
علامتی تصویر
نئی دہلی: خواتین ریزرویشن بل اور حدبندی کے گرد گھومتی سیاسی کہانی میں ایک اور غیر متوقع موڑ اس وقت آیا جب لوک سبھا میں جاری بحث کے بیچ مرکزی حکومت نے اچانک ایک گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 2023 کے قانون کو 16 اپریل 2026 سے نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت نے نہ صرف پارلیمنٹ میں جاری بحث کو ایک نئی سمت دی بلکہ سیاسی حلقوں میں کئی سوالات اور قیاس آرائیاں بھی جنم دے دی ہیں۔
Published: undefined
یہ قانون، جسے 2023 میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کے نام سے منظور کیا گیا تھا، پہلے ہی دو اہم شرائط یعنی مردم شماری اور اس کے بعد ہونے والی حدبندی سے مشروط تھا۔ اس کے باوجود، حکومت نے ایسے وقت میں اس کے نفاذ کا اعلان کیا جب اسی موضوع پر ترمیمی بل پر بحث جاری ہے۔ اس اچانک فیصلے کی کوئی واضح سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث اپوزیشن نے اسے ایک سیاسی چال قرار دیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ اگر موجودہ خصوصی پارلیمانی اجلاس میں پیش کیے گئے ترمیمی بل منظور نہیں ہو پاتے، تو 2023 کا اصل قانون غیر مؤثر ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق، حکومت نے اسی خدشے کو ختم کرنے کے لیے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا تاکہ اصل قانون کو برقرار رکھا جا سکے۔ کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے اس اقدام کو “انتہائی عجیب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ترمیمات پر بحث جاری ہے تو نفاذ کا اعلان غیر معمولی ہے۔
Published: undefined
دوسری جانب کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے پیچھے ایک اور حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے اپوزیشن کے سامنے ایسے متبادل رکھے ہیں جنہیں قبول کرنا آسان نہیں۔ ایک طرف 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر نئی حدبندی اور نشستوں میں اضافہ، اور دوسری طرف موجودہ ڈھانچے کے ساتھ 2027 کی مردم شماری کا انتظار—یہ دونوں راستے سیاسی طور پر حساس ہیں۔ اس صورت حال میں حکومت کو امید ہے کہ اپوزیشن کے اندر اختلافات پیدا ہوں گے۔
آئینی ترمیمی بل کو منظور کرانے کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوتی ہے، جس کے تحت موجود اور ووٹ دینے والے اراکین میں دو تہائی حمایت ضروری ہوتی ہے، اور یہ تعداد ایوان کی کل رکنیت کے نصف سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ موجودہ حالات میں لوک سبھا میں حکومت کے پاس مطلوبہ تعداد سے واضح کمی ہے، جس کے باعث اس کے لیے بل کی منظوری ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
Published: undefined
اعداد و شمار بھی اس مشکل کو واضح کرتے ہیں۔ حالیہ ووٹنگ میں، جب بل پیش کیا گیا، تو حکومت کو مکمل حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ اس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ حتمی ووٹنگ میں بھی صورت حال پیچیدہ رہ سکتی ہے۔ اس تناظر میں حکومت کے سامنے تین واضح راستے موجود ہیں:
1۔ حکومت بل کو ووٹنگ کے لیے پیش کرے، ممکنہ شکست کا سامنا کرے اور اس کے بعد اپوزیشن کو خواتین کے حقوق کے خلاف قرار دے کر سیاسی بیانیہ قائم کرے۔
2۔ بل میں مزید ترمیم پیش کرے، خاص طور پر جنوبی ریاستوں کے خدشات کو دور کرے تاکہ حمایت حاصل کی جا سکے۔
3۔ اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرے اور بل کو مزید غور کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کر دے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined