
9/11 حملہ، ویڈیو گریب
رواں ہفتہ امریکہ پر ہونے والے 11 ستمبر (11/9) کے حملوں کی 25ویں برسی ہے۔ اس دن امریکہ کے لوگ غم منائیں گے اور ساتھ ہی کسی دیگر جنگ کی وجہ سے پٹرول کی بڑھی ہوئی قیمتوں کے بارے میں شکایت کرنے کے لیے بھی وقت نکالیں گے۔ امریکی میڈیا کو دیکھنے سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ بیرون ملک اپنی فوجی طاقت کے استعمال پر روک لگانے کی بنیادی وجہ وہاں کے ووٹ دینے والے لوگوں کی اخلاقیات نہیں ہیں۔ یقیناً، یہ ان لوگوں کی اخلاقیات بھی نہیں ہیں جو ملک چلاتے ہیں۔ جب ان کے جنگی طیاروں کو لے جانے والے جنگی جہاز دور دراز علاقوں میں بمباری کرنے اور لوگوں کو مارنے کے لیے جاتے ہیں، تو سب سے اہم بات (اور شاید واحد بات) یہی ہوتی ہے کہ اس کا امریکیوں پر برا اثر نہ پڑے۔
وینزویلا کے تیل پر قبضہ کرنا (جہاں حملے کے ساتھ ساتھ لوٹ مار بھی ہوتی ہے) ان کے لیے ایک مثالی صورتحال ہے، جبکہ ایران کے خلاف کارروائی سے پیدا ہونے والا مہنگائی کا مسئلہ مثالی نہیں ہے۔ اسی مہینے امریکہ نے اعلان کیا کہ ایک امریکی کمپنی کو وینزویلا میں 17 تیل کے میدانوں کے لیے 100 سال کا حق دیا جائے گا، جن میں مجموعی طور پر 65 ارب بیرل خام تیل موجود ہے۔ امریکی صدور میں خود کو سب سے ایماندار سمجھنے والے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اب وینزویلا کو ’چلائے گا‘۔ بی بی سی کی سرخی تھی: ’امریکہ کے اس انوکھے تیل معاہدے سے تجزیہ کار الجھن میں... اور وینزویلا کے بہت سے لوگ ناراض‘۔ بلاشبہ، بہت کم امریکی اس سے ناراض ہوئے۔
عراق سامراجیت کی ایک درست مثال ہے۔ صدام حسین (صدام کا انوکھا نام اس لفظ سے جڑا ہے جس کا استعمال ہندوستانی صدمے کے لیے کرتے ہیں) کو 20 سال پہلے پھانسی دی گئی تھی۔ ان کے ملک پر اس وقت حملہ کیا گیا جب امریکیوں کو ایک جھوٹ پر یقین دلایا گیا کہ انہیں ڈرانے دھمکانے کے لیے عراق میں ایک جوہری پروگرام تیار کیا جا رہا تھا۔ انہیں ایرانیوں کے قتل کے لیے بالکل اسی جھوٹ کو دوبارہ استعمال کیے جانے سے کوئی دقت نہیں ہے، ان کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ ایران ان کی زندگی میں مداخلت نہ کرے۔
جیسا کہ ایک سرخی میں کہا گیا ہے... ’معیشت کی جان ہے ڈیزل: امریکہ میں اس کی قیمتیں اب تک کی سب سے بلند سطح 5.848 ڈالر فی گیلن پر پہنچ گئیں۔‘ ظاہر ہے ’خون‘ (یا جان) لفظ کے استعمال میں کوئی ستم ظریفی نہیں تھی... اور یقیناً اس میں کوئی شرمندگی بھی نہیں تھی۔
عراق ایک درمیانی راستہ کیوں ہے؟ جب اس پر حملہ کیا گیا تھا تو وہ بہت پرتشدد تھا، لیکن آج بھی امریکہ بغیر کسی فوجی طاقت کے اس ملک پر پوری طرح اپنا غلبہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ عراق کی تیل سے ہونے والی آمدنی کو امریکہ کنٹرول کرتا ہے، جسے نیویارک فیڈرل ریزرو میں عراقی بینک اکاؤنٹ میں جمع کرنا ہوتا ہے۔ 2003 سے ایسا ہی ہو رہا ہے، یعنی 23 برسوں سے۔ خام تیل عراق کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ ہے، جس سے ملک کے بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ آتا ہے۔
11 جنوری 2020 کو وال اسٹریٹ جرنل نے اس سرخی کے ساتھ ایک خبر شائع کی: ’اگر فوجیوں کو جانے کے لیے کہا گیا تو امریکہ نے عراق کو خبردار کیا کہ وہ ایک اہم بینک اکاؤنٹ تک رسائی سے محروم ہو سکتا ہے۔‘ اسے سمجھنے کے لیے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ عراقی پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے امریکہ سے اپنی فوج عراق سے ہٹانے کے لیے بھی نہیں کہا۔
کیا اس کا امریکیوں یا ان کی سیاست پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ بالکل نہیں۔ بالکل اسی طرح، جیسے امریکی عراق اور افغانستان میں مارے گئے 5 لاکھ لوگوں کی موت کے بارے میں شاید ہی کبھی سوچتے ہیں۔ براؤن یونیورسٹی کی ایک اسٹڈی کا اندازہ ہے کہ امریکہ کے 11/9 کے بعد کے جنگی علاقوں میں مجموعی طور پر 9 لاکھ لوگ براہ راست جنگی تشدد میں اور 45 لاکھ لوگ بالواسطہ طور پر مارے گئے۔ افغانستان، پاکستان، عراق، شام، لیبیا، یمن، صومالیہ اور فلپائن میں ہونے والی جنگوں کے سبب تقریباً 4 کروڑ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
اگر سیاسی بحث میں اس دور کا ذکر ہوتا ہے تو عام طور پر اس میں برباد ہوئے پیسوں کی بات کی جاتی ہے۔ جیسا کہ یونیورسٹی کی اسٹڈی میں کہا گیا ہے کہ ’’عراق، افغانستان، پاکستان، شام اور دوسری جگہوں پر 11/9 کے بعد ہونے والی لڑائیوں کا مجموعی خرچ تقریباً 8 ٹریلین ڈالر ہے۔ اس میں جنگ کے مقصد سے لیے گئے قرض پر مستقبل میں لگنے والا سود شامل نہیں ہے۔‘‘
جو امریکی سیاست داں جنگ کا مسئلہ اٹھاتے ہیں (جیسے نیویارک کے نوجوان میئر) ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ کافی حد تک سامراجی نہیں ہیں۔ جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس مہینے کے آخر میں نیویارک میں ہونے والی 11/9 کی تقریب میں شامل نہ ہوں۔ ان کے مخالفین جو وجوہات بتا رہے ہیں، وہ واضح نہیں ہیں، لیکن یہی مانا جا رہا ہے کہ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔ اس دباؤ کے ساتھ ساتھ (جیسا کہ اکثر ہوتا ہے) ان پر یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ دراصل وہی شدت پسند ہیں۔ امریکی میزائلوں نے ایران میں اسکولی طالبات کی جان لی (یہ ایسی بات ہے جسے خود امریکہ کے میڈیا نے بھی تسلیم کیا ہے) لیکن اپنی فوج کو اس کی حرکتوں کے لیے ٹوکنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔
ظاہر ہے، خراجِ عقیدت کی تقریب میں ان باتوں کا کوئی ذکر نہیں ہوگا۔ یہ تقریب محدود دائرے والی ہوگی اور اس میں صرف ایک ہی متاثرہ فریق ہوگا ’امریکہ‘۔ وہ دوسروں کے ساتھ کیا کر رہا ہے، یہ ایک الگ بات ہے اور 11/9 اور اس کے متاثرین کی یاد میں اس کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔ ہندوستانی ایران کو مشرق وسطیٰ کا ملک مانتے ہیں، لیکن 1947 تک ایران کے ساتھ ہماری سرحد جڑی ہوئی تھی۔ وہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ ہمارے پڑوس میں ہی ہو رہا ہے۔
ایک سال پہلے، 9 ستمبر 2025 کو ٹرمپ نے ’ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس‘ (وزارت دفاع) کا نام بدل کر ’ڈپارٹمنٹ آف وار‘ (وزارت جنگ) کر دیا۔ ایک بار پھر انہوں نے ایمانداری دکھائی۔ امریکہ کی فوج کا مقصد اپنا دفاع کرنا نہیں ہے، اس کا بنیادی مقصد دوسروں پر جنگ تھوپنا ہے۔ نیویارک میں دنیا کو بدل دینے والی اس صبح کی 25ویں برسی پر، باقی لوگوں کے لیے بھی سوچنے کا وقت ہے۔ نہ صرف ان لوگوں کے بارے میں جن کی جان گئی، بلکہ اس بارے میں بھی کہ یہ واقعہ کیوں ہوا، اس کی وجوہات کیا تھیں اور اس کے بعد کیا ہوا۔ اندرونی دباؤ نہ ہونے پر امریکہ خود کو نہیں سدھارتا۔ یہ ہم سب کے لیے ایک بڑا سبق ہے اور اس سے یہ سمجھ ملتی ہے کہ جب دنیا میں طاقت کا عدم توازن ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔