DW

بھارت کی کچھ رشتہ ایپس گوگل پلے اسٹور سے ہٹا دی گئیں

گوگل نے پلے اسٹور کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے میٹریمنی ڈاٹ کام اور 'جیون ساتھی' نامی ایپ چلانے والی بھارتی کمپنی 'انفو ایج' کو نوٹسز بھی بھیجے تھے۔

بھارت کی کچھ رشتہ ایپس گوگل پلے اسٹور سے ہٹا دی گئیں
بھارت کی کچھ رشتہ ایپس گوگل پلے اسٹور سے ہٹا دی گئیں 

گوگل کی جانب سے یہ اقدام سروس فیس سے متعلق ایک تنازعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ معروف تکنیکی کمپنی گوگل نے سروس فیس سے متعلق ایک تنازعے کے تناظر میں جمعہ کے روز اپنے پلے اسٹور سے شادی کے لیے رشتہ ڈھونڈنے والی ایپس سمیت 10 بھارتی کمپنیوں کی اپلیکشنز کو ہٹانے کا عمل شروع کر دیا۔

Published: undefined

'میٹریمنی ڈاٹ کام' نامی کمپنی کے بانی مروگول جناکرامن نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ان کی کمپنی کی ایپس 'بھارت میٹریمنی'، 'کرسچن میٹریمی'، 'مسلم میٹریمنی' اور 'جوڑی' کو پلے اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہماری ایپس ایک کے بعد ایک ڈیلیٹ ہو رہی ہیں۔"

Published: undefined

انہوں نے گوگل کے اس اقدام کے حوالے سے مزید کہا کہ آج "بھارتی انٹرنیٹ کے لیے ایک سیاہ دن ہے"۔ اس اقدام سے قبل گوگل نے ایک بلاگ پوسٹ میں کسی کمپنی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ 10 بھارتی کمپنیوں کی جانب سے اسے کی جانے والی ادائیگیاں ایک لمبے عرصے سے التوا کا شکار ہیں۔

Published: undefined

دوسری بھارتی کمپنیاں اب تک اس کوشش میں تھیں کہ کسی طرح گوگل کو انڈیا میں 'ان ایپ پیمنٹس' پر 11 سے 26 فیصد فیس سروس عائد کرنے سے روکا جائے۔ حالانکہ رواں سال جنوری اور فروری کے مہینوں میں سپریم کورٹ سمیت دو بھارتی عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں گلوگل کے پاس اب یہ فیس عائد کرنے اور بصورت دیگر ایپس کو پلے اسٹور سے ہٹانے کا اختیار ہے۔

Published: undefined

گوگل نے پلے اسٹور کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے میٹریمنی ڈاٹ کام اور 'جیون ساتھی' نامی ایپ چلانے والی بھارتی کمپنی 'انفو ایج' کو نوٹسز بھی بھیجے تھے، جس کے بعد ان دونوں کمپنیوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ وہ اب اپنے اگلے اقدام کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ اس بارے میں انفو ایج کے بانی سنجیو بکچندانی کا کہنا تھا انہوں نے گوگل کو تمام ادائیگیاں بروقت کر دی ہیں اور انہوں نے اس کی کسی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined