
تصویر سوشل میڈیا
ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ (آئی آر جی سی نیوی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی بغیر پائلٹ آبدوز ڈرون کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ایران کے مطابق یہ کارروائی خفیہ معلومات اور الیکٹرانک جنگ کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے انجام دی گئی۔
آئی آر جی سی کے مطابق امریکی ڈرون ایک جدید بغیر پائلٹ زیرِ آب گاڑی (یو یو وی) ہے، جسے ریمُس 600 (REMUS 600) کہا جاتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کو سمندر سے نکال لیا گیا ہے اور اب ماہرین اس سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آئی آر جی سی نے مبینہ امریکی آبدوز ڈرون کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ ویڈیو میں ایک بغیر پائلٹ زیرِ آب گاڑی کو پانی سے باہر نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تاہم آزاد ذرائع سے فوری طور پر اس ویڈیو اور ایران کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایران نے کسی امریکی زیرِ آب ڈرون کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہو۔ اس سے قبل 17 ستمبر کو بھی آئی آر جی سی نے ایک امریکی آبدوز ڈرون کو قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس وقت امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واقعے کی تصدیق کی تھی، تاہم امریکی فوج نے ایران کے مؤقف سے مختلف وضاحت پیش کی تھی۔ سینٹ کام کے ترجمان کے مطابق امریکی ڈرون علاقے کے پانیوں میں معمول کی گشت کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث کام کرنا بند کر گیا تھا۔
امریکی حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ مذکورہ ڈرون ایک پرانا ماڈل تھا اور اس میں حساس معلومات جمع کرنے کی صلاحیت موجود نہیں تھی۔ امریکی مؤقف کے مطابق اس ڈرون میں خفیہ نوعیت کے ریڈار یا سینسر بھی نصب نہیں تھے۔
تاہم آئی آر جی سی نے اس وضاحت کو مسترد کر دیا تھا۔ ایرانی فورس کا کہنا تھا کہ امریکی ڈرون فعال تھا اور ایک باقاعدہ آپریشن پر مامور تھا۔
حالیہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی زیرِ آب ڈرون کو قابو کرنے کا دعویٰ اگر درست ثابت ہوتا ہے تو یہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری سمندری اور عسکری کشیدگی کی ایک اور اہم کڑی ہوگا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔