فکر و خیالات

میسی کی آمد کبھی نہیں ہوئی، لیکن کیرالہ اب بھی ان کا میچ کھیل رہا!... کے اے شاجی

منسوخ شدہ ’میسی کا میچ‘ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سیاسی جوش ’مقرر کردہ عمل‘ سے آگے نکل سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>میسی، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/FIFAWorldCup">@FIFAWorldCup</a></p></div>

میسی، تصویر ’ایکس‘ @FIFAWorldCup

 

لیونل میسی کے ساتھ کیرالہ کا ایک غیر معمولی رشتہ ہے۔ 2022 کے عالمی کپ کے بعد ارجنٹائنا کا نیلا اور سفید رنگ یہاں تقریباً دوسرا قومی پرچم بن گیا۔ اس لیے جب سابق پینارائی وجین کی قیادت والی ایل ڈی ایف (لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ) حکومت نے ارجنٹائنا کے چیمپئنز کو کیرالہ لانے کا وعدہ کیا تو یہ محض ایک دوستانہ میچ کا اعلان نہیں تھا، بلکہ یہ لاکھوں لوگوں کو ایک خواب فروخت کرنے کے مترادف تھا۔

اُس وقت کے وزیر کھیل وی عبد الرحمان اس خواب کے سب سے پرجوش تشہیرکار بن گئے۔ جولائی 2023 میں انہوں نے ارجنٹائنا کے دورہ کا اعلان کیا اور حامیوں کو مسلسل یقین دہانی کراتے رہے۔ جون 2025 میں مشہور وعدہ سامنے آیا: ’میسی واروم ٹا‘، یعنی میسی آئیں گے۔ حالانکہ وہ کبھی نہیں آئے۔ یہ خواب ایک ایسی کہانی میں تبدیل ہو گیا جہاں فٹ بال، سیاست، پرائیویٹ کاروبار اور مالیات آپس میں ٹکرا گئے۔

اب نئی وی ڈی ستیسن کی قیادت والی یو ڈی ایف (یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ) حکومت اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے، کیونکہ محکمہ کھیل کی تحقیقات میں طریقہ کار و مالی معاملات میں سنگین بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ کچھ اہم سوالات کھڑے ہوئے ہیں، مثلاً ارجنٹائنا فٹ بال ایسوسی ایشن (اے ایف اے) کی جانب سے حتمی تصدیق سے پہلے ارجنٹائنا کے منصوبے کو کیوں آگے بڑھایا گیا؟ حکومت کی جانب سے فروغ دیے گئے پروگرام میں ایک پرائیویٹ کمپنی کو کیوں شامل کیا گیا؟ اس کمپنی کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

رپورٹر براڈکاسٹنگ کمپنی، جو ملیالم نیوز چینل ’رپورٹر ٹی وی‘ چلاتی ہے، اس پورے پروگرام کا کمرشیل چہرہ بن گئی۔ اس کے مرکز میں اس کے منیجنگ ڈائریکٹر انٹو آگسٹین تھے۔ انٹو کا انتخاب خاص طور پر حیرت انگیز ہے، کیونکہ وہ اور ان کے بھائی متعدد تنازعات سے وابستہ رہے ہیں۔ ان پر وائناڈ کے بدنام زمانہ مٹل درخت کٹائی معاملے میں الزامات ہیں، جس میں ’پروٹیکٹیڈ‘ روز ووڈ کے درخت شامل ہیں۔ سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق یہ معاملہ اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہے اور بھائی فی الحال ضمانت پر باہر ہیں۔

انٹو اور ان کے بھائی جوس کٹی کو 2016 میں مینگو فون منصوبے سے متعلق الزامات کے سلسلے میں گرفتار بھی کیا گیا تھا، جو چین میں بنے سستے گیجٹس کے ذریعہ آئی فون کا متبادل پیش کرنے کا ایک عجیب معاملہ تھا۔ یہ معاملہ بھی ابھی زیر التوا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر تنازعات ہیں۔ سابق حکومت کا کہنا تھا کہ بھائیوں نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے اور یہ معاملات قانونی کارروائی کے تابع ہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ ایسے تنازعات میں پھنسے کاروباری شخص کو 210 کروڑ روپے تخمینہ والے پروگرام کی ذمہ داری کیوں سونپی گئی؟

تحقیقات میں پتہ چلا کہ پہلی تجویز ’گوٹ اینڈ گلوبل‘ نامی کمپنی کی جانب سے آئی تھی، جو صرف چند ہفتے قبل قائم کی گئی تھی، جس کا ادا شدہ سرمایہ ایک لاکھ روپے تھا اور اس کا پتہ رپورٹر کے ساتھ مشترک تھا۔ اسپانسر کا انتخاب کھلے ٹینڈر یا اظہار دلچسپی کے بغیر کیا گیا۔ اس کے بعد حکومت نے اپنی شمولیت مزید بڑھا دی۔

اسی دوران عبد الرحمان اور حکام نے 13.04 لاکھ روپے کے خرچ سے اسپین کا سفر کیا۔ حالانکہ تفتیش کاروں کو اے ایف اے کی جانب سے باضابطہ دعوت یا حکومت اور اے ایف اے کے درمیان معاہدے کا کوئی واضح ریکارڈ نہیں ملا۔ پھر فٹ بال ’مالیات‘ میں تبدیل ہو گیا۔ رپورٹر نے اے ایف اے کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور کہا کہ اس نے تقریباً 14.5 ملین ڈالر ’ٹور پروڈ انٹر ایل ایل سی‘ کو منتقل کیے، جو اے ایف اے کی جانب سے رقم وصول کرنے والا ایجنٹ تھا۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اس ادائیگی کا سراغ لگایا، جو 2 قسطوں میں 126.04 کروڑ روپے تھی۔ اس کی رپورٹ میں 25.78 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا الزام لگایا گیا ہے، جس میں ریورس چارج میکانزم کے تحت 22.68 کروڑ روپے کا انٹیگریٹیڈ جی ایس ٹی بھی شامل ہے۔ اس نے 6 غیر ظاہر شدہ بینک اکاؤنٹس کا بھی پتہ لگایا۔ 7 اکاؤنٹس میں 1,098 کروڑ روپے سے زیادہ کے لین دین درج تھے، جن میں سے 234.31 کروڑ روپے جی ایس ٹی میں ظاہر کیے گئے کاروباری ٹرن اوور سے مطابقت نہیں رکھتے تھے اور انہیں مشتبہ طور پر چھپائے گئے کاروباری ٹرن اوور کے طور پر نشان زد کیا گیا۔ رپورٹر کی جانب سے لیے گئے تقریباً 213 کروڑ روپے کے قرضے بھی جانچ کے دائرے میں آ گئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کوچی کا جواہر لال نہرو انٹرنیشنل اسٹیڈیم بھی اس معمے کا حصہ بن گیا۔ مجوزہ میچ کے لیے تزئین و آرائش کا تخمینہ تقریباً 8 کروڑ روپے تھا، جبکہ اسپانسر نے 70 کروڑ روپے کے اخراجات کا دعویٰ کیا۔ اسٹیڈیم کو ایک ایسے لمحے کے لیے تیار کیا گیا جو کبھی آیا ہی نہیں۔ موجودہ وزیر کھیل او جے جنیش نے اشارہ دیا ہے کہ نئی حکومت اس معاملے کو آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’خلاف ورزیوں کو سامنے لانا ہوگا اور ذمہ دار لوگوں کو اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘‘

منسوخ شدہ ’میسی کا میچ‘ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سیاسی جوش ’مقرر کردہ عمل‘ سے آگے نکل سکتا ہے۔ کھیل سے متعلق یقین دہانی پختہ ہونے سے پہلے ہی حکومت کا وعدہ ایک ذاتی تجارتی منصوبے میں تبدیل ہو گیا، ایک متنازعہ کاروباری شخص کو اس کے مرکز میں رکھا گیا اور پروگرام کے عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی ایک بڑی رقم بین الاقوامی سرحدوں کے پار منتقل ہو گئی۔

میسی نے کوچی میں کبھی نہیں کھیلا، لیکن ان کی غیر حاضری نے کیرالہ کے سامنے ایک زیادہ اہم ’کھیل‘ کو لا کھڑا کیا ہے۔ اب حکومت پوچھ رہی ہے کہ اس کھیل کی اجازت کس نے دی، قواعد کو کیوں نظر انداز کیا گیا اور پہلی سیٹی بجنے سے پہلے کس کو فائدہ پہنچا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔