فکر و خیالات

مہاتما گاندھی، اپنے اقوال اور تحریکوں کے آئینے میں

بابائے قوم مہاتما گاندھی کے بہت سے اقوال آج بھی دنیا بھر میں امن، انصاف اور انسانی حقوق کے مباحث میں بطور حوالہ استعمال کیے جاتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>مہاتما گاندھی، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/akashvanipune">@akashvanipune</a></p></div>

مہاتما گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @akashvanipune

 

مہاتما گاندھی کے اقوال محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ان کی زندگی، جدوجہد اور سیاسی و سماجی فکر کا نچوڑ ہیں۔ گاندھی نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں سچائی، عدم تشدد، عدم تعاون، خود انحصاری اور مذہبی رواداری جیسے اصولوں کو عملی سیاست کا حصہ بنایا۔ ان کے بہت سے اقوال آج بھی دنیا بھر میں امن، انصاف اور انسانی حقوق کے مباحث میں حوالہ دیے جاتے ہیں۔ ان اقوال کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ان کی زندگی کے بعض اہم تاریخی واقعات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

سچائی کو زندگی کا اصول بنانا

گاندھی کی فکر میں سچائی کو بنیادی مقام حاصل تھا۔ ان کی خود نوشت کا عنوان ہی ’دی اسٹوری آف مائی ایکسپریمنٹس وِتھ ٹروتھ‘ (سچائی کے ساتھ میرے تجربات کی کہانی) تھا۔ ان کے نزدیک سچ صرف بولنے کی چیز نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک طریقہ تھا۔ وہ سچائی کو اخلاقی طاقت سمجھتے تھے اور اسی بنیاد پر اپنے سیاسی فیصلے کرتے تھے۔

گاندھی کی سچائی سے وابستگی کی جڑیں ان کے بچپن کے تجربات میں بھی ملتی ہیں۔ بعد میں جنوبی افریقہ میں قیام کے دوران انہیں نسل پرستانہ امتیاز کا سامنا کرنا پڑا۔ 1893 میں پیٹرمیرٹزبرگ ریلوے اسٹیشن پر فرسٹ کلاس ٹکٹ ہونے کے باوجود انہیں ٹرین کے ڈبے سے باہر پھینک دیا گیا۔ اس واقعے نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے ناانصافی کے خلاف جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، لیکن تشدد کو اپنا ذریعہ نہیں بنایا۔

عدم تشدد: کمزوری نہیں، اخلاقی طاقت

گاندھی کے سب سے معروف اصولوں میں ’عدم تشدد‘ شامل ہے۔ ان کے نزدیک عدم تشدد محض تشدد سے اجتناب کا نام نہیں تھا بلکہ مخالف کے خلاف بھی نفرت نہ رکھنے کا اصول تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ظلم کا مقابلہ اخلاقی قوت، سچائی اور پُرامن مزاحمت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظریہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں کئی مواقع پر عملی طور پر سامنے آیا۔ 1920 میں گاندھی کی قیادت میں ’تحریک عدم تعاون ‘ شروع ہوئی۔ لوگوں سے سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور غیر ملکی اشیا کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی۔ اس تحریک نے برطانوی حکومت کے خلاف عوامی سطح پر ایک نئی سیاسی بیداری پیدا کی۔

تاہم 1922 کے ’چوری چورا واقعے‘ کے بعد، جب مظاہرین نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی اور کئی پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، گاندھی نے عدم تعاون تحریک واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ ان کے لیے آزادی کی جدوجہد کا مقصد اہم تھا، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے تشدد کا استعمال قابل قبول نہیں تھا۔ یہ واقعہ ان کے سیاسی فلسفے کی ایک اہم مثال بن گیا۔

نمک مارچ اور ستیہ گرہ

گاندھی کے ایک اور اہم تصور ’ستیہ گرہ‘ کا مطلب سچائی پر قائم رہتے ہوئے ناانصافی کے خلاف پُرامن مزاحمت تھا۔ 1930 کا نمک مارچ اس تصور کی تاریخی مثال ہے۔ برطانوی حکومت نے نمک کی پیداوار اور فروخت پر قانون کے ذریعے اپنا کنٹرول قائم کر رکھا تھا۔ گاندھی نے اس قانون کے خلاف احتجاج کے لیے سابرمتی آشرم سے دانڈی تک تقریباً 240 میل کا پیدل سفر کیا۔ 12 مارچ 1930 کو شروع ہونے والا یہ مارچ 6 اپریل کو دانڈی پہنچا، جہاں گاندھی نے سمندر کے پانی سے نمک بنا کر نمک قانون کی خلاف ورزی کی۔ نمک مارچ نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک کو عالمی توجہ دلائی۔ اس واقعے کی اہمیت صرف نمک کے قانون کی مخالفت تک محدود نہیں تھی۔ اس نے عام لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ پُرامن طریقے سے نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف مزاحمت میں براہ راست حصہ لے سکتے ہیں۔

خود انحصاری اور ’سودیشی‘

گاندھی کا ایک اہم پیغام ’سودیشی‘ یعنی مقامی اشیا کے استعمال اور خود انحصاری سے متعلق تھا۔ وہ غیر ملکی کپڑوں کے بائیکاٹ اور کھادی کے استعمال پر زور دیتے تھے۔ چرخہ ان کی تحریک کی ایک نمایاں علامت بن گیا۔ گاندھی کے نزدیک چرخہ صرف کپڑا تیار کرنے کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ معاشی خود انحصاری، محنت کی عزت اور دیہی ہندوستان کی ترقی کی علامت تھا۔ ان کا خیال تھا کہ آزادی کا مطلب صرف برطانوی اقتدار کا خاتمہ نہیں بلکہ عام لوگوں کو معاشی اور سماجی طور پر مضبوط بنانا بھی ہے۔

’کرو یا مرو‘ اور بھارت چھوڑو تحریک

8 اگست 1942 کو بمبئی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اجلاس میں ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کی قرارداد منظور کی گئی۔ اسی موقع پر گاندھی نے ’کرو یا مرو‘ کا نعرہ دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ برطانوی حکومت ہندوستان سے اقتدار منتقل کرے۔ اس تحریک کے فوراً بعد گاندھی سمیت کانگریس کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں تحریک جاری رہی۔ بھارت چھوڑو تحریک آزادی کی جدوجہد کے آخری بڑے عوامی مرحلوں میں شمار ہوتی ہے۔

مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی

گاندھی کے لیے آزادی کا تصور مذہبی رواداری سے الگ نہیں تھا۔ وہ ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر طبقات کے درمیان اتحاد کے حامی تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہندوستان کی طاقت اس کے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے باہمی احترام میں ہے۔ تقسیم ہند کے دوران جب فرقہ وارانہ تشدد پھیلا تو گاندھی نے امن قائم کرنے کے لیے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ 1947 میں وہ کلکتہ اور بعد میں دہلی میں فرقہ وارانہ امن کے لیے سرگرم رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دن بھی مذہبی ہم آہنگی اور امن کے پیغام کو اہمیت دی۔

اقوال کی آج بھی اہمیت

گاندھی کا ایک معروف قول ہے ’آپ کو وہ تبدیلی خود بننا ہوگا جو آپ دنیا میں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘ اس قول میں فرد کی ذمہ داری کا تصور نمایاں ہے۔ معاشرے میں تبدیلی صرف دوسروں سے مطالبہ کرنے سے نہیں آتی بلکہ فرد کو بھی اپنے عمل سے مثال قائم کرنا پڑتی ہے۔ اسی طرح گاندھی کا ایک اہم پیغام یہ تھا کہ ’کمزور کبھی معاف نہیں کر سکتا، معافی طاقتور کی صفت ہے۔‘ اس فکر میں انتقام کے بجائے اخلاقی قوت اور برداشت پر زور ملتا ہے۔ گاندھی کا یہ تصور بھی اہم ہے کہ ’آنکھ کے بدلے آنکھ کا اصول پوری دنیا کو اندھا بنا سکتا ہے۔‘ یہ قول تشدد کے مسلسل دائرے کے خلاف ان کے بنیادی مؤقف کی ترجمانی کرتا ہے۔

بہرحال، مہاتما گاندھی کی سیاسی جدوجہد اور ان کے ستیہ گرہ، عدم تشدد، خود انحصاری اور مذہبی ہم آہنگی کے تصورات نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک اور دنیا بھر کی کئی عدم تشدد پر مبنی تحریکوں پر نمایاں اثر ڈالا۔ اسی لیے گاندھی کے اہم اقوال کو صرف یاد رکھنے کے بجائے ان کے تاریخی پس منظر اور عملی زندگی کے واقعات کے ساتھ سمجھنا زیادہ معنی خیز ہے۔ ان کے لیے قول اور عمل کے درمیان تعلق بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر آج بھی تاریخ، سیاست، سماج اور اخلاقیات کے مطالعے میں زیر بحث رہتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔