عالمی خبریں

نیپال میں ہولناک سڑک حادثہ، ندی میں بس گرنے سے 18 افراد ہلاک، 27 زخمی

نیپال کے ضلع دھادنگ میں پوکھرا سے کٹھمنڈو جانے والی بس تریشولی ندی میں گرنے سے 18 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہو گئے۔ غیر ملکی شہری بھی متاثرین میں شامل ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>

سوشل میڈیا

 

نیپال کے ضلع دھادنگ میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک ہولناک سڑک حادثہ پیش آیا جس میں کم از کم 18 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 27 زخمی ہو گئے۔ پوکھرا سے راجدھانی کھٹمنڈو آنے والی ایک مسافر بس پرتھوی راج مارگ پر گجوری کے قریب تریشولی ندی میں جا گری۔ حادثہ رات تقریباً ڈیڑھ بجے اس وقت پیش آیا جب بس کھٹمنڈو سے قریب 90 کلو میٹر مغرب کی سمت سفر کر رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق بس اچانک بے قابو ہو کر سڑک سے نیچے جا گری اور سیدھی ندی میں جا سمائی۔

Published: undefined

ایس ایس بی (سشستر پولیس بل) کے ترجمان بشنو پرساد بھٹ نے بتایا کہ جائے حادثہ سے اب تک 18 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ مرنے والوں میں ایک مرد مسافر نیوزی لینڈ کا شہری بھی شامل ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز اور کٹھمنڈو کے مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ زخمیوں میں جاپان اور نیدرلینڈ کی ایک ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

اطلاعات کے مطابق بس میں 40 سے زائد مسافر سوار تھے۔ حادثے کی خبر ملتے ہی نیپال فوج، سشستر پولیس بل اور نیپال پولیس کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ اندھیری رات، پہاڑی علاقہ اور ندی کا تیز بہاؤ ریسکیو کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوا، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے مقامی لوگوں کے تعاون سے رات بھر امدادی مہم جاری رکھی۔ کرین اور دیگر مشینری کی مدد سے بس تک رسائی حاصل کرنے اور پھنسے ہوئے مسافروں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی۔

Published: undefined

ابتدائی جانچ میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بس تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہوئی اور ڈرائیور گاڑی پر کنٹرول برقرار نہ رکھ سکا۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین تفصیلی تکنیکی جانچ کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔ حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ بس کے بریک سسٹم، سڑک کی حالت اور ڈرائیور کی جسمانی کیفیت سمیت تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined