فکر و خیالات

یوم پیدائش کے موقع پر: ’سرسید احمد خاںؒ‘، مؤرخ سے ماہر تعلیم تک کا سفر... شاہد صدیقی علیگ

سرسید کا 1875ء میں ’محمڈن اینگلو اورینٹل کالج‘ کا لگایا پودا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ایک صدی سے زائد سے دنیا کو فیضیاب کر رہا ہے، جو تاریخ نویسی سے کہیں بڑھ کر ملک و قوم کی خدمات کا ضامن ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سر سید احمد خاں</p></div>

سر سید احمد خاں

 

تصاویر بشکریہ شاہد صدیقی علیگ

مفکر، عظیم دانشور، وسیع النظر، مستقبل شناس، بلند پایہ مصنف و تاریخ نویس، معمار قوم، ماہر تعلیم اور بانی درس گاہ سر سید احمد خاںؒ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ جن کا قلم اوائلِ شباب میں صفحہ قرطاس پر ایسا چلا کہ آخری سانس تک چلتا رہا۔ جب انہوں نے سن شعور میں قدم رکھا تو اس وقت مغلیہ سلطنت کا چراغ ٹمٹما رہا تھا، تاجران فرنگ کے قدم آہستہ آہستہ ارض ہند پر جمتے جا رہے تھے۔ بہ سبب ہندوستان کی تاریخ، تہذیب و تمدن اور زبان و ادب پر خطرے کے بادل منڈلانے لگے۔ ایسے حالات میں نباض وقت سر سید احمد نے عظمت رفتہ کو محفوظ رکھنے کا عزم کیا۔

سرسید کی ماضی کے شاندار ورثے پر مبنی پہلی تاریخی معرکة الارا کاوش فارسی کی ’جام جم‘ آگرہ سے  شائع ہوئی۔ جس نے تاریخ کے تشنہ لب قارئین کی توجہ اپنی جانب مرکوز کی، جو روایتی نہیں بلکہ ایک حوالہ جاتی کتاب ہے، جس میں تیمور تا ہندوستانی فرما رواﺅں کے حسب و نسب، تاج پوشی، آداب و القاب اور عہد حکومت وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے بعد ان کی دوسری کتاب ’آثار الصنادید‘ منظرعام پر آئی، جو دلّی کی تاریخی عمارتوں پر لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جس میں دہلی کی قدیم عمارتوں کی تاریخ، جغرافیہ اور اس سے وابستہ تہذیب و ثقافت کا مفصل احوال پیش کیا گیا۔ سرسید احمد خاں نے قطب مینار پر کندہ قرآن مجید کی آیتوں کو لکھنے کے لیے جھینگے کا استعمال کیا کہ دیکھنے والوں کی بھی سانسیں اٹک گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے ابوالفضل کی آئین اکبری، ضیا الدین برنی کی تاریخ فیروز شاہی اور تزک جہانگیری (مغل بادشاہ جہانگیر) جیسے تاریخی قلمی نسخوں کو مرتب کیا، جو مغل شہنشاہ اکبر، تغلق سلاطین اور سلیم نور الدین جہانگیر کے عہد حکومت کی تاریخ، تہذیب و تمدن اور انتظامی نظام کے ساتھ ساتھ دربار کے مختلف امور کو بیان کرتی ہیں۔ یہ ہندوستان کے آثار باقیہ کو تحفظ کرنے میں ایک انقلابی قدم تھا۔

یہ بات قابل امر ہے کہ سرسید نے ’آئینِ اکبری‘ کا پیش لفظ مرزا غالب سے لکھنے کی درخواست کی تو انہوں نے جواب میں ایک مثنوی لکھ کر بھیجی۔ جس میں غالب نے سرسید کی ماضی پرستی پر سخت تنقید کی: ’’مردہ پروردن مبارک کار نیست۔‘‘ یعنی مردہ پرستی کوئی قابلِ تحسین مشغلہ نہیں ہے۔

’حیات جاوید‘ میں الطاف حسین حالی لکھتے ہیں کہ جب مرزا غالب نے یہ دیباچہ سرسید کو بھیجا تو انہوں نے اس تحریر کے ساتھ اسے واپس کر دیا کہ ’’مجھے ایسے دیباچے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔ حالانکہ سرسید نے غالب کی تحریر کردہ تقریظ کو اپنی کتاب میں جگہ نہیں دی۔ تاہم مرزا غالب کی نکتہ چینی نے سرسید کے نظریات پر کاری ضرب لگائی۔ اسی بیچ میرٹھ چھاﺅنی میں کمپنی بہادر کے باغی سپاہیوں نے 10 مئی 1857ء کو پہلی ملک گیر جنگ آزادی کا صور پھونکا اور انقلاب کی زمام 82 سالہ ضعیف العمر آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو سونپی۔ ان کی مستقل مزاجی اور حکمت عملیوں نے باغی فوجیوں کے حوصلوں میں ایک نئی جان پھونک دی۔ الغرض دلّی میں شریک غیر منظم انقلابیوں اور آزمودہ کار فرنگیوں نیز ان کے ہندوستانی کاسہ لیسوں کی افواج کے مابین 11 مئی تا 20 ستمبر 1857ء مقابلہ جاری رہا، ناسازگار حالات کے باوجود کفن بدوش مجاہدین نے انگریزی فوج کو متعدد موقعوں پر دن میں تارے دکھائے، مگر خزانے کا فقدان، مخبروں کی کرم فرمائی، اور جدید اسلحہ سے آراستہ انگریزی فوج نے غدار ہندوستانی حکمرانوں کی معاونت سے لال قلعہ پر یونین جیک لہرا دیا، جس کے بعد جوش انتقام میں انگریزوں نے عدل و انصاف کے مغائر مجاہدین کے ساتھ ساتھ بے گناہ شہریوں پر بھی ایسی حیوانیت برپا کی کہ انسانیت تھرا اٹھی۔ انتخاب شہر دلّی شہر خموشاں میں تبدیل کر دیا گیا۔

اگرچہ انقلاب 1857ء میں بلاتفریق مذہب و ملت سبھی نے شرکت کی تھی مگر فرنگیوں کی بادی نظر میں اس کے قصوروار مسلمان ٹھہرے۔ انہوں نے مسلمانان ہند کی حالت قابل رحم اور ناگفتہ بہ بنا دی۔ انگریزوں کی مسلمانوں کے تئیں حکمت عملی اور استحصال نے سرسید کو جھنجوڑ دیا، لہٰذا انہوں نے برطانوی نو آبادیاتی حکام کے غیظ و غضب اور انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اپنے علم و فراست اور دانشمندی وضع کرتے ہوئے قلم کا سہارا لیا۔ موج بلا گزرنے کے ایک سال بعد اسباب بغاوت ہند لکھی۔ انگریز وں کی پالیسیوں اور لاپروائیوں کو اجاگر کر کے انہیں آئینہ دکھایا۔ اسی دوران ’سرکشی ضلع بجنور‘ بھی آگرہ سے شائع ہوئی، جس میں انہوں نے ضلع بجنور 1857ء میں پیش آنے والے واقعات کا آنکھوں دیکھا حال اور اپنے ذاتی تجربات قلم بند کیے۔ اسی سلسلے کی تیسری کڑی رسالہ خیر خواہ مسلمانان ہے، اس میں ایام سرکشی میں کمپنی کے تئیں مسلمانوں کی وفادارانہ کارگزاریوں کا مفصل اور مستند جائزہ پیش کیا گیا جو 3 حصوں پر مشتمل ہے۔ سرسید کی مذکورہ تصانیف انگریزوں کی بدگمانی، گلے شکوے اور غلط فہمی کی تریاق ثابت ہوئیں۔

علاوہ ازیں ان کی تبیین الکلام، جو بائبل پر اردو میں ایک اولین تقابلی تفسیر ہے، ’احکام طعام اہل کتاب‘ جس میں یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ کھانے پینے کے معاملات بالخصوص کھانے کے آداب اور حلال و حرام کے مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔ خطبات احمدیہ جو متعصب ولیم میور کی ’لائف آف محمد‘ کے جواب میں لکھی گئی ایک تحقیقی تصنیف ہے، جسے لکھنے کے لیے سرسید احمد خاں نے انگلستان کا سفر کیا، قرض لیا اور تاریخی مسودات اور کتب خانوں سے استفادہ کر کے ایک نادر کتاب لکھی۔

مذکورہ کتابوں کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ محاربہ عظیم 1857ء نے سرسید احمد خاں کی طبیعت کے ساتھ وہی کام کیا جو ایک بجلی گرنے کی واردات نے لوتھر کے ساتھ کیا تھا۔ جس نے سرسید کی شخصیت کو یکسر تبدیل کر دیا اور ان کا قلم تاریخی میدان میں طبع آزمائی کے بجائے مسلمانان ہند کی حرمت و بقا کے لیے وقف ہو گیا۔ یعنی اگر پہلی ملک گیر جنگ آزادی رونما نہ ہوتی تو بلاشبہ آج سرسید احمد کا شمار ماہر تعلیم کے بجائے دنیا کے عظیم مؤرخین میں ہوتا۔ تاہم سرسید کا 1875ء میں ’محمڈن اینگلو اورینٹل کالج‘ کا لگایا گیا پودا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ایک صدی سے زیادہ سے دنیا کو فیض یاب کر رہا ہے، جو تاریخ نویسی سے کہیں بڑھ کر ملک و قوم کی خدمات کا ضامن ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔