عالمی خبریں

ایف بی آئی چیف کاش پٹیل الزامات پر برہم، شراب پینے کی بات کو بتایا سفید جھوٹ، سینیٹ میں ایم پی کے ساتھ ہوئی نوک جھونک

کاش پٹیل نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا جن میں ان پر ڈیوٹی کے دوران بہت زیادہ شراب پینے اور عملے کے لیے دستیاب نہ رہنے کے دعوے کئے گئے تھے۔ پٹیل نے ان الزامات کو سفید جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کاش پٹیل، تصویر ’ایکس‘&nbsp;@FBIDirectorKash</p></div>

کاش پٹیل، تصویر ’ایکس‘ @FBIDirectorKash

 

امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل اور ڈیمو کریٹک قانون سازوں کے درمیان منگل کو بجٹ پر سماعت کے دوران زبردست ٹکراؤ دیکھنے کو ملا۔ اس دوران کاش پٹیل نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا جن میں ان پر ڈیوٹی کے دوران بہت زیادہ شراب پینے اور اپنے عملے کے لیے دستیاب نہ رہنے کے دعوے کئے گئے تھے۔ پٹیل نے ان الزامات کو سفید جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

Published: undefined

سینیٹ کمیٹی کی اس سماعت میں میری لینڈ کے ڈیموکریٹک رکن کرس وان ہولین نے کاش پٹیل کو دی اٹلانٹک میگزین میں شائع ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے گھیرا۔ اس مضمون میں پٹیل کی قیادت اور ان کے طرز عمل پر سنگین سوال اٹھائے گئے تھے۔ اس پر پلٹ وار کرتے ہوئے پٹیل نے کہا کہ میں ایسے بے بنیاد الزامات سے اپنی شبیہ خراب نہیں ہونے دوں گا۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ وہ اس کہانی کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ دوسری طرف میگزین اپنی اپنی رپورٹ پر قائم ہے اور اسے قانونی طور سے درست ٹھرانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

Published: undefined

سماعت کے دوران ماحول مزید کشیدہ ہوگیا۔ کاش پٹیل نے وان ہولین پر چلاتے ہوئے ذاتی حملہ کیا۔ پٹیل منے قانون ساز پر السلواڈور میں مارگریٹا پیش کرنے کا الزام لگایا۔ یہ بیان وان ہولین کے گزشتہ برس اس سفر کے سلسلے میں تھا جب وہ جیل میں بند کلمار ایبریگو گارسیا سے ملنے گئے تھے۔ گارسیا کو میری لینڈ میں گرفتاری کے بعد السلواڈور میں قید کیا گیا تھا۔ یہ پورا واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینئر لیڈروں کی موجودگی میں ہوا۔ بجٹ پر بحث کرنے کے لئے بلائی گئی اس سالانہ سماعت میں پٹیل کافی جارح نظر آئے۔ انہوں نے بار بار دہرایا کہ ان کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ قانون ساز ایجنسی کی قیادت کے استحکام پر سوال اٹھا رہے تھے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined