
علامتی تصویر / اے آئی
انسانی فکر کی پوری تاریخ پر اگر ایک غیر جانب دار نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا سب سے قدیم اور بنیادی سوال یہ نہیں تھا کہ وہ کون سی تہذیب سے تعلق رکھتا ہے یا کس زبان میں گفتگو کرتا ہے، بلکہ یہ تھا کہ اس کا خالق کون ہے۔ یہی سوال بعد میں مذہب، فلسفے، اخلاق، قانون اور تہذیب کی بنیاد بنا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا تصور انسانی شعور کا سب سے پہلا اور سب سے بنیادی تصور ہے، اور اسی تصور کی بنیاد پر انسان اپنی پوری زندگی کی تعبیر متعین کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کا مسئلہ محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ انسانی فکر کی اساس ہے۔
اسلام کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ انسان کی ابتدا توحید سے ہوئی ہے، شرک سے نہیں۔ حضرت آدمؑ سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیائے کرام ایک ہی دعوت لے کر آئے: خالق ایک ہے، معبود ایک ہے اور بندگی بھی اسی ایک کے لیے ہے۔ یہ محض عقیدے کا بیان نہیں بلکہ تاریخِ نبوت کا مسلسل اور غیر منقطع ریکارڈ ہے۔ اگر انبیائے کرام کی پوری تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے کہ کسی ایک نبی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ انسانوں کو متعدد خداؤں کی عبادت کی دعوت دینے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ یہ تاریخی تسلسل اپنی ذات میں ایک غیر معمولی دلیل ہے۔ اگر کثرتِ معبود ہی اصل مذہب ہوتا تو کم از کم تاریخ میں ایک ایسی نبوی روایت ضرور محفوظ ہوتی جو اس کی تائید کرتی، لیکن ایسا نہیں ہے۔
یہ استدلال صرف مذہبی روایت تک محدود نہیں رہتا بلکہ عقل بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ پوری کائنات ایک ہی نظم پر قائم ہے۔ کہکشاؤں کی گردش ہو یا زمین کی کششِ ثقل، پانی کی ساخت ہو یا زندگی کے حیاتیاتی قوانین، ہر جگہ ایک حیرت انگیز وحدت اور ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے۔ نظم ہمیشہ ایک مرکز کا تقاضا کرتا ہے۔ جہاں اختیارات تقسیم ہوتے ہیں وہاں تصادم پیدا ہوتا ہے، لیکن جہاں قانون ایک ہو، حکمت ایک ہو اور نظام ایک ہو، وہاں خالق کا ایک ہونا زیادہ منطقی اور معقول معلوم ہوتا ہے۔ وحدتِ نظام، وحدتِ خالق کی خاموش مگر مسلسل گواہی ہے۔
انسانی فطرت بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ دنیا کی مختلف قوموں، نسلوں اور تہذیبوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نام مختلف ضرور ہیں، مگر ایک اعلیٰ، برتر اور قادرِ مطلق ہستی کا تصور تقریباً ہر جگہ موجود ہے۔ عربی میں اللہ، فارسی میں خدا، سنسکرت میں ایشور اور پرماتما، عبرانی میں ایل اور ایلوہ، انگریزی میں God، لاطینی میں Deus اور یونانی میں Theos جیسے الفاظ اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مختلف زبانوں نے ایک اعلیٰ اور واحد ہستی کے لیے مستقل الفاظ محفوظ رکھے ہیں۔ اس کے برعکس متعدد خداؤں کے نام ہر تہذیب میں الگ الگ ہیں اور ان کی فہرستیں وقت اور مقام کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ لسانیات بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسانی شعور نے پہلے ایک برتر ہستی کو پہچانا، بعد میں مختلف قوتوں اور شخصیات کو اس کے ساتھ شریک کیا۔
تاریخ بھی یہی کہانی سناتی ہے۔ شرک کسی نبی کی دعوت کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی انحراف کا نتیجہ ہے۔ ابتدا میں انسان نے بعض غیر معمولی شخصیات کا احترام کیا، پھر احترام تقدیس میں بدلا اور آخرکار عبادت میں تبدیل ہو گیا۔ کہیں سورج، چاند اور ستارے تقدس اختیار کر گئے، کہیں درخت، دریا اور پہاڑ مقدس بن گئے، کہیں بادشاہوں اور بزرگوں کو الوہیت کے درجے پر پہنچا دیا گیا۔ گویا شرک ایک تدریجی تاریخی عمل تھا، نہ کہ آسمانی ہدایت کا حصہ۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر متعدد خداؤں کی پرستش خدا ہی کی مرضی ہوتی تو کیا وہ اس کی تعلیم دینے کے لیے بھی رسول نہ بھیجتا؟ تاریخ میں ہمیں ہزاروں انبیاء کی دعوت کا ذکر ملتا ہے، لیکن کسی ایک نبی کی دعوت بھی کثرتِ معبود پر قائم نہیں ملتی۔ اس کے برعکس ہر نبی نے انسان کو اس کے اصل مرکز کی طرف بلایا۔ یہ حقیقت اس نظریے کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ توحید ہی اصل دعوت تھی اور شرک اس سے انحراف کا نام ہے۔
مذہبیات کے میدان میں بھی بعض محققین نے اس موضوع پر توجہ دی ہے۔ آسٹریا کے ماہرِ بشریات ولہیم شمٹ نے بھی قدیم قبائل کے عقائد کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا کہ ابتدائی انسانی معاشروں میں ایک اعلیٰ خدا کا تصور موجود تھا اور بعد میں مختلف دیوتاؤں کا نظام وجود میں آیا۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ توحید کو انسانی مذہبی تاریخ کے ایک قدیم تصور کے طور پر سنجیدہ علمی بحث کا موضوع بنایا گیا ہے۔
توحید کا اثر صرف عقیدے تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب معبود ایک ہو تو انسان کی وفاداری تقسیم نہیں ہوتی، اس کا معیارِ اخلاق ایک رہتا ہے، اس کی عبادت خالص رہتی ہے، اس کی امید ایک رہتی ہے اور اس کی جواب دہی بھی ایک ہی ذات کے سامنے ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب انسان مختلف قوتوں کو اپنی تقدیر کا مالک سمجھنے لگتا ہے تو اس کا فکری اور اخلاقی مرکز بھی بکھر جاتا ہے۔
اسی لیے انبیائے کرام کی بعثت کا مقصد کسی نئے خدا کو متعارف کرانا نہیں تھا بلکہ انسان کو اس کے بھولے ہوئے عہد کی یاد دلانا تھا۔ ان کی دعوت ایک نئے مذہب کی نہیں بلکہ اسی ابدی حقیقت کی تجدید تھی جس پر انسانیت کی ابتدا ہوئی تھی۔
اگر نبوت کی پوری تاریخ ایک خدا کی طرف بلاتی ہے، اگر عقل وحدتِ نظام سے وحدتِ خالق کا استدلال کرتی ہے، اگر انسانی فطرت ایک اعلیٰ ہستی کی جستجو رکھتی ہے، اگر دنیا کی بڑی زبانیں ایک برتر خدا کے لیے مستقل الفاظ محفوظ رکھتی ہیں، اگر تاریخ میں شرک ہمیشہ اصل عقیدے پر اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے، تو اس نتیجے سے انکار آسان نہیں رہتا کہ توحید محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ انسانی شعور، انسانی فطرت اور انسانی تاریخ کی اصل بنیاد ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نبوت کی پوری تاریخ کسی نئے خدا کی تلاش کی تاریخ نہیں بلکہ انسان کو اس ایک خدا کی طرف واپس بلانے کی تاریخ ہے جس سے اس کا آغاز ہوا، جس کی طرف اس کی ہدایت آئی اور جس کی طرف اسے بالآخر لوٹ کر جانا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔