
چیروویال رمن، تصویر سبی پلپلی
تصویر بشکریہ کے اے شاجی
جب 1969 میں چیروویال رمن کو ماہانہ 150 روپے تنخواہ پر سرکاری ملازمت کی پیشکش کی گئی تو ان کے لیے اسے ٹھکرانا آسان نہیں تھا۔ یہ ملازمت انہیں زراعت کی غیر یقینی صورت حال سے نکلنے کا موقع فراہم کر رہی تھی۔ اس سے ایک سال پہلے انہوں نے کنّور کے روزگار دفتر میں اپنا نام درج کرایا تھا۔ لیکن رمن کے سامنے 40 ایکڑ زمین کا مسئلہ تھا۔ ان کے چچا کی ملکیت میں دھان کے 22 ایکڑ کھیت اور مزید 18 ایکڑ غیر آباد زمین تھی۔ جب رمن نے انہیں اپنی تقرری کے بارے میں بتایا تو بوڑھے شخص نے خاموشی اختیار کر لی۔ پھر انہوں نے کچھ ایسے سوالات کیے جس نے رمن کی باقی زندگی کا رخ متعین کر دیا۔ سوال تھا کہ ’’اگر تم چلے گئے تو اس سب کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ کیا یہ سب سوکھ نہیں جائے گا؟ اگر تمہیں یہ نہیں چاہیے تو سب کچھ چھوڑ کر چلے جاؤ!‘‘ ان سوالوں کے جواب میں رمن نے سب کچھ چھوڑنے کی جگہ ملازمت چھوڑ دی۔ بعد میں انھوں نے یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’یہ زمین وہ ملازمت نہیں تھی جو حکومت نے مجھے دی تھی۔‘‘ اس کے بعد وہ کبھی بھی ان دھان کے کھیتوں سے حقیقی معنوں میں دور نہیں ہوئے۔
وائناڈ کے محبوب نیلاچن (دھان کے بزرگ) چیروویال رمن کا 14 اکتوبر کو کوزیکوڈ میڈیکل کالج اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ ان کے ساتھ زرعی یادداشت کے ایک غیر معمولی محافظ کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ بیجوں کو محفوظ رکھنے کے لیے رمن کا سفر ان دھان کی 6 روایتی اقسام سے شروع ہوا جو ان کے چچا چھوڑ گئے تھے۔ انہیں یہ سوچ کر تکلیف ہوتی تھی کہ جس خاندان نے 40 ایکڑ زمین پر کاشت کاری کی تھی، اس نے اپنی اصل بیجوں کی وراثت میں سے اتنی کم اقسام کو محفوظ رکھا تھا۔
کیرالہ میں کبھی دھان کی اقسام کا غیر معمولی تنوع موجود تھا۔ صرف وائناڈ میں دھان کی سو سے زیادہ روایتی اقسام پائی جاتی تھیں، جو مختلف مٹی، پانی کی صورت حال اور موسموں کے مطابق ڈھلی ہوئی تھیں۔ جیسے جیسے کیمیائی مادوں پر مبنی کاشت کاری اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کا رواج بڑھا، ان میں سے بہت سے مقامی بیج کاشت سے غائب ہو گئے۔ رمن نے وائناڈ کے مختلف علاقوں کا سفر کیا، بچ جانے والی اقسام کی تلاش کی اور کسانوں کو اپنے پاس محفوظ بیج انہیں دینے کے لیے آمادہ کیا۔ انہوں نے کوزیکوڈ اور کنّور سے بھی بیج جمع کیے۔ برسوں کے دوران ان کا ذخیرہ بڑھ کر دھان کی تقریباً 55 روایتی اقسام تک پہنچ گیا، جنہیں وہ اپنی زمین پر احتیاط سے کاشت کرتے تھے۔ لیکن وہ محض بیجوں کے محافظ نہیں تھے۔ وہ ایک طرز زندگی، ایک زرعی تہذیب کو ترقی اور جدیدیت کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھ رہے تھے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ رمن اپنے بیجوں کو کسی تاریخی یادگار کی طرح محفوظ نہیں کر رہے تھے، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ انہیں دوبارہ زمین میں بویا جائے۔ وہ انہیں کاشت کرنے کے خواہش مند لوگوں میں مفت تقسیم کرتے تھے۔ ان سے کہتے تھے کہ ان اقسام کو محفوظ رکھیں اور اپنی فصل سے حاصل ہونے والے بیج واپس کریں، تاکہ ان کا ذخیرہ بڑھتا رہے۔ ان کے نزدیک بیج ایک زندہ وراثت تھے، جنہیں اگلی نسل کے سپرد کیا جانا چاہیے۔
رمن سبز انقلاب کے امکانات کو سمجھتے تھے۔ کیمیائی مادوں پر مبنی کاشت کاری کی مخالفت ان کی لاعلمی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ انہیں اس بات کی گہری فکر تھی کہ جب زرعی کامیابی کو صرف پیداوار سے ناپا جاتا ہے تو کیا کچھ ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے استعمال سے انکار کیا اور اس کے بجائے گائے کے گوبر، نامیاتی فضلے اور قدرتی کھاد پر انحصار کیا۔ انہیں زرعی مناظر سے مینڈکوں، کیڑوں، مچھلیوں اور دیگر جانداروں کے غائب ہونے کی فکر تھی۔ ماننتھوواڑی ندی کی ان کی یادیں، جس میں کبھی مچھلیاں اور دیوہیکل میٹھے پانی کے جھینگے وافر مقدار میں پائے جاتے تھے، وائناڈ کے ماحولیاتی زوال پر ان کے دکھ سے الگ نہیں تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ مٹی میں بھی زندگی ہوتی ہے اور کاشت کاری فطرت کے ساتھ ایک رشتہ ہے، نہ کہ زیادہ سے زیادہ فصل حاصل کرنے کی کوئی مشق۔ وہ کہتے تھے کہ ’’اگر ہائبرڈ بیجوں سے آپ کو ایک ٹن چاول ملتا ہے تو مجھے شاید صرف آدھا ٹن ملے۔ میرے لیے اتنا کافی ہے۔ فطرت اس ایک ٹن کے مقابلے میں آدھے ٹن کو ترجیح دیتی ہے، جو سب کو زندہ رہنے کا موقع دے، جبکہ ایک ٹن صرف مجھے زندہ رہنے کے قابل بناتا ہے۔‘‘
کم پیداوار دینے والی روایتی اقسام کا انتخاب کرنے پر اکثر انہیں بیوقوف سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا تھا، کیونکہ جدید اقسام کے مقابلے میں ان کی پیداوار کم تھی۔ رمن مسکرا کر یہ تنقید قبول کر لیتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ’’ہر کوئی کہتا ہے کہ میں بیوقوف ہوں۔ لیکن فطرت کو میری بیوقوفی پسند ہے۔‘‘ وہ دھان کی فصل سے دانے الگ کرنے کے لیے ٹریکٹر پر انحصار کرنے کے بجائے کٹی ہوئی فصل کے گٹھوں کو لاٹھی سے پیٹنے کا روایتی طریقہ اپناتے رہے۔ ان کے طریقے بیجوں اور انہیں زندہ رکھنے والے ماحولیاتی رشتوں کے احترام پر مبنی تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے دلیل دی تھی کہ ’’بیجوں کو یونیورسٹیوں میں پیدا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ اس کے لیے انہوں نے ان لاکھوں بیجوں کی مثال دی جو ہوا کے ذریعے بکھرتے ہیں، پانی کے ساتھ بہتے ہیں اور پرندوں اور جانوروں کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ انسانوں کے تجربہ گاہوں میں بیجوں کی درجہ بندی اور ان میں تبدیلیاں کرنے سے بہت پہلے فطرت زندگی کو برقرار رکھے ہوئے تھی۔ رمن سائنس کو مسترد نہیں کر رہے تھے۔ وہ ہمیں یاد دلا رہے تھے کہ سائنسی علم میں اس قدر انکساری ضرور ہونی چاہیے کہ وہ جاندار دنیا کی پیچیدگیوں پر حیرت محسوس کر سکے۔
ستمبر 2025 میں جب وائناڈ کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے ان کے گھر کا دورہ کیا تو رمن ان سے گھل مل گئے۔ پرینکا نے ان کے ساتھ وقت گزارا، ان کے بیجوں کے ذخیرے اور کاشت کاری کے طریقوں کے بارے میں جانا۔ ان دونوں کے درمیان تعلق نے جڑ پکڑ لی۔ رمن انہیں اپنی بیٹی کہتے تھے اور پرینکا انہیں اچن (والد) کہہ کر مخاطب کرتی تھیں۔ ان کے انتقال کے بعد خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پرینکا نے یاد کیا کہ تقریباً ایک ماہ پہلے رمن نے ان سے بات کی تھی اور دوبارہ ان سے ملنے آنے کے لیے کہا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’آج جب مجھے ان کے انتقال کی خبر ملی تو میرا دل بیٹھ گیا۔‘‘ انہوں نے واپس آنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن دہلی میں پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے انہیں وائناڈ کا اپنا دورہ مختصر کرنا پڑا۔ انہوں نے رمن کو ایک دانش مند، باوقار اور جرأت مند شخص کے طور پر یاد کیا، جو اپنے لوگوں کی زندگی بہتر بنانا چاہتے تھے اور امتیازی سلوک اور ناانصافی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ پرینکا نے یاد کرتے ہوئے لکھا کہ ’’انہوں نے اپنی آنکھوں میں اداسی لیے مجھے اپنے ایوارڈ اور اعزاز دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ان کے لوگ بہتر زندگی نہیں گزار سکتے، ان اعزازات کی ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘‘
راہل گاندھی، جو وائناڈ میں قیام کے دوران رمن سے مل چکے تھے، نے انہیں ’ہمارے محبوب رامٹّن‘ کہہ کر یاد کیا۔ تعزیتی پیغام میں انہوں نے لکھا کہ ’’انہوں نے اپنی زندگی وائناڈ کے مقامی دھان کے بیجوں کو محفوظ رکھنے اور آدیواسی علم کی نسل در نسل روایت کو زندہ رکھنے کے لیے وقف کر دی۔‘‘ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے رمن کو ’دھان کی نایاب روایتی اقسام کا محافظ اور جین بینک‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رمن نے آنے والی نسلوں کے لیے کیرالہ کی زرعی وراثت کو محفوظ رکھا۔
وائناڈ کبھی لہلہاتے دھان کے کھیتوں، روایتی زرعی برادریوں اور غیر معمولی حیاتیاتی تنوع کا خطہ تھا۔ یہاں کے کھیتوں اور مقامی اقسام کا بتدریج غائب ہونا ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی نہ کوئی خراج عقیدت کر سکتا ہے اور نہ کوئی ایوارڈ۔ رمن کو اپنی زندگی میں بے شمار اعزازات ملے، جن میں 2023 میں پدم شری اور حال ہی میں پہلا اومن چانڈی میموریل زرعی ایوارڈ بھی شامل ہے، جو ان کی زندگی بھر کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔ لیکن چیروویال رمن کو سب سے بڑا خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ان کا کام ان کے بعد بھی جاری رہے۔ ان کی محفوظ کردہ بیجوں کی اقسام زندہ رہیں اور ان کی تعداد بڑھتی رہے، اور جس طرز زندگی کو انہوں نے اپنایا تھا، وہ جدید کاشت کاری کی یلغار کے باوجود برقرار رہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔