کئی زور دار دھماکوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ مقامی میڈیا اورعینی شاہدین کے مطابق شہر کے مرکز میں کم از کم 3 دھماکے سنے گئے، جس کے بعد دو اور دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی تہران کے علاقے سید خاندان میں بھی دھماکوں کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے ابھی تک سرکاری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔

Published: undefined

بتایا جا رہا ہے کہ ایران میں 30 مقامات پر حملے کیے گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا جارہا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی خفیہ ایجنسی کی عمارتوں، ہوائی اڈوں، صدارتی محل اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب مغربی ایشیا پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہے۔ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ فضائی تنازعہ ہوا تھا۔ اس عرصے کے دوران امریکہ نے بھی پہلی بار ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں براہ راست حصہ لیا۔

Published: undefined

ایران اور امریکہ کے درمیان فروری میں جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے تھے، جس کا مقصد دہائیوں پرانے تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنا اور فوجی تنازع کو ٹالنا تھا۔ اس سلسلے میں جمعہ کے روز بھی جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ایران اورامریکہ کے درمیان مذاکارکا تیسرا دور منعقد ہوا تھا۔ اس سلسلے میں ایران کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی مگر کچھ تکنیکی مسائل پر اختلافات برقرار ہیں تامہم مذاکرات کے ذریعہ جلد ہی انہیں دور کرلیاا جائے گا۔

Published: undefined

تاہم اسرائیل نے مسلسل اصرار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں تہران کے جوہری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا شامل ہونا چاہیے۔ صرف یورینیم کی افزودگی روک دینا کافی نہیں ہے۔ اسرائیل نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کی حدود کو قبول کرنے کو تیار ہے لیکن اپنے میزائل پروگرام کو کسی بھی معاہدے سے جوڑنے سے انکارکرتا رہا ہے۔ تہران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined