
Getty Images
طالبان کے پانچ سالہ اقتدار کے دوران ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں طالبان نے پورے ملک پر کنٹرول حاصل کر کے سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر بنایا ہے، وہیں ان کی سخت گیر سماجی پالیسیوں نے عوام کو بیزار کر دیا ہے۔ خاص طور پر خواتین کی تعلیم اور ملازمتوں پر پابندیوں نے افغانستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کر دیا ہے اور معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگرچہ طالبان نے انفراسٹرکچر کے منصوبوں اور ٹیکس کی وصولی میں بہتری دکھائی ہے، لیکن عوامی ضروریات سے دوری ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ مجموعی طور پر، عسکری طاقت کے بجائے عوامی شمولیت اور عالمی قبولیت ہی مستقبل کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
پانچ سال قبل، کابل کا منظرنامہ کسی بھیانک خواب سے کم نہ تھا۔ امریکی انخلاء کی افراتفری، کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے ہولناک بم دھماکے اور ان میں لقمہ اجل بننے والے تقریباً 200 افغان شہریوں کی تصویریں اب بھی ذہنوں میں تازہ ہیں۔ لیکن آج کا کابل اس ماضی سے یکسر مختلف دکھائی دیتا ہے۔ وہ شہر جو کبھی دھماکوں سے بچاؤ کے لیے کھڑی کی گئی کنکریٹ کی بلند و بالا دیواروں اور ٹریفک بلاک کرتے مسلح پروٹوکولز کے حصار میں رہتا تھا، اب ایک صاف ستھرا، پرسکون اور بظاہر نظم و ضبط کا حامل شہر بن چکا ہے۔ افغانستان میں امریکن یونیورسٹی میں عبوری انصاف کے لیکچرر، عبیداللہ بحیر نے ’الجزیرہ‘ میں شائع اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ طالبان کے دورِ اقتدار کے یہ پانچ سال جہاں سیکورٹی کے حوالے سے غیر معمولی کامیابیوں کی داستان سناتے ہیں، وہیں یہ سماجی اخراج اور سیاسی بیگانگی کے ایسے تضادات سے بھی بھرپور ہیں۔
طالبان کی موجودہ حکومت کی سب سے بڑی کامیابی پورے افغانستان پر ان کا بلا شرکت کنٹرول ہے۔ اگر ہم 1996 سے 2001 کے دور کا موازنہ کریں، تو اس وقت طالبان ملک کے تمام حصوں پر قابض ہونے میں ناکام رہے تھے۔ یہی وہ تزویراتی کمزوری تھی جس نے ان کے مخالفین کو وہ محفوظ ٹھکانے فراہم کیے جو بعد ازاں امریکی قیادت میں ہونے والے حملے کے لیے عسکری ٹھکانے بنے۔
اس بار طالبان نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے پورے ملک کو ایک مرکزیت کے تحت لا کر "نسبتی تحفظ" فراہم کیا ہے۔ داعش جیسے شدت پسند گروہوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں آج ایک عام افغان شہری ملک کے ان گوشوں تک بھی بلا خوف و خطر سفر کر سکتا ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے "ممنوعہ علاقے" بن چکے تھے۔ سیکورٹی کی یہ صورتحال کسی بھی مستحکم ریاست کے لیے پہلی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔
اگست 2021 میں جب غیر ملکی امداد کا بہاؤ اچانک تھم گیا، تو ماہرین ایک بڑے معاشی المیے کی پیش گوئی کر رہے تھے۔ تاہم، طالبان نے حیران کن طور پر معیشت کو ایک "نچلی سطح کے توازن" پر مستحکم کر لیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت اگرچہ بہت ترقی یافتہ نہیں، لیکن وہ مکمل تباہی سے بچ گئی ہے۔ اس استحکام کے پیچھے کئی اہم محرکات کارفرما ہیں:
• قدرتی وسائل کا انتظام: بہتر سیکورٹی کی بدولت کان کنی اور معدنیات کے اخراج میں اضافہ ہوا ہے۔
• سرمائے کی واپسی: وطن واپس آنے والے مہاجرین اپنے ساتھ کاروبار اور سرمایہ لائے ہیں۔
• ٹیکس اور محصولات: کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس کی وصولی کے نظام میں بہتری سے حکومتی خزانہ بھر رہا ہے۔
• ترسیلاتِ زر: بیرونِ ملک مقیم افغانوں کی جانب سے بھیجے جانے والے اربوں ڈالر اب بھی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
قوش تیپہ نہر اور ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا (تاپی) گیس پائپ لائن جیسے بڑے منصوبے انفراسٹرکچر کی بحالی کے حوالے سے امید پیدا کرتے ہیں۔ تاہم، اس معاشی تصویر کا ایک تاریک پہلو حکومتی مالیات میں "عدم شفافیت" اور ریاستی اداروں کی تنظیمِ نو سے گریز ہے، جو بدعنوانی اور احتساب جیسے سنگین ڈھانچہ جاتی مسائل کو جنم دے رہا ہے۔
طالبان کی سماجی پالیسیاں اور بالخصوص خواتین کا مکمل سماجی اخراج ان کی سب سے بڑی ناکامی قرار دی جا رہی ہے۔ چھٹی جماعت سے اوپر لڑکیوں کی جدید تعلیم پر پابندی نے افغانستان کو دنیا میں صنفی امتیاز کی بدترین مثال بنا دیا ہے۔ یہاں ایک واضح تضاد نظر آتا ہے: طالبان حکام یہ دلیل دیتے ہیں کہ تعلیمی ماحول "محفوظ" نہیں، جبکہ دوسری طرف ملک کو ان خواتین ڈاکٹروں اور اساتذہ کی اشد ضرورت ہے جن کی پیشہ ورانہ تربیت اسی نظامِ تعلیم سے وابستہ ہے۔ "افغانستان میں چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں اور خواتین کی جدید تعلیم پر پابندی معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ اور معیشت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔" طالبان نے جدید تعلیم کے متبادل کے طور پر مذہبی مدارس کے جال کو تو پھیلا دیا ہے، لیکن یہ مدارس کسی بھی طور عصری تعلیمی نظام کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے طالبان کے لیے بین الاقوامی شناخت کی راہ میں دیوار کھڑی کر رکھی ہے۔
سیاسی طور پر افغانستان ایک ایسی سمت میں بڑھ رہا ہے جہاں ریاست "اخلاقی پولیسنگ" کے ذریعے شہریوں کی نجی زندگیوں کو ریگولیٹ کر رہی ہے۔ اس سخت گیر رویے نے حکومت اور عوام کے بڑے طبقے کے درمیان ایک گہری "بیگانگی" پیدا کر دی ہے۔مزید برآں، اقتدار کا تمام تر محور سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ کی ذات بن چکی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ طالبان کے وہ اعتدال پسند چہرے جنہوں نے دوحہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا، اب فیصلہ سازی کے عمل سے باہر یا غیر مؤثر کر دیے گئے ہیں۔ ایک مخصوص چھوٹے گروہ کے نظریات کو پوری قوم پر مسلط کرنے کے اس عمل نے حکومتی مشینری کی رفتار کو سست اور سیاسی مستقبل کو مبہم بنا دیا ہے۔
فی الوقت طالبان حکام کو کسی بڑے فوجی خطرے کا سامنا نہیں ہے اور نہ ہی عالمی برادری کسی نئی "حکومت کی تبدیلی" میں دلچسپی رکھتی ہے۔ تاہم، تاریخ بتاتی ہے کہ حکومتوں کو اصل خطرہ بیرونی حملوں سے نہیں بلکہ "عوامی شکایات کے بتدریج جمع ہونے" سے ہوتا ہے۔ ریاستیں اس وقت سب سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں جب عوام اپنے حکمرانوں سے اتنے بیزار ہو جائیں کہ وہ ریاست کو نقصان پہنچانے والی قوتوں کے خلاف "لاتعلق" ہو جائیں۔ یورپی ممالک کے ساتھ عملی تعلقات کے باوجود، رسمی سفارتی سطح پر تنہائی اور اندرونی سماجی خلفشار ایک بڑے انسانی اور سیاسی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ طالبان کے اندر موجود حقیقت پسند حلقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ موجودہ سیاسی ڈھانچہ زیادہ دیر تک پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا، کیونکہ عبیداللہ بحیر کے الفاظ میں "کچھ نہ کچھ تو بدلنا ہوگا"۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔