فکر و خیالات

آر ایس ایس کو ’شرمندگی‘ سے بچانے کے لیے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کھیلا ’کھیل‘!

تصویر بذریعہ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹوئٹر ہینڈل
تصویر بذریعہ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹوئٹر ہینڈل 

بہت سے لوگوں کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ ٹرسٹیوں کی ملی بھگت یا رضامندی کے بغیر عطیات اور فنڈز میں خرد برد ممکن تھی۔

ایودھیا کے ’شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ‘ کے فنڈز میں مبینہ خرد برد کے معاملہ میں 8 نچلے درجہ کے ملازمین اور ایک ریٹائرڈ بینکر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا تاخیر سے کیا گیا فیصلہ ان شبہات کی تصدیق کرتا ہے، جن کا اظہار بہت سے لوگوں نے کیا تھا۔ تمام ٹرسٹی آر ایس ایس سے وابستہ ہیں، لیکن فنڈز کے انتظام، حساب کتاب اور نگرانی میں ناکامی کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہ کر کے، یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی اتر پردیش حکومت نے 2 ممکنہ راستوں میں سے آسان راستہ اختیار کیا ہے اور آر ایس ایس کو شرمندگی سے بچا لیا ہے۔

اب لکھنؤ میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا یہ قدم یوگی کی اپنی سیاسی پوزیشن کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہوگا؟ مرکز اور یوگی حکومت کے درمیان غیر آرام دہ تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ یوگی، جو آر ایس ایس سے تعلق نہیں رکھتے، نہ تو ٹرسٹ کے ارکان کی تقرری میں ان کا کوئی کردار تھا اور نہ ہی مندر کے نذرانے و عطیات یا تعمیراتی سرگرمیوں کے انتظام میں۔ اگر آر ایس ایس کے سینئر عہدیداروں کو غفلت یا مبینہ ملی بھگت کے الزام میں گرفتار کیا جاتا تو وزیر اعلیٰ تنظیم کی ناراضگی مول لے سکتے تھے۔ اب دوسری طرف کروڑوں ہندوؤں کی نظر میں ان کی ساکھ متاثر ہونے کا خطرہ ہے، کیونکہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ ٹرسٹیوں کی ملی بھگت یا رضامندی کے بغیر عطیات اور فنڈز میں خرد برد ممکن تھی۔

Published: undefined