عالمی خبریں

انڈونیشیا میں شدید آتش فشانی دھماکہ، راکھ 50 ہزار فٹ تک پہنچی، 209 پروازیں متاثر

انڈونیشیا کے اناک کراکاٹوا آتش فشاں میں مسلسل دھماکوں سے راکھ کا بادل 50 ہزار فٹ تک پہنچ گیا۔ جکارتہ کے سوئیکارنو ہٹا ایئرپورٹ پر 209 پروازیں متاثر اور ہزاروں مسافر پریشان ہوئے

<div class="paragraphs"><p>آتش فشاں / آئی اے این ایس</p></div>

آتش فشاں / آئی اے این ایس

 

انڈونیشیا میں اناک کراکاٹوا آتش فشاں نے ہفتے اور اتوار کو شدید دھماکوں کے ساتھ دوبارہ اپنی خطرناک سرگرمی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں راکھ کا ایک بڑا بادل فضا میں بلند ہو کر تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچ گیا۔ آتش فشانی راکھ کے اس گہرے بادل کے باعث راجدھانی جکارتہ کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے سوئیکارنو-ہٹا پر متعدد پروازیں متاثر ہوئیں اور ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انٹارا نیوز ایجنسی کے مطابق، فضائی سلامتی کے پیش نظر سوئیکارنو-ہٹا ایئرپورٹ سے پروازوں کی آمدورفت عارضی طور پر روکنا پڑی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچ گئی تھی، جس کے باعث طیاروں کی پرواز انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق آتش فشانی راکھ طیاروں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ راکھ طیارے کے انجن میں داخل ہو کر اسے نقصان پہنچانے کے علاوہ پائلٹوں کے لیے حدِ نگاہ بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے مسافروں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی پروازوں کو منسوخ یا مؤخر کرنا پڑا، جبکہ بعض بین الاقوامی پروازوں کے راستے تبدیل کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق اس صورتحال سے مجموعی طور پر تقریباً 209 پروازیں متاثر ہوئیں اور لگ بھگ 22,800 مسافروں کو اپنی سفری منصوبہ بندی میں تبدیلی کرنا پڑی۔ متعدد گھریلو پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ ایئرپورٹ پر موجود مسافروں کو اپنی پروازوں کے نئے اوقات کا انتظار کرنا پڑا۔

اناک کراکاٹوا میں ہفتے کو ہونے والے دھماکے کی آواز بھی خاصے فاصلے تک سنی گئی۔ جکارتہ ریجنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق دھماکے کی آواز آتش فشاں سے تقریباً 700 کلومیٹر دور تک محسوس کی گئی۔ اتوار کو بھی آتش فشاں میں مزید دو دھماکے ریکارڈ کیے گئے۔

تاہم حکام کے مطابق اب تک بڑے پیمانے پر جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے اور فوری طور پر سونامی کا خطرہ بھی ظاہر نہیں کیا گیا۔ اناک کراکاٹوا کا تعلق تاریخی کراکاٹوا آتش فشاں سے ہے، جو دنیا کے معروف اور خطرناک آتش فشاں میں شمار ہوتا ہے۔ 1883 میں کراکاٹوا کے تباہ کن دھماکے کے بعد آنے والی سونامی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی اور تقریباً 35 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر مقامی حکام نے لوگوں کو احتیاط برتنے اور آتش فشانی دھویں و راکھ سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں کو سانس کی تکلیف سے محفوظ رہنے کے لیے ماسک استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔