عالمی خبریں

ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن مسلط کی گئی تو پوری طاقت سے دفاع کریں گے: محمد رضا عارف

ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ تہران جنگ یا تصادم کا خواہاں نہیں، بلکہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے، تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران پوری قوت سے اپنا دفاع کرے گا

<div class="paragraphs"><p>ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف / آئی اے این ایس</p></div>

ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف / آئی اے این ایس

 

تہران: ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی ملک کے ساتھ جنگ یا تصادم کا خواہاں نہیں، بلکہ اختلافات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ تاہم اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو ملک اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے پوری طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق محمد رضا عارف نے یہ بات منگل کے روز تہران میں قومی مہارت ہفتہ اور قومی یومِ صنعت کاری و فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران اسرائیل اور امریکہ کی قیادت میں سرگرم قوتیں اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ان کے بقول اس کی بنیادی وجہ ایرانی عوام کی ہزاروں سال پرانی تہذیب، قومی اتحاد، عزم اور استقامت ہے، جس نے ہر مشکل وقت میں ملک کو مضبوط رکھا۔

محمد رضا عارف نے کہا، ’’ہم جنگ یا محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام مسائل اور اختلافات کا حل بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے، لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو ہم پوری قوت کے ساتھ اپنا دفاع کریں گے۔‘‘

انہوں نے اپنی تقریر میں 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی 8 سالہ جنگ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ کی قیادت میں بعض طاقتوں نے خطے کے چند عرب ممالک کے وسائل کی مدد سے نو قائم اسلامی جمہوریہ ایران پر جنگ مسلط کی تھی، لیکن اس جنگ کے نتائج پوری دنیا کے سامنے ہیں اور اس کے باوجود مخالف قوتوں نے اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔

نائب صدر نے کہا کہ ایران گزشتہ کئی برسوں سے مختلف بین الاقوامی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، تاہم ایرانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ ان مشکلات کا مقابلہ کرنے اور ان پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام مضبوط اعصاب کے مالک ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی پابندی، دباؤ یا زبردستی سے خوفزدہ ہونے والے نہیں۔ ان کے مطابق پابندیوں اور معاشی ناکہ بندی سے وقتی مشکلات ضرور پیدا ہوتی ہیں، لیکن طویل مدت میں ایسے اقدامات خود انہیں نافذ کرنے والوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

محمد رضا عارف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی خارجہ پالیسی جاری رکھے گا، تاہم قومی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔