فکر و خیالات

امریکہ یہ جنگ کیوں نہیں جیت سکے گا؟...اشوک سوین

ایران کے خلاف جنگ واضح مقصد اور عملی حکمت عملی کے بغیر شروع ہوئی۔ طویل جنگ، داخلی سیاسی دباؤ اور عالمی طاقتوں کی مسابقت اس تنازعہ کو واشنگٹن کے لیے ایک مشکل اور غیر یقینی معرکہ بنا سکتی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

امریکہ، اسرائیل کے ساتھ مل کر، ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی جنگ میں اتر گیا ہے جس کا نہ کوئی واضح مقصد ہے، نہ کوئی مربوط حکمتِ عملی، اور نہ ہی اس بات کی عملی سمجھ کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ ایران پر حملے کا فیصلہ سکیورٹی کی فوری ضرورت سے زیادہ داخلی سیاسی حساب کتاب اور خطے میں طاقت کے توازن کو بدلنے کی خواہش سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ ڈرامائی فضائی حملوں اور فتح کے دعووں کے ساتھ شروع ہونے والا یہ تنازع تیزی سے ایک طویل محاذ آرائی میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے، جس میں کامیابی کی کوئی واضح امید نظر نہیں آتی۔ اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی نظامِ قانون اور نظم کو بھی مزید کمزور کریں گے۔

اس تنازعہ کو سمجھنے کے لیے اسرائیل کے کردار کا سنجیدہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ کئی دہائیوں سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ ایران ایک وجودی خطرہ ہے جسے غیر مؤثر بنانا لازمی ہے۔ اسی وجہ سے تہران پر مسلسل فوجی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ان کے پاس مضبوط محرکات موجود ہیں۔ تاہم اگر جنگ طویل ہو جاتی ہے تو اس کا اصل اسٹریٹجک بوجھ زیادہ تر امریکہ کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ جیسے جیسے واشنگٹن اس جنگ میں گہرائی تک الجھتا جائے گا، اسرائیل بتدریج اپنی براہ راست ذمہ داری کم کر سکتا ہے، جبکہ سفارتی، فوجی اور معاشی اخراجات کا بڑا حصہ امریکی ریاست کے حصے میں آئے گا۔

Published: undefined

اس جنگ کی سب سے نمایاں خصوصیت دراصل ایک واضح اور مستقل دلیل کا فقدان ہے۔ واشنگٹن کے اعلان کردہ اہداف مسلسل تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ابتدا میں مقصد ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کرنا بتایا گیا۔ بعد میں اس دائرے کو بیلسٹک میزائل پروگرام تک وسیع کر دیا گیا۔ پھر اسے ایران کے علاقائی اتحادی نیٹ ورک کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔ بعض مواقع پر بیانات سے یہ تاثر بھی ملا کہ اصل مقصد تہران میں نظام کی تبدیلی ہے۔ ان متضاد بیانات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بغیر کسی واضح سیاسی مقصد کے شروع کی گئی۔

امریکی حکام کی وضاحتوں نے بھی اس ابہام کو مزید نمایاں کیا ہے۔ ایک موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن نے کارروائی اس لیے کی کیونکہ اسرائیل حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا اور امریکہ ایرانی جوابی کارروائی سے اپنے فوجیوں کو بچانے کے لیے پہلے حملہ کرنا چاہتا تھا۔ اس بیان کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ دراصل اس جنگ میں اس لیے شامل ہوا کیونکہ اسرائیل پہلے ہی ایسا کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ بعد میں اس بیان کو نرم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر اس واقعے نے جنگ کے جواز کی کمزوری کو نمایاں کر دیا۔

Published: undefined

جنگیں صرف اہداف کو تباہ کرنے سے نہیں جیتی جاتیں۔ جنگ تب جیتی جاتی ہے جب فوجی کارروائی کے نتیجے میں ایسا سیاسی نتیجہ سامنے آئے جو قومی مفادات کو آگے بڑھائے۔ ایران کے معاملے میں امریکہ یہ واضح کرنے میں ناکام رہا ہے کہ مطلوبہ سیاسی نتیجہ کیا ہوگا۔ کیا مقصد ایران کو اتنا کمزور کرنا ہے کہ وہ مذاکرات پر مجبور ہو جائے؟ کیا ہدف اس کی فوجی صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے؟ یا پھر مقصد نظام کی مکمل تبدیلی ہے؟

امریکی حکمتِ عملی بظاہر اس مفروضے پر قائم ہے کہ اگر ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کر دیا جائے تو نظام عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا اور امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ ملک کے سپریم لیڈر سمیت اہم شخصیات کے خاتمے سے داخلی انتشار اور ممکنہ ہتھیار ڈالنے کی امید رکھی گئی۔ تاہم یہ مفروضہ ایک مانوس اسٹریٹجک غلطی کی مثال ہے۔

Published: undefined

ایران کوئی کمزور ریاست نہیں جسے چند ڈرامائی حملوں سے گرا دیا جائے۔ یہ ایک مضبوط ادارہ جاتی سیاسی نظام ہے جس میں اقتدار کے کئی مراکز اور طاقتور سکیورٹی ڈھانچہ موجود ہے۔ اہم شخصیات کے نقصان کے باوجود نظام نے فوری طور پر نیا سپریم لیڈر مقرر کر لیا اور فوجی، انٹیلی جنس اور نظریاتی اداروں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے اپنا کام جاری رکھا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور کے پاس افرادی قوت، وسائل اور اثر و رسوخ کی بڑی طاقت موجود ہے۔ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اندرونی اور بیرونی دباؤ برداشت کرنے والا نظام راتوں رات ختم نہیں ہو سکتا۔

یہ خیال کہ ایران جلد ہتھیار ڈال دے گا، اس کے تاریخی تجربے کو بھی نظر انداز کرتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں ایران نے عراق کے ساتھ ایک تباہ کن جنگ لڑی جو آٹھ سال تک جاری رہی اور جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ شدید جانی نقصان، معاشی مشکلات اور عالمی تنہائی کے باوجود تہران نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ اس جنگ نے ایرانی سیاسی ثقافت میں مزاحمت اور برداشت کے ایک مضبوط جذبے کو جنم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ چند ہفتوں کی بمباری کے بعد ایران کے جھک جانے کی توقع حقیقت سے زیادہ خواہش پر مبنی ہے۔

Published: undefined

امریکہ کو ایک بنیادی تضاد کا بھی سامنا ہے۔ نو کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک میں سیاسی تبدیلی میزائل حملوں کے ذریعے مسلط نہیں کی جا سکتی۔ دوسری طرف زمینی فوج بھیجنا ایک ایسے وسیع اور غیر یقینی جنگ میں داخل ہونے کے مترادف ہوگا جس کے نتائج ناقابلِ پیش گوئی ہوں گے۔ ایران کے مسلح افواج اور اس سے وابستہ ملیشیاؤں کو ملا کر تقریباً دس لاکھ جنگجو موجود ہیں۔ اتنے بڑے اور دشوار گزار جغرافیے والے ملک پر قبضہ کرنے کے لیے عراق یا افغانستان کی جنگوں سے کہیں زیادہ وسائل اور طویل عزم درکار ہوگا۔

تہران میں امریکہ کے لیے زیادہ موافق قیادت قائم کرنے کا خیال بھی تیزی سے غیر حقیقت پسندانہ دکھائی دے رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ کئی ایسے افراد جو ممکنہ جانشین سمجھے جاتے تھے، امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ واشنگٹن ایک پرانی مشکل میں پھنس چکا ہے: وہ بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر سکتا ہے اور رہنماؤں کو ہٹا سکتا ہے، مگر اس کے بعد کیا ہوگا اس پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ اعتدال پسند قیادت پیدا ہونے کے بجائے ایسی حکمتِ عملی اکثر نظام کے سخت گیر عناصر کو مزید مضبوط کر دیتی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی جانشینی نے سیاسی نظام کے سب سے سخت گیر عناصر کے درمیان اقتدار کو مضبوط کر دیا ہے۔

Published: undefined

امریکہ کی داخلی سیاست بھی صورتحال کو پیچیدہ بناتی ہے۔ بڑھتی ہلاکتیں، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی غیر یقینی صورتحال پہلے ہی امریکی معاشرے میں دباؤ پیدا کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طویل جنگ کے لیے عوامی حمایت محدود ہے۔ جیسے جیسے اخراجات بڑھیں گے، وائٹ ہاؤس کے لیے جلد بازی میں فتح کا اعلان کر کے نکل جانے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ مگر ادھوری تباہی کے بعد جلد واپسی ایران کی صلاحیتوں یا عزائم کو ختم نہیں کرے گی بلکہ خطے کو مزید غیر مستحکم کر دے گی۔

ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ تہران جانتا ہے کہ امریکی فوجی طاقت بے حد ہے مگر اس کی سیاسی برداشت محدود ہے۔ جنگ کو طویل بنا کر، علاقائی جوابی کارروائیوں، توانائی منڈیوں پر دباؤ اور غیر روایتی حملوں کے ذریعے اخراجات بڑھا کر ایران انہی حدود سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جتنا زیادہ یہ تنازع طویل ہوگا، واشنگٹن کے لیے اس سے نکلنا اتنا ہی مشکل ہو جائے گا۔

Published: undefined

اس تنازعہ کے وسیع جغرافیائی سیاسی اثرات بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔ امریکہ بارہا کہہ چکا ہے کہ اس کی بنیادی اسٹریٹجک توجہ ہند۔بحرالکاہل خطے اور چین کے چیلنج پر مرکوز ہے۔ لیکن ایران کے ساتھ طویل جنگ امریکی وسائل، توجہ اور فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ مشرقِ وسطیٰ کی طرف موڑ دے گی۔ ہتھیاروں کے ذخائر کم ہوں گے، بحری بیڑوں پر دباؤ بڑھے گا اور سفارتی توانائی ایک ایسے خطے میں بحران سے نمٹنے پر خرچ ہوگی جسے واشنگٹن کم ترجیح دینا چاہتا تھا۔

چین کے لیے یہ صورتحال ایک اسٹریٹجک موقع بن سکتی ہے۔ بیجنگ کو فائدہ اٹھانے کے لیے براہ راست جنگ میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جیسے ہی امریکہ ایک اور طویل تنازع میں الجھتا ہے، چین عالمی سطح پر اپنا معاشی اثر و رسوخ بڑھا سکتا ہے، فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کر سکتا ہے اور نئی شراکت داریوں کو فروغ دے سکتا ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بالآخر صبر اور برداشت کی جنگ ہوتی ہے، اور جو طاقت بار بار جنگوں میں خود کو تھکا دیتی ہے وہ دیگر میدانوں میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔

اسی میں موجودہ جنگ کی سب سے بڑی ستم ظریفی پوشیدہ ہے۔ امریکی طاقت کے مظاہرے اور عالمی قیادت کو مضبوط بنانے کے مقصد سے شروع ہونے والی یہ جنگ، الٹا امریکی اثر و رسوخ اور اس کی اسٹریٹجک حدود کو بے نقاب کر سکتی ہے۔

(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اوپسلا یونیورسٹی میں امن و تنازعہ کی تحقیق کے پروفیسر ہیں)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined