
ڈونالڈ ٹرمپ/بنجامن نیتن یاہو (فائل)
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ خواہ دنیا کے سامنے ایران کے خلاف جیت کا دعویٰ کرتے نہ تھک رہے ہوں لیکن وہ خود بھی یہ جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نہ تو ایران کے جوہری مقاصد کو پٹری سے اتار سکے اور نہ ہی اسے حکومت تبدیلی کرنے پر مجبور کر سکے۔ اپنے سپریم لیڈر سے لے کر سیکورٹی چیف تک کو کھونے کے باوجود ایران کے حوصلے بلند ہیں اور وہ مسلسل جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
Published: undefined
ایران اور امریکہ۔اسرائیل جنگ کے حوالے سے تجزیہ نگاروں کی مختلف رائے کے درمیان ’نیوز 18‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال صدر ٹرمپ کے لیے بڑی شکست ثابت ہو رہی ہے۔ اس دوران امریکی صدر اس بات پر غور کررہے ہیں کہ اپنی ’شکست‘ کا ذمہ دار کسے ٹھہرائیں اور جنگ سے باہر نکل جائیں۔ رپورٹ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے سب سے وفادار اور سخت مزاج رکھنے والے اپنے نائب جے ڈی وینس کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان فون پر بات ہوئی جس میں خوب الزام تراشی ہوئی ہے۔
Published: undefined
بتایا جارہا ہے کہ ایک انتہائی سخت فون کال میں وینس نے مبینہ طور پر نیتن یاہو کی سرزنش کی۔ وینس نے براہ راست الزام لگایا ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران میں ’حکومت کی تبدیلی‘ کے بارے میں جو گلابی خواب دکھائے تھے وہ پوری طرح جھوٹے اور کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگانا شروع کر دیا ہے کہ نیتن یاہو نے ہی ٹرمپ کو بہلا پھسلا کرجنگ میں گھسیٹا۔
Published: undefined
’ایکسس‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے پہلے ان کی ایک بھی پیشین گوئی زمین پر سچ نہیں ہوئی۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کا خاتمہ ایران میں بغاوت کا باعث بنے گا لیکن اس کے برعکس وہاں کے قوم پرست عناصر کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہوگئی۔
Published: undefined
اسی دوران وائٹ ہاؤس کے ایک ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ’بی بی‘ نے صدر ٹرمپ کو یہ کہہ کر اکسایا تھا کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی قریب ہے اور جنگ آسان ہو جائے گی لیکن جے ڈی وینس شروع سے ہی اس نظریے کے مخالف تھے۔ اب جب کہ جنگ زور پکڑ رہی ہے اور امریکی معیشت کے لیے بھاری نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس فون کال نے واشنگٹن اور یروشلم کے درمیان تعلقات کو اس حد تک خراب کر دیا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔
Published: undefined
اس تنازعہ کے دوران ایک اور دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب ایک اسرائیلی اخبار نے رپورٹ کیا کہ جے ڈی وینس نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے حوالے سے فون پر نیتن یاہو کو پھٹکار لگائی اور چلائے۔ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے اسے ’مکمل طور پر جعلی‘ بتایا ہے۔ امریکی افسران کو شبہ ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر یہ خبر جے ڈی وینس کو ’اسرائیل مخالف‘ کے طور پر پیش کرکے ان کی شبیہ خراب کرنے کے لیے پھیلائی تھی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined