
تصویر اے آئی
گجرات کے شہر سورت میں بہتر اجرت اور ہفتہ وار چھٹی کے مطالبے پر احتجاج کرنے والے مزدوروں کے خلاف پولیس کی کارروائی نے ملک کے بڑے ٹیکسٹائل مراکز میں شمار ہونے والے اس شہر میں مزدوروں کی بے چینی بڑھا دی ہے۔ اس کے نتیجے میں دیوالی اور چھٹھ پوجا سے پہلے بڑی تعداد میں مہاجر مزدوروں کے اپنے آبائی علاقوں کو واپس جانے کی اطلاعات ہیں۔
گزشتہ ہفتے کڑھائی کے کارخانوں میں کام کرنے والے تقریباً 70 مزدوروں کو پولیس نے اس وقت حراست میں لے لیا، جب وہ اپنے مطالبات کے حق میں سورت کے کلکٹر دفتر کے باہر جمع ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے احتجاج کے لیے اجازت نہیں لی تھی۔
اخبار ’دی نیو انڈین ایکسپریس‘ نے سب سے پہلے مزدوروں کی گرفتاریوں کی خبر دی تھی اور ایک ویڈیو بھی شائع کیا تھا، جس میں پولیس اہلکار مزدوروں کو حراست میں لیتے اور ان پر لاٹھیاں برساتے دکھائی دے رہے تھے۔
پولیس کارروائی نے پہلے سے کشیدہ صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں مزدوروں کے اپنے آبائی علاقوں کو واپس جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بی بی سی ہندی کی رپورٹ کے مطابق، سورت سے 10 لاکھ مزدور جا چکے ہیں۔ مزدوروں کی اس بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے ٹیکسٹائل صنعت کے مالکان کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ تہواروں کے موسم میں کپڑوں اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ عموماً بڑھ جاتی ہے۔
اس صورت حال نے وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں مہاجر مزدوروں کے کام کرنے کے حالات پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس سے گجرات ماڈل کے تحت صنعتی ترقی کی اس تصویر پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جس میں سورت کو ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔
ٹیکسٹائل صنعت کی وجہ سے ’ہندوستان کا مانچسٹر‘ کہلانے والا سورت بڑی حد تک بہار، اتر پردیش، اڈیشہ اور دیگر ریاستوں سے آنے والے مہاجر مزدوروں پر انحصار کرتا ہے۔ ان مزدوروں کی شکایات میں روزانہ 12 گھنٹے کام کرانا، قانون کے تحت ملنے والی ہفتہ وار چھٹی سے محروم رکھنا، اجرت میں کٹوتی کرنا اور چھٹی مانگنے پر ملازمت سے نکالنے جیسے معاملات شامل ہیں۔
مزدوروں کا احتجاج 15 اگست سے شروع ہوا تھا، لیکن نوراتری کے آخری ہفتے میں ’گاؤں چلو ابھیان‘ کے زور پکڑنے کے ساتھ اس میں شدت آ گئی۔ روزنامہ ’دینک بھاسکر‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹیکسٹائل صنعت کے مالکان نے ہفتے میں ایک دن چھٹی کا مطالبہ کرنے پر 250 سے 300 مزدوروں کو ملازمت سے نکال دیا۔ اس پیش رفت نے بھی مزدوروں کی بڑے پیمانے پر واپسی کے رجحان کو تیز کیا۔
اطلاعات کے مطابق، بہت سے مزدور دیوالی اور چھٹھ پوجا سے پہلے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ مالکان چھٹی دینے سے انکار کر رہے ہیں اور چھٹی کرنے کی صورت میں اجرت کاٹنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ اپنے آبائی شہر واپس جانے والے ایک نوجوان مزدور اجے نے ’دینک بھاسکر‘ کو بتایا کہ اس کے مالک نے اسے چھٹی دینے سے انکار کر دیا تھا اور واضح کر دیا تھا کہ چھٹی کرنے پر اس کی اجرت کاٹ لی جائے گی۔
مزدوروں کے لیے یہ تنازع محض چھٹی نہ ملنے کا معاملہ نہیں ہے۔ ان کی شکایات میں طویل اوقاتِ کار، اجرت روک لینا اور پورے مہینے مسلسل کام کرنے کا دباؤ بھی شامل ہے۔ ان حالات نے مزدوروں کو مالی مشکلات کے ساتھ ذہنی دباؤ میں بھی مبتلا کر رکھا ہے۔ مزدور تنظیمیں اپنے گاؤں واپس جانے والے کارکنوں کی مدد کے لیے آگے آئی ہیں۔ ان تنظیموں نے کارخانوں کے مالکان پر ہراسانی اور مطالبات اٹھانے والے مزدوروں کے خلاف انتقامی کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے نکالنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
مزدور یونین کے نمائندے اجے ڈی دوبے نے ’دینک بھاسکر‘ سے گفتگو میں کہا کہ ’گاؤں چلو‘ مہم کے تحت بڑی تعداد میں مزدور اپنے آبائی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ دوبے نے الزام لگایا کہ اس مہم کے آغاز کے بعد سے مالکان مزدوروں کو ہراساں کر رہے ہیں اور انہیں ملازمت سے نکال رہے ہیں۔ ان کے مطابق، یونین نے ایسے واقعات کو دستاویزی شکل دینے کے لیے کئی ویڈیوز بھی جمع کیے ہیں۔
دریں اثنا، مرکزی وزیر برائے ٹیکسٹائل گری راج سنگھ نے 9 اکتوبر کو سورت کا دورہ کیا اور مزدوروں اور مالکان سے اپیل کی کہ وہ باہمی اتفاق سے تنازع حل کریں۔ انہوں نے کہا، ’’مالکان اور مزدور ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔‘‘ انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کو خاندان کے افراد کی طرح مل بیٹھ کر حل کریں۔ تاہم، ان کی اپیل کے باوجود مزدوروں کی بے چینی کم نہیں ہو سکی۔
تہواروں کے موسم میں سورت سے مزدوروں کی بڑے پیمانے پر واپسی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ کڑھائی کے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی بڑھتی ہوئی ناراضگی کے اثرات صنعت کی پیداوار اور سپلائی چین تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس وقت جب تہواروں کے باعث ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ اپنے عروج پر پہنچ رہی ہے، مزدوروں کی کمی صنعت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
کانگریس نے اس صورت حال کو گجرات ماڈل پر سوال قرار دیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا کے رکن سید ناصر حسین نے کہا، ’’یہ بی جے پی کا گجرات ماڈل ہے، جس میں مزدوروں کا استحصال کیا جاتا ہے، اختلاف کی آواز کو دبایا جاتا ہے اور معیشت چلانے والے محنت کشوں کی قیمت پر امیروں کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا ہے۔‘‘
گجرات کے معاملات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق، یہ بحران دو اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طرف، اگر مزدوروں کے منصفانہ اجرت اور چھٹی جیسے بنیادی مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا تو ٹیکسٹائل صنعت کے بڑے مرکز کے طور پر سورت کی پوزیشن برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ دوسری طرف، یہ صورت حال گجرات ماڈل کے ترقیاتی دعووں پر بھی سوال اٹھاتی ہے، جسے خود نریندر مودی نے فروغ دیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ترقی کے اس ماڈل میں انفرادی ترقی اور معاشی کامیابی کو تو نمایاں کیا جاتا ہے، لیکن اس ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنے والی افرادی قوت کے مسائل اور فلاح و بہبود کو حل کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔