
علامتی تصویر، سوشل میڈیا
کیرلم کے وائناڈ ضلع میں اناکمپوئل-کلادی-میپڈی ٹنل روڈ پروجیکٹ کے مقام پر ہوئے لینڈ سلائیڈنگ نے لوگوں کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس حادثہ کے بعد پیدا فوری سوالات بہت اہم ہیں... یعنی لینڈ سلائیڈنگ کیوں ہوئی؟ کیا اسے روکا جا سکتا تھا؟ کیا سیکورٹی کے معیارات پر عمل کیا گیا؟ کیا تعمیراتی سرگرمیوں سے ڈھلوان کمزور ہوئی؟ ان سوالات کے جواب اس تکنیکی جانچ سے ملیں گے، جسے وی. ڈی. ستیسن کی قیادت والی یو ڈی ایف حکومت نے شروع کیا ہے۔ اس جانچ میں غیر جانب دار ماہرین کو شامل کیا گیا ہے۔ لیکن بنیادی سوال کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ پینارائی وجین کی قیادت والی سابقہ ایل ڈی ایف حکومت نے اتنے حساس علاقے میں اتنے بڑے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ کو اجازت کیوں دی؟ کیا منصوبہ بندی اور اس کے نفاذ کے دوران ارضیاتی انتباہات پر غور کیا گیا تھا؟ کیا سیاسی فائدے کے چکر میں ماحولیاتی احتیاط کو نظر انداز کر دیا گیا؟ اور ان سب سے بڑھ کر، کیا کیرلم نے گزشتہ دہائی میں اپنے پہاڑوں کو زخمی کرنے والی موسمیاتی آفات سے کچھ سیکھا ہے؟
یہ سوالات اب کیرلم کے سیاسی مباحثے کے مرکز میں ہیں۔ ایسا اس لیے بھی ہے کیونکہ یہ آفت چورلمالا-منڈکئی پہاڑوں سے محض پانچ کلومیٹر دور ہوئی ہے، جہاں 2024 میں آنے والی بھیانک لینڈ سلائیڈنگ میں 298 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن کے سامنے حکمرانی کے اولین بڑے چیلنجوں میں سے ایک وہی پروجیکٹ ہے، جس کی انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے مسلسل مخالفت کی تھی۔ ستیسن کا استدلال تھا کہ اس سرنگ کو کہیں زیادہ ارضیاتی اور ماحولیاتی جانچ کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ مغربی گھاٹ کے سب سے حساس حصوں میں سے ایک سے ہو کر گزرتی ہے۔ اس وقت ان کے اعتراضات کو سیاست سے متاثر قرار دے کر مسترد کر دیا گیا تھا۔ پروجیکٹ کے حامیوں نے ان پر ترقی میں رکاوٹ ڈالنے اور وائناڈ کو بہتر رابطے سے محروم کرنے کا الزام لگایا تھا۔ سوشل میڈیا مہمات میں ماحولیاتی خدشات کو محض خوف پھیلانا قرار دیا گیا تھا۔ لیکن بنیادی ڈھانچہ جغرافیہ سے الگ وجود نہیں رکھ سکتا۔ اس کا راستہ ایک ایسے علاقے سے ہو کر گزرتا ہے، جسے سائنسی جائزوں میں بار بار ارضیاتی طور پر انتہائی کمزور اور لینڈ سلائیڈنگ کے لیے حساس قرار دیا گیا ہے۔ وائناڈ واقع ’ہیوم سینٹر فار ایکولوجی اینڈ وائلڈ لائف بایولوجی‘ کے ماہرِ ماحولیات سی. کے. وشنوداس طویل عرصے سے یہ دلیل دیتے رہے ہیں کہ پہاڑی ماحولیاتی نظاموں کو صرف روایتی انجینئرنگ کے حسابات سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ مغربی گھاٹ صرف چٹانوں کی قطاریں نہیں ہیں، جنہیں کاٹ دیا جائے۔ یہ متحرک ارضیاتی نظام ہیں، جہاں چٹانیں، زیر زمین پانی کی حرکت، نباتات، پانی کی نکاسی اور بارش پیچیدہ طریقوں سے ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔ اس نظام کے ایک حصے کو بھی متاثر کرنے سے دوسری جگہوں پر تبدیلیاں شروع ہو سکتی ہیں، جن کا اثر فوری طور پر نہیں بلکہ آہستہ آہستہ سامنے آتا ہے۔
کوچین یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے معروف ماہر موسمیات ایس ابھیلاش کا ماننا ہے کہ یہ سمجھ اب انتہائی اہم ہو چکی ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کیرلم میں بارش کے انداز کو تبدیل کر رہی ہے۔ کم وقت میں شدید بارش کے واقعات اب عام ہو گئے ہیں۔ جو ڈھلوانیں کئی دہائیوں تک مستحکم رہیں، وہ اب ان حالات میں منہدم ہو رہی ہیں، جنہیں کبھی غیر معمولی سمجھا جاتا تھا۔ ایسے علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کے لیے ایسی ارضیاتی جانچ کی ضرورت ہوتی ہے، جو عام سروے سے کہیں آگے جاتی ہو۔ سُرنگ کو لے کر جاری تنازعہ ترقی کے 2 متضاد نقطۂ نظر کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک نقطۂ نظر بنیادی ڈھانچے کو بنیادی طور پر ایک معاشی ضرورت کے طور پر دیکھتا ہے۔ دوسرے کا استدلال ہے کہ موسمیاتی اعتبار سے حساس پہاڑی علاقوں میں پروجیکٹوں کے لیے اعلیٰ معیار کی سائنسی جانچ ضروری ہے، کیونکہ یہاں کی غلطیاں ناقابلِ تلافی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔ اس دوسرے نقطۂ نظر کو برسوں تک سیاسی قبولیت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑی۔ ماحولیاتی خدشات اور سائنسی احتیاط کو اکثر ترقی مخالف سمجھا گیا۔ بے آرام کرنے والے سوالات پوچھنے والوں کو ترقی مخالف قرار دیا گیا۔ جیسا کہ معروف ماحولیاتی کارکن شری دھر رادھا کرشنن بتاتے ہیں، حالیہ لینڈ سلائیڈنگ نے ایک بار پھر توجہ ’پروجیکٹ کے تصور، منظوری اور نفاذ کے دوران لیے گئے فیصلوں پر مرکوز کر دی ہے۔ ... جن سوالات کو پہلے صرف طریقۂ کار سے متعلق اعتراضات سمجھا جاتا تھا، وہ اب سرکاری جانچ کا حصہ ہیں۔‘
ستیسن حکومت نے کام روک دیا ہے اور ایک اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو نہ صرف یہ معلوم کرے گی کہ لینڈ سلائیڈنگ کیسے ہوئی، بلکہ یہ بھی دیکھے گی کہ کیا سرنگ کو اس کی موجودہ شکل میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کمیٹی کی کمان ماہرِ ارضیات ڈاکٹر سی. پی. راجندرن کے ہاتھ میں ہے، جن کی زلزلوں، ٹیکٹونکس اور ارضیاتی خطرات پر تحقیق کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ارکان میں وشنوداس (جو زمین کے استعمال، موسمیاتی تبدیلی اور آفات کے خطرے کے درمیان تعلق پر کیرلم کی اہم آوازوں میں سے ایک ہیں)، چیف وائلڈ لائف وارڈن ڈاکٹر پی. پگلنڈی، محکمۂ تعمیراتِ عامہ کے سینئر انجینئر اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ افسر شامل ہیں۔
کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ پروجیکٹ کے ارضیاتی اور ماحولیاتی تناظر کا مطالعہ کرے، ماحولیاتی حفاظتی اقدامات کی تعمیل کی جانچ کرے، تعمیراتی طریقوں کا جائزہ لے اور یہ تجویز دے کہ کیا سرنگ کو اس کی موجودہ شکل میں جاری رکھا جانا چاہیے، اسے دوبارہ ڈیزائن کیا جانا چاہیے یا کسی متبادل طریقۂ کار کو اپنایا جانا چاہیے۔ کیرلم میں 2018 سے آفات کا سلسلہ جاری ہے، جب تباہ کن سیلاب نے پوری ریاست میں غیر معمولی لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات کو جنم دیا تھا۔ پوتھومالا، کاول پارا، کوٹیکل، پیٹی مڈی اور بالآخر منڈکئی اور چورلمالا یاد دلاتے ہیں کہ شدید بارش اب تبدیل شدہ منظرناموں کے ساتھ اس طرح جڑ رہی ہے، جس کا اندازہ لگانے میں روایتی منصوبہ بندی کے ماڈل پوری طرح ناکام رہے ہیں۔
ہر بڑی آفت کے بعد ماہرین کی رپورٹیں اور سفارشات تیار کی گئیں، جو مستقبل کی منصوبہ بندی میں شامل ہونے کے بجائے محکموں میں بکھری رہیں۔ 2010 میں تشکیل دیے گئے مادھو گاڈگل کی قیادت والے مغربی گھاٹ ماحولیاتی ماہرین کمیشن نے مضبوط ماحولیاتی حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور ماحول کے اعتبار سے حساس علاقوں میں بے قابو ترقی کے خلاف خبردار کیا تھا۔ ان کی سفارشات سیاسی طور پر متنازع ہو گئیں۔ اس کے بعد تشکیل دی گئی کے. کستوری رنگن کمیٹی نے اپنی سفارشات 2013 میں پیش کیں اور نسبتاً زیادہ نرم ہونے کے باوجود اسے سیاسی جماعتوں، چرچ کے ایک دھڑے، کسان تنظیموں اور کاروباری گروپوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
اگر سُرنگ میں بالآخر ناقابل قبول ماحولیاتی یا ارضیاتی خطرات پائے جاتے ہیں، تو وائناڈ کے لیے رابطہ بہتر بنانے کے کیا متبادل ہیں؟ بہت کم سنجیدہ تجزیہ کار وائناڈ کو ناکافی بنیادی ڈھانچے کے سہارے چھوڑنے کی وکالت کرتے ہیں۔ زراعت، سیاحت، صحت کی خدمات، تعلیم اور ہنگامی ردِعمل کے لیے بہتر رابطہ ضروری ہے۔ چیلنج ایسے حل تلاش کرنے کا ہے، جو آفات کے خطرے کو بڑھائے بغیر سفر کے وقت کو کم کر سکیں۔ متبادل میں موجودہ تھامرسیری گھاٹ روڈ کے حساس حصوں کو سائنسی طور پر مضبوط کرنا، جدید ڈھلوان استحکام کی تکنیک، بہتر پانی کی نکاسی کا انتظام، حقیقی وقت میں لینڈ سلائیڈنگ کی نگرانی، ذہین ٹریفک نظام، عوامی نقل و حمل میں بہتری اور متبادل راستوں کا محتاط جائزہ شامل ہیں۔ اس لیے کمیٹی کی سفارشات نہ صرف وائناڈ کے لیے بلکہ کیرلم کے بلند پہاڑی سلسلوں میں مجوزہ ہر بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ کے لیے کسوٹی بن سکتی ہیں۔
جیسا کہ ماہر موسمیات ڈاکٹر کے جی تارا کہتی ہیں ’’ماحولیاتی سائنس آفات آنے کے بعد ہی عوامی پالیسی کا حصہ نہیں بن سکتی۔ اسے فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ اس وقت بننا چاہیے، جب پہلا سروے بھی نہ ہوا ہو، پہلا ٹینڈر بھی جاری نہ ہوا ہو اور پہلا ایکسکیویٹر پہاڑ کو کاٹنا بھی شروع نہ کر سکا ہو۔‘‘
(کے اے شاجی ماحولیات اور دیہی ترقی کے مسائل پر لکھنے والے سینئر صحافی ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔