فکر و خیالات

اوپر والا کون ہے؟...ایف اے مجیب

’اوپر والا‘ ایک عام محاورہ ہے مگر اس میں توحید کا گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔ اللہ کی وحدانیت کو پہچاننا، اس کے علم و اختیار پر یقین رکھنا اور زندگی کو اس کے سامنے جواب دہ سمجھنا ہی شعوری ایمان کی ابتدا ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

ہماری روزمرہ گفتگو میں بعض جملے ایسے ہیں جو زبان سے بے اختیار نکلتے ہیں، لیکن ان کے اندر زندگی کے بڑے سوالات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ کوئی مشکل پیش آ جائے تو ہم کہتے ہیں، ’’یہ تو اوپر والے کا کام ہے۔‘‘ بیماری یا پریشانی کا کوئی حل نظر نہ آئے تو کہتے ہیں، ’’اب اوپر والا ہی ٹھیک کر سکتا ہے۔‘‘ کسی معاملے کا نتیجہ ہمارے اختیار سے باہر ہو تو زبان سے نکلتا ہے، ’’اوپر والا جو چاہے گا، وہی ہوگا۔‘‘ کوئی ناانصافی کرے تو کہتے ہیں، ’’اوپر والا سب دیکھ رہا ہے۔‘‘ کامیابی ملے تو ’’اوپر والے کا کرم‘‘ اور مایوسی چھائے تو ’’اوپر والے کی مرضی‘‘ یاد آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ اوپر والا کون ہے، جس کا ذکر ہماری گفتگو میں اتنی کثرت سے ہوتا ہے؟ یہ سوال محض الفاظ کے معنی جاننے کا نہیں، بلکہ انسانی شعور کی ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنے کا سوال ہے۔ انسان اپنی زندگی میں بہت سے سہاروں پر انحصار کرتا ہے۔ بیماری میں ڈاکٹر، ضرورت میں دولت، مشکل میں دوست اور مسائل کے حل کے لیے علم و ٹیکنالوجی سے مدد لیتا ہے۔ لیکن ان تمام وسائل کے باوجود ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جہاں اس کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر علاج کرتا ہے، مگر زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتا؛ سائنس دان کائنات کے راز دریافت کرتا ہے، مگر کائنات کا خالق نہیں بن جاتا؛ انسان منصوبے بناتا ہے، مگر ہر نتیجہ اس کی خواہش کے مطابق نہیں نکلتا۔ اسی لیے انسان بار بار کسی ایسی ہستی کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس کا اختیار اس کے اپنے اور دنیا کے تمام ظاہری اختیارات سے بلند ہو۔

غور کیجیے کہ جب ہم کہتے ہیں ’’اوپر والا سب دیکھ رہا ہے‘‘ تو ہم محض کسی دیکھنے والی آنکھ کا تصور پیش نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ایسی ہستی کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں جس سے کوئی حقیقت پوشیدہ نہیں۔ انسان کی نظر فاصلے، روشنی اور جسمانی حدود کی پابند ہے۔ کیمرہ کسی منظر کو محفوظ کر سکتا ہے، مگر نیت نہیں جان سکتا۔ کوئی شخص لوگوں کی نظروں سے بچ کر غلط کام کر سکتا ہے، مگر اس کے باوجود اس کے ضمیر میں یہ احساس باقی رہتا ہے کہ حقیقت ہمیشہ چھپی نہیں رہ سکتی۔ یہی احساس انسان کو ایک ایسے علم کا تصور دیتا ہے جو ظاہری پردوں اور انسانی حدود سے ماورا ہے۔ اسلامی تصور میں اللہ وہ ذات ہے جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں؛ وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور باطن کو بھی۔ البتہ ’’اوپر والا‘‘ ایک عام محاورہ ہے، اسے لفظی معنی میں لینا درست نہیں۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خدا کسی جسم کی طرح آسمان میں کسی مقام پر بیٹھا ہوا ہے اور وہاں سے دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ جگہ، سمت اور فاصلے کے ہمارے تصورات مخلوق کے تجربات سے وابستہ ہیں۔ اللہ خالق ہے اور عرش سمیت پوری کائنات اس کی مخلوق ہے۔ اللہ کے عرش پر استواء کا ذکر اسلامی عقیدے میں موجود ہے، لیکن اس کی کیفیت کو انسانی جسم، بیٹھنے یا کسی جگہ میں محدود ہونے کے پیمانوں سے متعین نہیں کیا جا سکتا۔ خدا کو سمجھنے کی کوشش میں یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ ہم اس کے وجود اور صفات کو مانتے ہیں، لیکن اسے اپنی محدود عقل کے بنائے ہوئے جسمانی سانچوں میں نہیں ڈھالتے۔

یہیں سے توحید کا تصور واضح ہونے لگتا ہے۔ توحید صرف یہ ماننے کا نام نہیں کہ خدا ایک ہے، بلکہ اس حقیقت کو تسلیم کرنا بھی ہے کہ کائنات کا خالق ایک، حقیقی مالک ایک اور آخری اختیار کا سرچشمہ ایک ہے۔ انسان جن مختلف ناموں سے خدا کو پکارتا ہے، ان ناموں کے پیچھے اصل سوال اس ہستی کی حقیقت کا ہے جس نے انسان اور کائنات کو وجود دیا۔ اسلام اس واحد خالق و مالک کو اللہ کہتا ہے۔ اس تصور کے مطابق کوئی دوسری ہستی اس کی ہم سر نہیں، کوئی مخلوق اس کے اختیار سے آزاد نہیں اور کوئی انسانی طاقت اس کے مقام کی شریک نہیں۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے تو پھر انسان کی کوشش کی کیا اہمیت ہے؟ اس کا جواب بھی اسی تصور میں موجود ہے۔ خدا پر بھروسا کرنے کا مطلب اسباب کو چھوڑ دینا نہیں۔ بیمار کا علاج کرانا، محنت کرنا، علم حاصل کرنا، ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور اپنے فرائض ادا کرنا انسان کی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر، دوا، علم اور محنت زندگی کے وسائل ہیں؛ ان سے فائدہ اٹھانا عقل مندی ہے، مگر انہیں مطلق اور خودمختار طاقت سمجھ لینا درست نہیں۔ توحید انسان کو بے عملی نہیں سکھاتی، بلکہ کوشش کے ساتھ عاجزی، منصوبہ بندی کے ساتھ بھروسا اور کامیابی کے ساتھ شکر کا شعور پیدا کرتی ہے۔

اس عقیدے کا سب سے گہرا اثر انسانی کردار پر پڑتا ہے۔ اگر انسان واقعی یہ مان لے کہ ’’اوپر والا سب دیکھ رہا ہے‘‘ تو اخلاق صرف لوگوں کے سامنے اچھا دکھائی دینے کا نام نہیں رہتا۔ وہ تنہائی میں بھی دیانت دار رہنے کی کوشش کرتا ہے، دوسروں کا حق مارتے ہوئے ڈرتا ہے اور طاقت ملنے پر خود کو بے لگام نہیں سمجھتا۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا کی نگاہوں سے بچ جانا حقیقت سے بچ جانا نہیں۔ اسی طرح جب وہ کہتا ہے کہ ’’اوپر والا انصاف کرے گا‘‘ تو اس کے لیے یہ امید ناانصافی کے سامنے خاموش رہنے کا بہانہ نہیں، بلکہ حق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا حوصلہ بن سکتی ہے۔

انسانی زبان کے یہ بے ساختہ جملے ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لوٹاتے ہیں: جسے ہم اپنی کمزوری میں پکارتے ہیں، جس کے علم کو سب سے وسیع سمجھتے ہیں، جس کے اختیار کو آخری اختیار کہتے ہیں اور جس سے انصاف کی امید رکھتے ہیں، کیا ہم نے اسے شعوری طور پر پہچانا بھی ہے؟ توحید اسی فطری احساس کو واضح فکر، ذمہ داری اور مقصدِ زندگی سے جوڑتی ہے۔ یہ انسان کو بتاتی ہے کہ وہ خود کائنات کا مالک نہیں، اس کی زندگی بے مقصد نہیں اور اس کے اعمال محض انسانی نگاہوں کے سامنے جواب دہ نہیں۔ ’’اوپر والا کون ہے؟‘‘ بظاہر ایک عام سا سوال ہے، مگر اس کے اندر توحید کی ایک پوری دعوت پوشیدہ ہے۔ جس ہستی کا نام انسان بے اختیار لیتا ہے، اسے شعوری طور پر پہچاننا، اس کی وحدانیت کو تسلیم کرنا اور اپنی زندگی کو اس کے سامنے جواب دہ سمجھنا ہی توحید کے بنیادی پیغام کو سمجھنے کی ابتدا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔