فکر و خیالات

اسلام: انسانیت کا ازلی، آفاقی اور ابدی دین...ایف اے مجیب

اسلام کسی نسل، زبان یا جغرافیہ کا دین نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے خدا کا ابدی پیغام ہے۔ اس کی بنیاد توحید، عدل، اخلاق اور انسانی فلاح پر قائم ہے، جو حضرت آدمؑ سے قیامت تک انسان کی رہنمائی کرتا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

 انسان کی تاریخ دراصل صرف تہذیبوں، سلطنتوں اور ایجادات کی تاریخ نہیں، بلکہ ہدایت کی تاریخ بھی ہے۔ جب زمین پر زندگی کا آغاز ہوا تو انسان کو محض جسم، عقل اور جبلت دے کر بے سہارا نہیں چھوڑ دیا گیا، بلکہ اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا مقصد، اخلاقی اصول اور خدا کی معرفت بھی عطا کی گئی۔ اسی لیے انسانی تاریخ کا پہلا باب کسی بادشاہ، فلسفی یا قانون ساز سے نہیں، بلکہ پہلے انسان اور پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ انسان کا پہلا مذہب شرک، الحاد یا بت پرستی نہیں تھا، بلکہ خدا کی وحدانیت پر مبنی وہی دین تھا جسے قرآن "اسلام" کہتا ہے؛ یعنی اپنے آپ کو اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھکا دینا۔

اسلام کو اگر صرف ساتویں صدی عیسوی میں جزیرۂ عرب سے وابستہ مذہب سمجھا جائے تو یہ اس کے حقیقی تصور کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نیا مذہب لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ وہ اسی سلسلۂ ہدایت کی آخری اور مکمل کڑی تھے جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ، داؤد، سلیمان، عیسیٰ علیہم السلام اور بے شمار دیگر انبیاء کے ذریعے جاری رہا۔ تمام انبیاء کی دعوت کا مرکز ایک ہی تھا: ایک خدا کی بندگی، اخلاقی زندگی، انصاف، آخرت کی جواب دہی اور انسانی فلاح۔

انسانی آبادی جیسے جیسے مختلف علاقوں میں پھیلتی گئی، اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر خطے میں اپنے رسول بھیجے تاکہ کوئی قوم ہدایت سے محروم نہ رہے۔ اگرچہ ان تمام انبیاء کے نام آج محفوظ نہیں، لیکن یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ دنیا کی تقریباً ہر قدیم تہذیب میں کسی نہ کسی صورت ایک اعلیٰ ہستی، نیکی اور بدی، جزا و سزا، جنت اور دوزخ، عبادت، قربانی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا تصور موجود ہے۔ ہندوستان، چین، ایران، مصر، یونان اور دیگر قدیم تہذیبوں کے مذہبی افکار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انسانی شعور میں الوہیت کا تصور کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں تحریف، اساطیر، دیومالائی عناصر اور انسانی خواہشات شامل ہوتی چلی گئیں۔

یہی انسانی تاریخ کا ایک مستقل المیہ بھی ہے۔ اللہ کی طرف سے آنے والی تعلیمات خالص تھیں، لیکن انسان نے وقت کے ساتھ ان میں اضافہ، کمی، تاویل اور تبدیلی کر دی۔ کہیں خدا کی وحدانیت کو متعدد خداؤں میں تقسیم کر دیا گیا، کہیں نبیوں کو خدائی مقام دے دیا گیا، کہیں مذہب کو نسلی برتری کا ذریعہ بنا لیا گیا اور کہیں روحانیت کو رہبانیت میں تبدیل کر دیا گیا۔ یوں اصل پیغام دھندلا گیا، اگرچہ اس کے آثار باقی رہے۔

اسی پس منظر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو سمجھنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نئے نظریے کے بانی نہیں تھے، بلکہ اصل الٰہی دین کے آخری اور کامل ترجمان تھے۔ آپ پر نازل ہونے والی شریعت نے دینِ ابراہیمی کی تجدید کی، توحید کو اس کی اصل شکل میں پیش کیا، بدعات اور تحریفات کا خاتمہ کیا اور انسانیت کو ایک ایسا جامع نظام عطا کیا جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

اسلام کی بنیاد چند سادہ مگر نہایت گہری حقیقتوں پر قائم ہے۔ سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا خالق اور مالک صرف ایک اللہ ہے، جو اپنی تمام کامل صفات کے ساتھ عبادت اور اطاعت کا مستحق ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنے منتخب بندوں، یعنی انبیاء و رسل، کو بھیجا۔ تیسری حقیقت یہ ہے کہ دنیا دائمی قیام گاہ نہیں بلکہ امتحان گاہ ہے۔ چوتھی حقیقت یہ کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی ہوگی، حساب ہوگا اور کامل انصاف کے ساتھ ہر انسان کو اس کے ایمان اور اعمال کے مطابق جزا یا سزا دی جائے گی۔ اسلام کے نزدیک آخرت کا تصور محض مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ انسانی اخلاق، ذمہ داری اور عدل کی بنیاد ہے۔

اسلام کو صرف چند عبادات کا مجموعہ سمجھنا بھی ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ اس میں عبادت ہے تو معاشرت بھی، اخلاق ہے تو معیشت بھی، خاندان ہے تو ریاست بھی، انفرادی اصلاح ہے تو اجتماعی عدل بھی۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج یقیناً بنیادی عبادات ہیں، لیکن اسلام انہیں نجات کا واحد معیار قرار نہیں دیتا۔ والدین کے حقوق، میاں بیوی کے تعلقات، بچوں کی تربیت، پڑوسیوں سے حسنِ سلوک، یتیموں اور مسکینوں کی خبرگیری، دیانت دار تجارت، انصاف پر مبنی حکومت، وعدوں کی پابندی، قانون کی اطاعت اور اجتماعی نظم کی پاسداری بھی اسی دین کا لازمی حصہ ہیں۔ ایمان اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔

اسلام کا تصورِ انسان بھی نہایت متوازن ہے۔ انسان نہ تو پیدائشی طور پر گناہ گار ہے اور نہ خدائی صفات کا حامل۔ وہ اللہ کا بندہ، زمین پر اس کا خلیفہ اور اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ اسے عقل دی گئی، اختیار دیا گیا اور ہدایت بھی عطا کی گئی۔ اب اس کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی آزادی کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اگر انسانی تاریخ کو غیر جانب دارانہ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زمانے بدلتے رہے، زبانیں بدلتی رہیں، تہذیبیں بنتی اور مٹتی رہیں، مگر جن بنیادی اخلاقی اصولوں پر تمام انبیاء نے زور دیا، وہ کبھی نہیں بدلے۔ سچائی، انصاف، امانت، رحم، عفت، صبر، شکر، والدین کا احترام، کمزوروں کی مدد اور ایک خدا کی بندگی ہر دور میں الٰہی ہدایت کا مرکز رہے۔ یہی وہ آفاقی اقدار ہیں جو اسلام کو محض ایک مذہبی شناخت نہیں بلکہ انسانی فطرت کے مطابق ایک ہمہ گیر ضابطۂ حیات بناتی ہیں۔

اسی معنی میں اسلام کو فطرت کا دین کہا جاتا ہے۔ فطرت انسان کو اپنے خالق کی طرف متوجہ کرتی ہے، عدل کو پسند کرتی ہے، ظلم سے نفرت کرتی ہے، سچائی کو قبول کرتی ہے اور اخلاقی حسن کو سراہتی ہے۔ اسلام انہی فطری میلانات کی تربیت کرتا ہے، انہیں متوازن بناتا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کی عملی صورت متعین کرتا ہے۔

اگر "سناتن" کے لفظ کا لغوی مفہوم دیکھا جائے، یعنی ازلی، دائمی اور ہمیشہ رہنے والا، تو اسلام اپنے دعوے کے مطابق اسی معنی میں ایک ابدی دین ہے۔ اس کی ابتدا حضرت آدم علیہ السلام سے ہوتی ہے، اس کی تکمیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوتی ہے اور اس کی رہنمائی قیامت تک باقی رہتی ہے۔ یہ کسی نسل، زبان یا جغرافیے کا دین نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے خدا کا پیغام ہے۔

آج کی دنیا سائنس، ٹیکنالوجی اور مادی ترقی کے باوجود اخلاقی بحران، خاندانی انتشار، معاشی ناانصافی، جنگوں اور روحانی بے چینی سے دوچار ہے۔ ایسے میں اسلام کا پیغام صرف مذہبی رسوم کی دعوت نہیں، بلکہ ایک متوازن انسانی تہذیب کی دعوت ہے، جہاں خدا سے تعلق انسان کو انسان سے جوڑتا ہے، عبادت کردار سنوارتی ہے، قانون انصاف پیدا کرتا ہے اور اخلاق معاشرے کو امن بخشتے ہیں۔

انسانیت کی طویل تاریخ کا غیر جانب دار مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ ہدایت کا سرچشمہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ انبیاء بدلتے رہے، شریعتوں میں وقتی اور جزوی تبدیلیاں آتی رہیں، مگر دین کی بنیاد کبھی نہیں بدلی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس سلسلے کی تکمیل ہوئی اور قرآن مجید کی صورت میں وہ الٰہی ہدایت محفوظ کر دی گئی جو قیامت تک انسان کی رہنمائی کے لیے کافی ہے۔ اس اعتبار سے اسلام محض ایک مذہب نہیں، بلکہ انسان اور اس کے خالق کے درمیان ازل سے قائم عہد کا نام ہے؛ ایک ایسا دین جو ابتدا میں بھی انسانیت کا رہنما تھا، آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔