
سوشل میڈیا
پالی کیلے: سپر 8 مرحلے میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہونے والا مقابلہ محض ایک کرکٹ میچ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے بقا کی جنگ بن چکا ہے۔ قومی ٹیم اپنے آخری میچ میں اس حقیقت کے ساتھ میدان میں اترے گی کہ صرف جیت کافی نہیں ہوگی بلکہ اسے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کرنا ہوگی تاکہ سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں زندہ رہ سکیں۔
Published: undefined
سپر 8 مرحلے میں ایک میچ بارش کی نذر ہونے اور ایک شکست کے بعد پاکستان کی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے۔ نیٹ رن ریٹ اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے اور معمولی فرق بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ٹیم کو نہ صرف کامیابی بلکہ نمایاں برتری درکار ہے۔
دوسری جانب سری لنکا ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا ہے، لیکن ہوم گراؤنڈ پر کھیلتے ہوئے وہ پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ میزبان ٹیم کے پاس کھونے کو کچھ نہیں، اس لیے وہ دباؤ سے آزاد ہو کر میدان میں اترے گی۔
Published: undefined
پاکستان کی بیٹنگ میں صاحبزادہ فرحان مرکزی توجہ کا محور ہوں گے، جنہوں نے ٹورنامنٹ میں جارحانہ انداز اپناتے ہوئے تیز رفتار رنز اسکور کیے ہیں۔ اگر وہ پاور پلے میں مستحکم آغاز فراہم کرنے میں کامیاب رہے تو ٹیم بڑا مجموعہ ترتیب دے سکتی ہے۔ بابر اعظم، فخر زماں اور کپتان سلمان آغا سے بھی ذمہ دارانہ اور بڑی اننگز کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ شاداب خان اور محمد نواز اختتامی اوورز میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سری لنکا کی بیٹنگ میں پاتھم نسانکا اور کوسل مینڈس نمایاں رہے ہیں۔ اگر یہ دونوں کھلاڑی لمبی شراکت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پاکستان کے لیے ہدف کا دفاع یا تعاقب دونوں صورتوں میں دشواری بڑھ سکتی ہے۔
Published: undefined
پالی کیلے کی وکٹ عموماً متوازن سمجھی جاتی ہے جہاں 150 سے 170 تک کا اسکور مسابقتی ہوتا ہے، تاہم پاکستان کو اپنے مقاصد کے پیش نظر اس سے کہیں زیادہ اسکور درکار ہو سکتا ہے۔ رات کے وقت گیند کی رفتار میں کمی اسپنرز کو مدد دے سکتی ہے، اس لیے درمیانی اوورز فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔
ٹاس بھی اہم کردار ادا کرے گا اور بادلوں کی موجودگی میں کپتان پہلے فیلڈنگ کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے معاملہ واضح ہے، یا تو بڑی کامیابی حاصل کی جائے یا ٹورنامنٹ سے واپسی کا سامنا کیا جائے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined