
فائل تصویر آئی اے این ایس
ایرانی بندرگاہوں پر آنے جانے والے بحری جہازوں کے خلاف امریکی ناکہ بندی پہلے دن ہی بے اثر ثابت ہوئی۔ امریکی ناکہ بندی کے باوجود منگل یعنی کل آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آمدورفت بڑی حد تک متاثر نہیں ہوئی۔ جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق اس راستے سے کم از کم آٹھ بحری جہاز گزرے جن میں ایران سے تعلق رکھنے والے تین ٹینکرز بھی شامل تھے۔
Published: undefined
پاکستان میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا۔ناکہ بندی نے شپنگ کمپنیوں، تیل کمپنیوں، اور جنگ کے خطرے والی انشورنس کمپنیوں کے لیے مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انڈسٹری ذرائع کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے سے قبل روزانہ 130 سے زائد بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے لیکن اب اس تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
Published: undefined
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ پہلے 24 گھنٹوں میں کوئی بھی بحری جہاز ناکہ بندی کو نظرانداز کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا اور چھ جہازوں کو ایرانی بندرگاہوں پر واپس جانے کا حکم دیا گیا جس کی انہوں نے تعمیل کی۔تاہم، ایران سے منسلک تین بحری جہاز جو آبنائے سے گزرے تھے، ایرانی بندرگاہوں کی طرف نہیں جا رہے تھے، اس لیے ناکہ بندی کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ادھر چین کی وزارت خارجہ نے امریکی ناکہ بندی پر تنقید کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدام "خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ" ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined