
علامتی تصویر / اے آئی
اتر پردیش میں پہلی اسمبلی کا انتخاب کب ہوا تھا؟ یہ سوال پوچھنے پر عام طور پر ایک ہی جواب ملتا ہے کہ 1952 میں، جب ملک میں پہلی بار لوک سبھا کے انتخابات ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حقیقت تقریباً فراموش کر دی گئی ہے کہ اتر پردیش کو پہلی منتخب حکومت انگریزوں کے بنائے ہوئے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت جنوری اور فروری 1937 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے ذریعے ملی تھی۔
البتہ اس وقت اس ریاست کا نام متحدہ صوبہ (یونائیٹڈ پروونسز) تھا۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ اگرچہ انتخابات 1937 میں ہوئے تھے، لیکن گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت منعقد ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ انہیں 1935 کے ایکٹ کے انتخابات بھی کہتے ہیں۔ اسی قانون کے تحت صوبے کی قانون ساز کونسل بھی تشکیل دی گئی تھی۔
ہندوستان کی جنگ آزادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان برطانوی پارلیمنٹ نے آئینی اصلاحات کے ذریعے کچھ مثبت اشارے دینے کی غرض سے اگست 1935 میں یہ قانون منظور کیا تھا۔ یہ برطانوی پارلیمنٹ کے منظور کردہ طویل ترین قوانین میں سے ایک تھا۔ دراصل اس وقت ہندوستانیوں کے درمیان مکمل خود حکمرانی اور ڈومینین اسٹیٹس یعنی نوآبادیاتی دور میں خود مختار حکومت کے مطالبات تیزی سے زور پکڑ رہے تھے۔ برطانوی سلطنت کے لیے ان مطالبات کو دبانا مشکل ہوتا جا رہا تھا، اس لیے وہ خود کو ہندوستانیوں کے مطالبات کے تئیں ہمدرد اور سنجیدہ ظاہر کرنا چاہتی تھی۔
اس سے سات سال پہلے، 1928 میں شدید مخالفت کے باوجود ہندوستان آنے والے سائمن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں صوبوں میں رائج دوہری حکمرانی ختم کرکے وفاقی نظام قائم کرنے کی سفارش کی تھی۔ اسی بنیاد پر 1930 سے 1932 کے درمیان لندن میں منعقد ہونے والی گول میز کانفرنسوں میں اصلاحات کا نیا خاکہ تیار کیا گیا۔ اس کے بعد 1933 میں جاری کیے گئے ایک وائٹ پیپر کی بنیاد پر برطانوی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے اس قانون کا تفصیلی اور حتمی مسودہ تیار کیا۔
متحدہ صوبے کی اسمبلی میں مجموعی طور پر 228 نشستیں مقرر کی گئی تھیں اور انہی کے لیے انتخابات ہوئے۔ تاہم، ان انتخابات کی ایک بڑی خامی یہ تھی کہ تمام بالغ شہریوں کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ حق رائے دہی کو جائیداد، ٹیکس کی ادائیگی اور تعلیمی قابلیت جیسی شرائط سے مشروط کر دیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں مجموعی آبادی کے صرف 10 سے 12 فیصد، زیادہ سے زیادہ 14 فیصد افراد ہی ووٹ ڈال سکتے تھے۔ ملک کے تمام بالغ شہریوں کو حق رائے دہی کا اختیار آئین نافذ ہونے کے بعد 1952 کے عام انتخابات سے حاصل ہوا۔
بہرحال، 1937 کے انتخابات میں انڈین نیشنل کانگریس کو کامیابی ملی۔ کانگریس نے اسمبلی کی 228 میں سے 134 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی اور گووند بلبھ پنت کی قیادت میں حکومت تشکیل دی۔ اس زمانے میں صوبائی حکومت کے سربراہ کو وزیر اعلیٰ کے بجائے پریمیئر یا وزیر اعظم کہا جاتا تھا۔
اس حکومت میں آزادی کی جدوجہد میں سرگرم کئی تجربہ کار رہنماؤں کو وزارتیں دی گئیں۔ ان میں معروف قانون داں اور وکیل کیلاش ناتھ کاٹجو بھی شامل تھے، جنہیں قانون و انصاف کا وزیر بنایا گیا۔ انہوں نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج کے سپاہیوں کے خلاف برطانوی حکومت کی جانب سے چلائے گئے تاریخی مقدمات میں ان کے دفاع کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ خود بھی تحریک آزادی میں سرگرم رہے اور بھارت چھوڑو تحریک کے دوران جیل گئے۔ آزادی کے بعد انہوں نے ملک کے وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیر قانون کے طور پر خدمات انجام دیں اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ بھی رہے۔ رفیع احمد قدوائی کو وزیر خزانہ بنایا گیا۔
حکومت سنبھالتے ہی اس حکومت نے سرکاری کام کاج کے روایتی عوام مخالف طریقوں کو بدل کر اسے عوامی فلاح و بہبود سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس کے نتیجے میں برطانوی گورنر اس سے ناخوش ہونے لگا۔ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے لیے وفاقی، صوبائی اور مشترکہ فہرستیں تو بنائی گئی تھیں، لیکن صوبائی حکومت کے اختیارات صوبائی فہرست تک محدود تھے۔ مزید یہ کہ گورنر کو حکومت کے فیصلوں پر ویٹو کا اختیار حاصل تھا، جو کئی مرتبہ اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن جاتا تھا۔
گورنر اکثر حکومت کی انتظامی سوچ اور دور اندیشی کے راستے میں حائل ہو جاتا تھا۔ اس کے علاوہ صوبے کے مالی وسائل بھی محدود تھے۔ اس کے باوجود حکومت نے کئی اہم انتظامی اصلاحات کیں، جو عوامی مفاد کے لحاظ سے تاریخی اہمیت رکھتی تھیں۔ مثال کے طور پر، 1939 میں حکومت نے یونائیٹڈ پروونسز ٹیننسی ایکٹ نافذ کیا، جس کے ذریعے جاگیرداروں کی جانب سے کسانوں سے من مانی لگان وصول کرنے اور انہیں زمین سے بے دخل کرنے پر روک لگانے کی کوشش کی گئی۔
اس کے ساتھ ہی دیہی قرضوں سے نجات کے اقدامات بھی کیے گئے، تاکہ چھوٹے کسانوں کو ساہوکاروں اور مہاجنوں کے استحصال سے بچایا جا سکے۔ زمین کے لگان میں کمی اور قرضوں سے راحت ملنے کے باعث بدحال کسانوں نے سکون کا سانس لیا۔ آزادی کے بعد 1952 میں جب جاگیرداری نظام کے خاتمے کی سمت فیصلہ کن اقدامات کیے گئے تو اس کی بنیاد بھی اسی حکومت کی جانب سے تیار کیے گئے قانونی خاکے میں موجود تھی۔ وزیر خزانہ رفیع احمد قدوائی نے اس خاکے کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق، اس قانونی بنیاد کے بغیر جاگیرداری نظام کا خاتمہ ممکن نہیں تھا۔
اس حکومت نے تحریک آزادی کی مختلف سرگرمیوں کے دوران گرفتار کیے گئے متعدد سیاسی قیدیوں کو بھی رہا کرایا۔ آزادی کی جدوجہد میں مصروف تنظیموں اور اخبارات پر عائد سنسرشپ اور کئی دیگر پابندیاں ختم کر دی گئیں۔ ان دنوں بدنام زمانہ کولی بیگار قانون کے تحت ہندوستانیوں کو برطانوی افسران کا بھاری سامان بغیر کسی معاوضے کے اٹھانا پڑتا تھا۔ حکومت نے نہ صرف اس جابرانہ قانون کی سخت مخالفت کی، بلکہ عملی طور پر اسے ختم کرانے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اس نے کانپور جیسے بڑے صنعتی مراکز میں مزدوروں کے حالات بہتر بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے لیبر ویلفیئر بورڈ بھی قائم کیے۔ تجرباتی طور پر بعض منتخب اضلاع میں مکمل شراب بندی بھی نافذ کی گئی۔
گووند بلبھ پنت ذاتی طور پر انتہائی دیانت دار تھے اور سرکاری خزانے کے غیر ضروری اخراجات کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے وزیروں اور سرکاری افسران کی تنخواہوں اور الاؤنسز کو محدود کیا اور اس طرح بچنے والی رقم کو عوام کی تعلیم اور صحت سے متعلق مسائل حل کرنے پر خرچ کرنے کی روایت قائم کی۔
فطری طور پر ان کی حکومت خاصی مقبول تھی، لیکن وہ اپنی مدت پوری نہیں کر سکی۔ اکتوبر اور نومبر 1939 میں دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی وائسرائے نے ہندوستانی وزیروں کی رضامندی کے بغیر ملک کو جنگ میں جھونک دیا۔ اس فیصلے کے خلاف کانگریس نے اپنی صوبائی حکومتوں سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا۔ اسی فیصلے کے تحت متحدہ صوبے کی حکومت نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کی دفعہ 93 کے تحت صوبے کا انتظام مکمل طور پر برطانوی گورنر کے ہاتھوں میں چلا گیا۔
1942 میں مہاتما گاندھی کی جانب سے بھارت چھوڑو تحریک شروع کیے جانے کے بعد گووند بلبھ پنت سمیت کانگریس کے بیشتر بڑے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پورا اتر پردیش سیاسی تحریکوں اور برطانوی جبر کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ دوسری عالمی جنگ ختم ہونے کے بعد 1946 کے آغاز میں دوبارہ اسمبلی انتخابات ہوئے۔ پنت حکومت کے عوامی فلاحی اقدامات نے ان انتخابات میں کانگریس کو فائدہ پہنچایا۔ پارٹی نے ایک بار پھر اسمبلی میں بھاری اکثریت حاصل کی اور یکم اپریل 1946 کو گووند بلبھ پنت دوبارہ وزیر اعظم بنے۔
آزادی کے بعد 24 جنوری 1950 کو متحدہ صوبے کا نام تبدیل کرکے اتر پردیش رکھ دیا گیا۔ اس طرح گووند بلبھ پنت ریاست کے پہلے وزیر اعلیٰ بھی بن گئے۔ اس حیثیت میں ان کا ایک اہم تاریخی کارنامہ صدیوں پرانے جاگیرداری نظام کا خاتمہ تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 15 لاکھ بٹائی دار اور کاشت کار اپنی زیر کاشت زمینوں کے مالک بن گئے۔
پنت کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک مرتبہ سرکاری اجلاس کے بعد ناشتے کے بل کو سرکاری خزانے سے ادا کرنے سے انہوں نے انکار کر دیا اور رقم اپنی جیب سے ادا کی، کیونکہ قواعد کے مطابق صرف چائے پینے کی اجازت تھی۔ انہوں نے افسران سے کہا کہ عوام کے پیسے کا غیر ضروری استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ دسمبر 1954 میں وزارت اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنے کے بعد جنوری 1955 میں گووند بلبھ پنت ملک کے وزیر داخلہ بن گئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔