فکر و خیالات

بج چکا ہے بگل، اقتدار کا زوال قریب!...اپوروانند

جنتر منتر کی نوجوانوں پر مشتمل تحریک نے مودی حکومت کی ساکھ کو چیلنج کیا ہے۔ اپوروانند کے مطابق عوامی مزاحمت، انتخابی بے ضابطگیوں کے انکشافات اور خوف سے آزادی نے اقتدار کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں

<div class="paragraphs"><p>جنتر منتر / آئی اے این ایس</p></div>

جنتر منتر / آئی اے این ایس

 

کیا احتجاجی مظاہروں سے کوئی تبدیلی آ سکتی ہے؟ گزشتہ تین ماہ کے دوران یہ سوال بار بار میرے سامنے آیا ہے، خاص طور پر جولائی کے بعد سے، جب ملک کے کونے کونے سے ہزاروں نوجوان دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہونے لگے اور حکومت کو مجبوراً وزیر تعلیم سے استعفیٰ لینا پڑا۔

یہ دعویٰ کہ ’اس حکومت میں استعفے نہیں ہوتے‘، اب مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ حکومت اس قدر دباؤ میں آ گئی کہ بالآخر اسے دھرمیندر پردھان کی قربانی دینی پڑی۔ یہ اور بات ہے کہ حکومت نے اس استعفے کو نوجوانوں کی تحریک کے نتیجے میں پھیلنے والی مبینہ ’افراتفری‘ سے ملک کو بچانے کے وسیع تر مفاد میں اٹھایا گیا ایک ’اخلاقی قدم‘ قرار دینے کی کوشش کی۔ لیکن عوام نے حکومت کے گھٹنے ٹیکنے کو اسی طور پر دیکھا، جو حقیقت میں تھا، یعنی مضبوط مزاحمت کے سامنے اقتدار کا ہتھیار ڈال دینا۔ اپنے آپ میں یہ ایک بڑی تبدیلی تھی۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب مودی حکومت کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا ہو۔ پنجاب اور ہریانہ کے کسان جب دہلی کی سرحدوں پر پورا ایک سال ڈٹے رہے اور تینوں زرعی قوانین کی واپسی کے بعد ہی اپنے گھروں کو لوٹے، تو یہ ان کی غیرمعمولی ثابت قدمی اور پختہ عزم کا ثبوت تھا۔ کئی اعتبار سے زرعی قوانین کی واپسی مودی کے لیے کہیں بڑی شکست تھی، کیونکہ اس میں حکومتی پالیسی کی سطح پر حقیقی تبدیلی شامل تھی۔ اس کے برعکس، دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اگرچہ علامتی کامیابی تھا، لیکن اس سے نظام کی بنیادی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

کسان تحریک سے بھی پہلے مسلم خواتین کی قیادت میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ایک بڑی تحریک اٹھی تھی۔ بلاشبہ، کووڈ کی وبا کے باعث اس تحریک کو روکنا پڑا، لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہندوتوا کے حامی عناصر کی سرپرستی میں ہونے والی پُرتشدد کارروائیوں کے باوجود اس تحریک نے حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔

شہریت ترمیمی قانون کے تحت قواعد وضع کرنے میں تاخیر ہوئی اور شہریوں کی شناخت کرکے انہیں باہر کرنے کے خدشات سے وابستہ قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کی مشق کو بھی سرد خانے میں ڈالنا پڑا۔ یہ مزاحمت کے تاریخی اور جرأت مندانہ مظاہرے تھے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی جولائی کی جنتر منتر تحریک جیسی ہمہ گیر عوامی حمایت حاصل نہیں کر سکا۔ گزشتہ تحریکوں کو سماج کے بعض طبقات کی ناراضی اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ جنتر منتر کے مظاہروں کو عوام کے وسیع حلقے کی حمایت حاصل ہوئی۔

ان نوجوانوں کی شناخت کسی ایسے مخصوص سماجی یا مذہبی نشان سے وابستہ نہیں تھی، جو معاشرے کے کسی طبقے کو ان سے اجنبیت محسوس کراتا۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ انہیں اپنا سمجھنے لگے۔ ممکن ہے کہ جنتر منتر کے مظاہروں میں وہ ہمہ گیر اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی اپیل اسی لیے پیدا ہوئی، جو دوسری تحریکوں میں نسبتاً کم دکھائی دی تھی۔

جنتر منتر کی تحریک نے اس ’سپریم‘ لیڈر کی ساکھ کو ایسی گہری چوٹ پہنچائی، جسے ناقابل شکست اور خوف سے بالاتر سمجھا جاتا تھا، اور ماضی کی کسی تحریک میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس نے میڈیا کی تخلیق کردہ اس دھند کو بھی چھانٹ دیا، جس نے مودی کے اصل چہرے کو پردے میں چھپا رکھا تھا۔ یہ سب کیوں اور کیسے ہوا، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ہم صرف اس بات کا مشاہدہ اور اظہار کر سکتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، اور اس پر غور کر سکتے ہیں کہ تاریخ کا یہ لمحہ مستقبل کے لیے کون سے نئے امکانات کے دروازے کھول رہا ہے۔

جنتر منتر کی اس عوامی تحریک کے فوراً بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج سے متعلق ’دی انڈین ایکسپریس‘ کے سنسنی خیز انکشافات نے مودی حکومت کی قانونی و سیاسی ساکھ کو پوری طرح متزلزل کر دیا ہے۔ ان انکشافات نے موجودہ احتجاجی تحریکوں کے لیے کسی حد تک راستہ بھی آسان بنایا ہے۔ اب لوگ ان مظاہروں سے خود کو جڑا ہوا محسوس کرنے لگے ہیں اور انہیں کسی مخصوص سیاسی جماعت کے مفادات کی تکمیل کی کوشش کے طور پر نہیں دیکھتے۔

اب جب کہ حالات کی دھند چھٹ چکی ہے، لوگ راہل گاندھی جیسے رہنماؤں کو زیادہ وضاحت کے ساتھ دیکھ اور سن پا رہے ہیں۔ حکومت اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خلاف آواز اٹھانے والے رہنماؤں کے بارے میں میڈیا نے جو منفی تصویر بنائی تھی، اس نے ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد کو انہیں اپنی آواز تسلیم کرنے سے روک رکھا تھا۔ اب یہ تصویر دھندلا چکی ہے۔ راہل گاندھی اب ایک فطری سیاسی متبادل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ گزشتہ تیرہ برسوں میں پہلی مرتبہ حکومت پوری طرح الگ تھلگ اور دفاعی پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے۔ اب وہ احتجاجی مظاہروں کے خلاف اکثریتی فرقہ وارانہ جذبات کو اس طرح بھڑکانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی، جیسا کہ ماضی میں اکثر ہوتا رہا ہے۔

سیاسی طور پر خود کو بے بس محسوس کرنے والے اس آمرانہ نظامِ اقتدار نے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے سرکاری ایجنسیوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ دہلی پولیس خود احتجاجی مظاہروں کے خلاف سرگرمی سے گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ یہ اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس طرح وہ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کر رہی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالتیں بھی اقتدار کے ساتھ اسی لے میں اپنی آواز ملاتی رہیں گی یا تاریخ کے اس اہم موڑ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک آزاد اور خودمختار موقف اختیار کریں گی۔ عوام کے ذہنوں سے خوف اور جھجک ختم ہو چکی ہے۔ لوگ احتجاج کرنے کے اپنے بنیادی حق کو دوبارہ حاصل کر رہے ہیں اور آزادی کے ایک نئے احساس سے روشناس ہو رہے ہیں۔ وہ مظاہروں کے انعقاد کے لیے انتظامیہ سے اجازت لینے سے صاف انکار کر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے لوگ ایک بار پھر خود کو مکمل انسان سمجھنے اور اپنی انسانی حیثیت کو محسوس کرنے لگے ہیں۔

یہ احتجاجی تحریکیں اب رکنے والی نہیں ہیں۔ بی جے پی نے میڈیا، کارپوریٹ دنیا اور عدلیہ کے فعال تعاون سے اقتدار کا جو عظیم الشان محل تعمیر کیا تھا، یہ تحریکیں اس پر مسلسل ضربیں لگاتی رہیں گی۔ وہ محل اب ڈھہ رہا ہے اور اس کا انہدام یقینی دکھائی دیتا ہے۔ اب میڈیا، سرکاری نظام اور عدلیہ کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس گرفت سے آزاد ہو کر خودمختاری کے ساتھ سانس لینا چاہتے ہیں یا پھر اقتدار کے اس تاریخی زوال کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔