
نواب شمس الدین، کریم خاں اور ولیم فریزر
تاریخِ ہند گواہ ہے کہ جب مغربی نوآبادیاتی طاقتوں نے ہندوستان میں اپنے قدم جمانے شروع کیے تو یہاں کی دولت، تہذیب، ثقافت، تمدن اور سماجی ہم آہنگی نے انہیں حیران کر دیا۔ تاہم اس حیرت کے ساتھ ہندوستان کی دولت اور اقتدار پر قبضے کی ہوس بھی بڑھتی گئی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع کے ساتھ ظلم، استحصال، سیاسی سازشوں اور مقامی حکمرانوں کے خلاف کارروائیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا، جس کے بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔
اسی دور کے کئی کردار ہندوستان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بنے۔ ان میں پرتگالی مہم جو واسکو ڈی گاما سے لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے عیار افسر رابرٹ کلائیو تک کے نام شامل ہیں۔ بنگال کی دولت کی لوٹ مار اور پلاسی کی جنگ کے بعد کلائیو نے جو دولت حاصل کی، وہ برطانوی نوآبادیاتی استحصال کی ایک نمایاں مثال سمجھی جاتی ہے۔
اسی عہد میں دہلی میں ایک اور برطانوی افسر ولیم فریزر کا نام سامنے آتا ہے، جس کا کردار مقامی اشرافیہ اور عوام کے ایک طبقے میں شدید ناپسندیدگی کا باعث بنا۔ فریزر گورنر جنرل کے سیاسی ایجنٹ کی حیثیت سے دہلی میں تعینات تھا۔ اس کے بارے میں مختلف تاریخی روایات میں اس کی عیاشی، سخت گیری اور مقامی خاندانوں میں مداخلت کے متعدد واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق اس نے نواب شمس الدین احمد خاں کی بہن کے ساتھ بھی دست درازی کی کوشش کی تھی۔ یہی نہیں، فریزر اور نواب شمس الدین کے درمیان سیاسی اور ذاتی نوعیت کے دیگر اختلافات بھی موجود تھے۔
نواب شمس الدین احمد خاں فیروزپور جھرکہ اور لوہارو کے حکمران تھے۔ وہ نواب احمد بخش خاں کے فرزند تھے، جنہوں نے ان ریاستوں کی بنیاد مضبوط کی۔ ان کے دادا نواب عارف خاں 1750 میں بخارا سے ہندوستان آئے تھے اور مغل بادشاہ شاہ عالم کے دور میں اٹک کے صوبے دار مقرر ہوئے تھے۔ 1827 میں نواب احمد بخش خاں کی وفات کے بعد شمس الدین احمد خاں نے ریاست کی حکمرانی سنبھالی۔
فریزر سے بڑھتی ہوئی کشیدگی بالآخر ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گئی۔ تاریخی روایات کے مطابق نواب شمس الدین نے فریزر کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور اپنے داروغۂ شکار کریم خاں میواتی، المعروف بھرمارو اور انیا میواتی کو یہ ذمہ داری سونپی۔ ستمبر 1834 میں دونوں کو دہلی بھیجا گیا۔ وہ تقریباً تین ماہ تک مناسب موقع کی تلاش میں رہے، لیکن کامیاب نہ ہوسکے اور واپس لوٹ آئے۔ تاہم منصوبہ ترک نہیں کیا گیا۔ انہیں دوبارہ دہلی بھیجا گیا اور بالآخر 22 مارچ 1835 کو وہ موقع آگیا۔
فریزر کشن گڑھ کے راجا کلیان سنگھ کی رہائش گاہ پر عشائیے کے بعد باڑا ہندو راؤ میں واقع اپنے بنگلے کی طرف واپس جا رہا تھا۔ رات تقریباً گیارہ بجے کریم خاں نے اسے گولی مار دی، جس کے نتیجے میں فریزر ہلاک ہو گیا۔ فریزر کے قتل نے برطانوی انتظامیہ میں کھلبلی مچا دی۔ قاتلوں کی تلاش شروع ہوئی اور ابتدا ہی سے شبہ نواب شمس الدین احمد خاں پر ظاہر کیا جانے لگا۔ 23 مارچ کو پانی پت میں تعینات ضلع مجسٹریٹ جان لارنس کو واقعے کی اطلاع ملی تو وہ دہلی پہنچ گیا۔ اس نے تفتیش میں کمپنی کے دیگر حکام کی معاونت کی اور شمس الدین سے متعلق شواہد اکٹھے کرنے شروع کیے۔
تفتیش کے دوران واصل خاں کے گھر سے ایک ایسا گھوڑا ملا جس کے نعل حال ہی میں تبدیل کیے گئے تھے۔ اسی سلسلے میں کریم خاں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے کمرے کی تلاشی کے دوران نواب شمس الدین کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت برآمد ہوئی۔ پوچھ گچھ کے دوران کریم خاں نے اپنی بے گناہی پر اصرار کیا اور کہا کہ وہ اپنے آقا کے لیے کتے خریدنے شہر گیا تھا۔ نواب شمس الدین کے خلاف دستیاب شواہد بظاہر بہت مضبوط نہیں تھے، لیکن خطوط میں استعمال ہونے والے بعض مبہم اشاروں نے برطانوی حکام کے شبہات کو مزید بڑھا دیا۔ بعد ازاں انیا میواتی کے وعدہ معاف گواہ بن جانے سے استغاثہ کا مقدمہ مزید مضبوط ہو گیا۔
اسی دوران ایک اتفاقی دریافت نے بھی معاملے کو ایک نیا رخ دیا۔ کریم خاں کی کٹی ہوئی نالی والی بندوق کا بیرل ایک کنویں سے برآمد ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ پیتل کا ایک برتن کنویں میں گرنے کے بعد اسے نکالنے کی کوشش کے دوران بندوق کا یہ حصہ سامنے آیا۔
کریم خاں اور مرزا مغل بیگ کے خلاف عدالتی کارروائی 8 جولائی 1835 کو جج رسل کولون کی سربراہی میں شروع ہوئی۔ 26 ستمبر کو کریم خاں کو اس مقام پر لے جایا گیا جہاں فریزر کو قتل کیا گیا تھا اور وہیں اسے پھانسی دے دی گئی۔ اس موقع پر دہلی کی کئی مساجد میں اس کے لیے دعائیں کی گئیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فریزر کی موت نے معاشرے کے ایک طبقے میں کس قدر اطمینان پیدا کیا تھا۔
اس کے بعد نواب شمس الدین احمد خاں کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ وہ پالکی میں سوار ہوکر عدالت پہنچے۔ کارروائی کے دوران مختلف گواہوں کو پیش کیا گیا۔ ان میں مرزا غالب جیسی ممتاز شخصیتوں کا نام بھی تاریخی روایت میں ملتا ہے۔ گواہوں کے بیانات اور استغاثہ کی کارروائی کے بعد عدالت نے نواب شمس الدین کو موت کی سزا سنا دی۔
3 اکتوبر 1835 کا دن نواب شمس الدین کی زندگی کا آخری دن تھا۔ پھانسی سے قبل انہوں نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ اپنے معاملات کو سمیٹا، ذاتی سامان اپنے ملازمین کے حوالے کیا اور سبز لباس زیب تن کیا۔ صرف 25 برس کی عمر میں وہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ پھانسی کے تختے کی طرف بڑھے۔
تاریخی روایت کے مطابق نواب شمس الدین نے خود اپنے گلے میں پھندا ڈالا اور تختۂ دار پر جھول گئے۔ عینی شاہد بیکن کے مطابق پھانسی کے دوران بھی ان کے پاؤں سے چپلیں تک نہیں گریں۔ یہ منظر دیکھنے کے لیے تقریباً دو ہزار افراد جمع تھے۔ ان میں الور کے راجا، مہاراجہ ہندو راؤ، گوالیار، پٹیالہ، نابھہ اور کیتھل کے سرداروں سمیت کئی ممتاز شخصیات شامل تھیں۔ نواب شمس الدین احمد خاں کی نمازِ جنازہ مولانا شاہ محمد اسحاق نے پڑھائی اور اس میں تقریباً 8 ہزار افراد شریک ہوئے۔
نواب شمس الدین کی شخصیت اور فریزر کے قتل کے محرکات پر تاریخ میں مختلف آرا موجود ہیں۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ برطانوی اقتدار کے ابتدائی دور میں مقامی حکمرانوں اور کمپنی کے افسران کے درمیان کشیدگی انتہائی شدید تھی۔ نواب شمس الدین ایک ایسے مقدمے میں موت کی سزا سے دوچار ہوئے جس کے شواہد اور عدالتی کارروائی پر بعد کے ادوار میں سوالات بھی اٹھائے گئے۔
ان کی موت نے انہیں تاریخ میں ایک ایسے کردار کے طور پر محفوظ کردیا جو کم عمری میں نوآبادیاتی اقتدار سے ٹکرایا اور بالآخر تختۂ دار تک پہنچا۔ ولیم فریزر کے بارے میں معروف مؤرخ ولیم ڈیلریمپل نے بھی اپنی تصنیف میں اسے ’وائٹ مغل‘ کے تصور سے جوڑا ہے۔
نواب شمس الدین احمد خاں کی داستان صرف ایک قتل اور ایک پھانسی کی داستان نہیں، بلکہ یہ اس دور کی سیاسی کشمکش، نوآبادیاتی طاقت، مقامی ریاستوں کی بے بسی اور مزاحمت کی ایک پیچیدہ تصویر بھی پیش کرتی ہے۔ ان کی شہادت کو اسی تاریخی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔