
سر سید احمد خاں
سر سید احمد خاں برصغیر کی اُن عظیم علمی و اصلاحی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم، فکری بیداری اور خود اعتمادی کی راہ دکھائی۔ ان کا تعلیمی نظریہ عقل و ایمان، جدید علوم اور دینی اقدار کے درمیان ہم آہنگی پر مبنی تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندوستانی مسلمان جدید سائنسی علوم اور انگریزی زبان میں مہارت حاصل کریں، لیکن اس عمل میں اپنی اسلامی شناخت، اخلاقی اقدار اور تہذیبی ورثے سے غافل نہ ہوں۔ سرسید کے نزدیک تعلیم کا مقصد محض معلومات میں اضافہ نہیں، بلکہ انسان کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت بھی ہے۔ ان کا تصورِ تعلیم ایک ایسے باشعور، باکردار اور خوددار نوجوان کی تشکیل تھا جو جدید علوم سے آراستہ ہونے کے ساتھ اپنے دین اور تہذیب سے بھی وابستہ رہے۔ گویا ان کی خواہش تھی کہ مسلمان کے ایک ہاتھ میں جدید سائنس و فلسفے کا علم ہو اور دوسرے ہاتھ میں قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرنے کا جذبہ۔
سرسید اس بات کے قائل تھے کہ خدا کی کتاب، قرآن مجید، اور خدا کی بنائی ہوئی کائنات کے مطالعے میں بنیادی طور پر کوئی تضاد نہیں۔ ان کے نزدیک سائنسی علوم کا حصول ایمان کو کمزور کرنے کے بجائے کائنات کے حقائق کو سمجھنے اور قدرتِ الٰہی پر غور کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہی فکر ان کی تعلیمی تحریک کی بنیاد بنی۔ اس نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انھوں نے محض تقریروں اور تحریروں پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اداروں کے قیام اور اجتماعی کوششوں کا راستہ اختیار کیا۔ 1875ء میں علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم قائم کیا، جو 1877ء میں محمدن اینگلو اورینٹل کالج بنا اور بالآخر 1920ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صورت اختیار کر گیا۔ یہ ادارہ سرسید کے خواب، عزم اور غیر معمولی دوراندیشی کی روشن یادگار ہے۔
سرسید کے تعلیمی تصور کا ایک اہم پہلو جدید علوم کے ساتھ دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کا اہتمام تھا۔ علی گڑھ کے تعلیمی نظام میں انگریزی، سائنس اور دیگر جدید مضامین کے ساتھ دینیات کو بھی جگہ دی گئی۔ سرسید نے سنی اور شیعہ طلبہ کی مذہبی تعلیم کے لیے الگ الگ انتظامات کیے، تاکہ دونوں مسالک کے طلبہ اپنے اپنے عقائد کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں۔ وقت کے ساتھ یہ انتظام سنی اور شیعہ دینیات کے مستقل شعبوں میں تبدیل ہوا اور آج یہ دونوں شعبے مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف تھیالوجی کا حصہ ہیں۔ یہ انتظام سرسید کی اس کوشش کی نمایندگی کرتا ہے کہ مسلکی اختلافات کے باوجود تعلیم، تعاون اور اجتماعی ترقی کے راستے کھلے رہیں۔ اس روایت کی اہمیت محض دینی تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک ہی تعلیمی ادارے میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ مشترکہ تعلیمی و تہذیبی ماحول میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اختلافِ رائے کے باوجود باہمی احترام، برداشت اور اتحاد کا یہی جذبہ کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
سرسید طلبہ کی کردار سازی اور عملی تربیت کو بھی بنیادی اہمیت دیتے تھے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی قوم جدید علوم تو حاصل کر لے، لیکن اس کے افراد اخلاق، نظم و ضبط، احساسِ ذمہ داری اور تہذیبی شعور سے محروم رہیں، تو اس کی ترقی نامکمل ہے۔ اسی لیے اقامتی تعلیم اور ہاسٹل کی زندگی کو بھی اہمیت حاصل رہی، جہاں طلبہ کو اجتماعی زندگی، نظم و ضبط اور باہمی تعاون کے مواقع میسر آتے ہیں۔ سرسید کا یہ نظریہ آج بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ جدید دنیا میں ترقی کے لیے سائنسی علوم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارتیں ناگزیر ہیں، لیکن ان کے ساتھ اخلاقی شعور، مذہبی و تہذیبی شناخت اور انسانی اقدار کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ سرسید کا پیغام یہی ہے کہ جدیدیت اور اپنی تہذیبی جڑوں سے وابستگی کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنے کے بجائے ان میں تعمیری ہم آہنگی پیدا کی جائے۔
سرسید احمد خاں 17 اکتوبر 1817ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ دنیائے تعلیم و اصلاح کی ایک ممتاز شخصیت، صاحبِ بصیرت مفکر اور علی گڑھ تحریک کے بانی تھے۔ ان کے والد سید محمد متقی، المعروف میر متقی دہلوی، والدہ عزیز النساء اور اہلیہ پارسا بیگم، المعروف مبارک بیگم، تھیں۔ سرسید احمد خان کا تعلق دہلی کے ایک نجیب الطرفین سید خاندان سے تھا۔ اُن کا سلسلۂ نسب حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فاطمہ زہرا کی پاک و پاکیزہ نسل حضرت امام محمد تقی علیہ السلام (ستائسویں پشت میں) سے ملتا ہے۔ اور یہ ہی شجرہ نسب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جامع مسجد میں ان کے مرقد پر نصب ہے۔
سرسید نے اپنی سرکاری ملازمت کے دوران بجنور، آگرہ، مرادآباد، غازی پور اور بنارس سمیت مختلف مقامات پر خدمات انجام دیں۔ ان تجربات نے انھیں ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی صورتِ حال کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع دیا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ جدید تعلیم سے دوری، فکری جمود اور بدلتے زمانے کے تقاضوں سے ناواقفیت مسلمانوں کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اگر قوم کو اس صورتِ حال سے نکالنا ہے تو اسے تعلیم، علم و تحقیق اور جدید علوم کی طرف راغب کرنا ہوگا۔ سرسید کی نگاہ میں تعلیم محض روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ قوم کی اجتماعی زندگی میں وقار، خود اعتمادی اور ترقی پیدا کرنے کا وسیلہ بھی تھی۔ اسی مقصد کے تحت انھوں نے 1864ء میں غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کے قیام اور اس کے ذریعے علمی کتابوں کے تراجم و اشاعت کو فروغ دیا۔ اس کوشش کا مقصد مغربی علوم و فنون سے متعلق اہم کتابوں کو ایسی زبان میں منتقل کرنا تھا جس سے ہندوستانی اہلِ علم استفادہ کر سکیں۔ دسمبر 1870ء میں انھوں نے رسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا، جس کے ذریعے مسلمانوں میں سماجی اصلاح، اخلاقی بیداری، جدید فکر اور ذوقِ مطالعہ کو فروغ دینے کی کوشش کی۔
ان علمی اور اصلاحی کوششوں کا نقطۂ عروج علی گڑھ میں جدید تعلیمی ادارے کا قیام تھا۔ 1885ء میں مدرسۃ العلوم کی بنیاد رکھی گئی، جو دو برس بعد محمدن اینگلو اورینٹل کالج کی شکل اختیار کر گیا۔ اس ادارے نے آگے چل کر 1920ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صورت میں ایک مستقل اور وسیع تر علمی شناخت حاصل کی۔ اس طرح سرسید کا خواب ایک فرد یا ایک نسل تک محدود نہ رہا، بلکہ ایک ایسی تحریک بن گیا جس نے برصغیر کے تعلیمی، سماجی اور فکری منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1888ء میں برطانوی حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں خطابِ سر سے نوازا۔ سرسید 27 مارچ 1898ء کو وفات پا گئے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جامع مسجد کے احاطے میں مدفون ہوئے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ ایک فرد کا پختہ عزم، مسلسل جدوجہد اور اجتماعی بھلائی کا جذبہ آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔
آج 17 اکتوبر کو سرسید کے یومِ ولادت پر علمی دنیا انھیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور علیگ برادری کے لیے یہ دن محض ایک عظیم شخصیت کی سالگرہ نہیں، بلکہ اس تعلیمی تحریک کے مقاصد پر غور کرنے کا موقع بھی ہے جس نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی اہمیت سے روشناس کرایا۔ سرسید بھی ہماری طرح انسان تھے۔ ان کے بھی والدین، اہلِ خانہ، ذاتی ذمہ داریاں اور زندگی کے اپنے تقاضے تھے، لیکن ان کی عظمت اس بات میں تھی کہ انھوں نے اپنی ذاتی زندگی کے ساتھ اجتماعی اصلاح اور قوم کی تعلیمی ترقی کو بھی اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا۔ انھوں نے حالات کی شکایت کرنے کے بجائے حالات کو بدلنے کی کوشش کی اور محض دوسروں سے توقعات وابستہ کرنے کے بجائے خود میدانِ عمل میں اترے۔
یہاں ایک سوال ہر صاحبِ فکر کے دل میں پیدا ہونا چاہیے: یومِ ولادت صرف سرسید کا کیوں، ہمارا کیوں نہیں؟ اس سوال کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اپنی سالگرہ منائے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مقاصد، خدمات اور ذمہ داریوں کا محاسبہ کریں۔ ہم خود سے پوچھیں کہ اپنی قوم، اپنے معاشرے اور آنے والی نسلوں کے لیے ہم نے کیا کیا؟ ہم نے علم کے فروغ، طلبہ کی رہنمائی، اخلاقی تربیت اور اجتماعی ترقی میں اپنا کتنا حصہ ادا کیا؟ جو شخص یہ سوال اپنے ضمیر کے سامنے رکھتا ہے، وہ سرسید کی فکر کو محض ایک تاریخی یادگار نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا رہنما بناتا ہے۔ یہی سرسید کے حقیقی وارث ہونے کی علامت ہے۔
سرسید کی فکر سے منسوب یہ تصور کہ مسلمانوں کے ایک ہاتھ میں سائنس، دوسرے میں فلسفہ اور سر پر کلمۂ توحید کا تاج ہو، دراصل علم، ایمان اور کردار کے امتزاج کی علامت ہے۔ اس خواب کی تکمیل کے لیے سرسید نے معجزے یا غیبی مدد کا انتظار نہیں کیا، بلکہ سوسائٹیاں قائم کیں، علمی رسائل جاری کیے، تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی اور لوگوں کو ایک مقصد کے لیے متحد کیا۔ ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مختلف شہروں میں تعلیمی سوسائٹیاں، لائبریریاں، کوچنگ مراکز اور وظائف کے نظام کو فروغ دینا چاہیے، تاکہ مالی وسائل کی کمی کسی مستحق طالب علم کی تعلیم میں رکاوٹ نہ بنے۔ تعلیم کے مواقع بڑھانا، نئی نسل کو تحقیق کی طرف راغب کرنا اور کمزور طبقات کے لیے علمی ترقی کی راہیں کھولنا ہی سرسید کے مشن سے حقیقی وابستگی ہے۔
سرسید بننا آسان نہیں، لیکن ان کی فکر سے رہنمائی حاصل کرنا اور اپنی استطاعت کے مطابق علمی و سماجی خدمات انجام دینا یقیناً ممکن ہے۔ احساسِ ذمہ داری، خلوصِ نیت، مستقل مزاجی اور مضبوط ارادہ ہی روشن مستقبل کی بنیاد ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی اپنی سطح پر وہی علمی بیداری، اصلاحی جذبہ اور عملی عزم پیدا کریں جس نے سرسید کو ایک فرد سے ایک تحریک بنا دیا۔
سرسید احمد خاں کا یومِ ولادت، سرسید ڈے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی علمی و تہذیبی زندگی کا ایک اہم موقع ہے۔ اس دن یونیورسٹی میں علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے بانیِ جامعہ کی خدمات اور علی گڑھ تحریک کے مقاصد کو یاد کیا جاتا ہے۔ علیگ برادری دنیا کے مختلف حصوں میں اس دن کو عقیدت اور احترام کے ساتھ مناتی ہے۔ سرسید ڈے کے موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ماحول خاص طور پر دیدنی ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کی عمارتوں اور کیمپس کو سجایا جاتا ہے، مختلف مقامات پر یونیورسٹی کے پرچم اور دیگر علامتی نشان نظر آتے ہیں اور طلبہ، اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور انتظامیہ کی شرکت سے پورے ادارے میں ایک جشنِ علم کا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔ طلبہ کے لیے یہ موقع محض تفریح یا تقریب نہیں، بلکہ اپنی علمی شناخت اور ادارے کی تاریخ سے وابستگی کا اظہار بھی ہے۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سرسید ڈے کی تقریبات عشائیے تک محدود رہتی ہیں اور سرسید کے فکر و عمل پر خاطر خواہ گفتگو نہیں ہوتی۔ میرے نزدیک اس موقع کی تمام سرگرمیوں کو یک طرفہ انداز میں دیکھنا مناسب نہیں۔ ان تقریبات میں سرسید کی یاد، ان کی قبر پر حاضری اور تلاوتِ قرآن مجید، علمی و ادبی پروگرام، تقریری و تحریری مقابلے، کتابوں اور تصاویر کی نمائش اور خصوصی جلسے جیسے مختلف پہلو شامل ہوتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا اصل مقصد اسی وقت پورا ہوتا ہے جب یہ نئی نسل کو سرسید کے تعلیمی مشن سے جوڑیں۔
سرسید ڈے کی تقریبات میں تقریری اور تحریری مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو سرسید ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔ راقم الحروف کے لیے یہ بات باعثِ مسرت و افتخار ہے کہ اُسے 1982ء میں پہلا سرسید ایوارڈ حاصل کرنے کا شرف نصیب ہوا۔ یہ اعزاز میرے لیے محض ایک انعام نہیں، بلکہ علی گڑھ کی علمی روایت سے وابستگی کی ایک یادگار بھی ہے۔ ان تقریبات کے دوران سرسید کی زندگی، فکر اور خدمات سے متعلق کتابوں اور تصاویر کی نمائش بھی منعقد کی جاتی ہے۔ کینیڈی ہال میں خصوصی جلسوں کا انعقاد ہوتا ہے، جن میں جامعہ کی قیادت، ممتاز علمی و ادبی شخصیات اور سابق طلبہ شرکت کرتے ہیں۔ ایسے اجتماعات سرسید کے افکار کو نئی نسل تک پہنچانے اور علیگ برادری کے درمیان علمی تعلق کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
بلاشبہ، سجاوٹ، گل پوشی، چراغاں اور عشائیہ جیسی سرگرمیوں کی اپنی سماجی اور تہذیبی اہمیت ہے، لیکن ان تقریبات کی اصل کامیابی ان کی ظاہری شان و شوکت سے نہیں، بلکہ ان کے علمی اور عملی نتائج سے متعین ہونی چاہیے۔ سرسید ڈے کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ طلبہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، علم و تحقیق میں آگے بڑھیں، اخلاق و کردار میں ممتاز ہوں اور معاشرے کی تعمیر میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ اگر طب، سائنس، قانون، ٹیکنالوجی، ادب، سماجی علوم اور دیگر علمی شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کریں، تحقیق و اختراع کو فروغ دیں اور اپنی صلاحیتوں کو انسانی خدمت کے لیے وقف کریں، تو یہی سرسید کے خواب کی حقیقی تعبیر ہوگی۔
سرسید ڈے پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ان کی یاد کو محض تقریبات تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ ان کے تعلیمی نظریے کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دیں گے۔ یہی علی گڑھ تحریک کی روح، یہی سرسید کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت اور یہی ملک و ملت کی علمی، اخلاقی اور سماجی ترقی کا راستہ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔