فکر و خیالات

جشنِ یومِ آزادی: شُکر و عزم کے آئینے میں... سید قمر عباس قنبر نقوی

آئیے! یومِ آزادی کے اس پُرمسرت اور تاریخی موقع پر ہم سب عہد کریں کہ وطن عزیز ہندوستان کی آزادی، سالمیت، جمہوریت اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط و مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی 

آج 15 اگست 2026ء کو پورا ہندوستان اپنے 80ویں یومِ آزادی کا جشن  پورے جوش و جذبے اور قومی عقیدت کے ساتھ منا رہا ہے۔ اس مبارک اور تاریخی موقع پر ملک کے تمام غیور اور محب وطن ہندوستانی ساتھیوں اور ارباب اقتدار کو دل کی گہرائیوں سے تبریک و تہنیت پیش کرتے ہوئے حقیر فخر محسوس کر رہا ہے۔

یومِ آزادی، یعنی 15 اگست، ہندوستان کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کا حامل دن ہے، کیونکہ 1947ء میں اسی روز ہمارا وطن برطانوی استعمار کی غلامی سے آزاد ہوا۔ لیکن یہ آزادی کسی نے ہمیں تحفے میں پیش نہیں کی تھی اور نہ ہی یہ برطانوی حکمرانوں کی انسان دوستی یا رحم دلی کا نتیجہ تھی، بلکہ آزادی کا یہ ثمر ہمارے ان عظیم مجاہدین آزادی اور شہدائے آزادی کی بے مثال، مخلصانہ اور مدبرانہ جدوجہد کا نتیجہ ہے، جنہوں نے مذہب، ملت، ذات، زبان اور سماجی طبقات کی تفریق سے بالاتر ہو کر ایک آزاد ہندوستان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔

ان بزرگوں نے طویل عرصے تک جدوجہد کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، جانی و مالی قربانیاں پیش کیں اور وطن کی آزادی کے لیے اپنے آرام، اپنے مستقبل بلکہ اپنی جان تک قربان کردی۔ آج اگر ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں تو اس آزادی کے پیچھے ان بے شمار معروف و غیر معروف سپوتوں کی قربانیاں شامل ہیں جن کے نام تاریخ کے صفحات پر ثبت ہیں اور جن کے کارنامے ہماری قومی میراث ہیں۔ اس لیے آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آزادی کی حقیقی قدر و قیمت کو سمجھیں اور شہدائے آزادی و مجاہدینِ آزادی کو محض رسمی انداز میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں خراجِ عقیدت پیش کریں۔ صرف ان کی تصاویر پر پھولوں کی مالا چڑھا دینا یا چند تعریفی کلمات کہہ دینا کافی نہیں، حقیقی خراجِ عقیدت یہ ہے کہ ہم اس ہندوستان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی کوشش کریں جس کا تصور ہمارے بزرگوں نے کیا تھاـ ایسا ہندوستان جہاں مساوات ہو، انصاف ہو، تعلیم عام ہو، روزگار کے مواقع ہوں، انسانی وقار محفوظ ہو، گنگا جمنی تہذیب مضبوط ہو اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی و قومی یکجہتی مستحکم ہو۔

ہمیں یومِ آزادی کے موقع پر خود سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کہیں آزادی کے مقاصد کو ہماری غفلت، تعصب یا خود غرضی سے نقصان تو نہیں پہنچ رہا؟ کیا مذہب، ذات پات، زبان یا کسی اور شناخت کی بنیاد پر کسی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک تو نہیں ہو رہا؟ کیا کسی ہندوستانی شہری کو اس کے بنیادی شہری حقوق سے محروم تو نہیں کیا جا رہا؟ کیا تعلیم اور روزگار کے مواقع تک رسائی میں غیر ضروری رکاوٹیں تو پیدا نہیں کی جا رہیں؟ کیا ہمارے معاشرے میں نفرت اور تفریق کے عناصر قومی یکجہتی کو کمزور تو نہیں کر رہے؟ یہ سوال کسی ایک فرد، جماعت یا طبقے سے نہیں بلکہ ہم سب سے ہے۔ محبانِ وطن بیدار رہیں اور اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی حفاظت کریں۔

یومِ آزادی کی مرکزی قومی تقریب راجدھانی نئی دہلی کے تاریخی لال قلعہ میں منعقد ہوتی ہے، جہاں وزیر اعظم قومی پرچم لہراتے ہیں اور تاریخی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہیں۔ 2026ء میں وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلسل تیرہویں مرتبہ یومِ آزادی کی مرکزی تقریب کی قیادت کی۔ یہ تقریب محض ایک سرکاری رسم نہیں بلکہ ہندوستان کی آزادی، اس کے جمہوری سفر اور قومی عزم کی علامت بن چکی ہے۔ اس موقع پر قومی پرچم کو سلامی پیش کی جاتی ہے، قومی ترانہ بجایا جاتا ہے اور مسلح افواج و دیگر دستے اپنی شاندار پریڈ اور رسمی سلامی کے ذریعے وطن سے وفاداری کا اظہار کرتے ہیں۔ مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خصوصی مہمان بھی اس قومی تقریب میں شریک ہوتے ہیں۔

اس قابل فخر موقع پر لال قلعہ سے وزیرِ اعظم اپنے خطاب میں مجاہدین آزادی کی جدوجہد اور ملک کے لیے قربانیاں دینے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی ترقی، استحکام اور مستقبل کے اہداف کے حوالے سے بھی قوم سے خطاب کرتے ہیں۔ یوں لال قلعہ کی فصیل سے بلند ہونے والی آواز محض ایک تقریر نہیں بلکہ ملک کے حال، مستقبل اور قومی عزم کی ترجمان بن جاتی ہے۔

یومِ آزادی کا یہ قومی تہوار ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہندوستانی بھی جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں۔ قومی راجدھانی نئی دہلی کے علاوہ ریاستی راجدھانیوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، اضلاع کے صدر مقامات، سرکاری و غیر سرکاری اداروں، سفارتی مشنز، فوجی و نیم فوجی مراکز، پولیس اسٹیشنوں، یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں میں پرچم کشائی کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔

جشنِ آزادی کے اس مقدس موقع پر قومی پرچم سے سرکاری اور عوامی عمارتوں کو سجایا جاتا ہے، قومی ترانے اور ملی نغمے پیش کیے جاتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور مختلف پروگراموں کے ذریعے نئی نسل کو آزادی کی جدوجہد، مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں اور قومی یکجہتی کی اہمیت سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ تقریری اور ثقافتی پروگراموں کا بنیادی مقصد محض جشن منانا نہیں بلکہ نوجوان نسل میں حب الوطنی، قومی ذمہ داری، اتحاد اور ہندوستان کی کثیرالثقافتی شناخت کے احترام کا شعور پیدا کرنا بھی ہے۔

آزادی کا پہلا اور بنیادی تقاضا شُکر ہے۔ لیکن شکر محض زبان سے چند الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ شُکر کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ ہم آزادی کی نعمت کا عملی طور پر اعتراف کریں، اس کی حفاظت کریں اور ان لوگوں کو یاد رکھیں جنہوں نے اس آزادی کے لیے اپنی زندگیاں قربان کردیں۔ ہمیں اپنی تہذیب، ثقافت، مذہبی و لسانی تنوع اور قومی شناخت کی قدر کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو ہندوستان کی حقیقی تاریخ سے روشناس کرانا چاہیے تاکہ آزادی ان کے لیے محض نصابی کتاب کا ایک باب نہ رہے بلکہ ایک زندہ احساس، ایک قومی امانت اور ایک ذمہ داری بن جائے۔ یہ بات سب پر واضع ہے کہ شُکر ہمیں ماضی سے جوڑتا ہے، جبکہ عزم ہمیں مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔ یومِ آزادی صرف ماضی کی داستانیں دہرا کر خوش ہوجانے کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے نئے عزم کا دن بھی ہے۔ یہ خود سے ایک عہد کرنے کا دن ہے کہ جس مٹی نے ہمیں شناخت، آزادی اور تحفظ دیا ہے، ہم اس کے وقار، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے، ہمیں قومی یکجہتی کو مضبوط کرنے کا عزم کرنا ہوگا۔ اقربا پروری، رشوت، بدعنوانی اور ناانصافی کے خلاف اپنے اپنے دائرۂ کار میں آواز اٹھانا ہوگی۔ ہمیں قانون کی پاسداری، انسانی احترام، دیانت داری، رواداری اور انصاف کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

وطن صرف زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں بلکہ وطن ان کروڑوں انسانوں کے مجموعی احساس کا نام ہے جو اس سرزمین کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ اس لیے وطن کی خدمت صرف سرحدوں کی حفاظت کرنے والے سپاہیوں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر شہری اپنے اپنے شعبے میں وطن کی تعمیر و ترقی کا سپاہی ہے۔

آئیے! یومِ آزادی کے اس پُرمسرت اور تاریخی موقع پر ہم سب عہد کریں کہ وطن عزیز ہندوستان کی آزادی، سالمیت، جمہوریت اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط و مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہم ملک کو شر و فساد، نفرت اور تشدد سے محفوظ رکھنے، امن و آشتی کو فروغ دینے، علم و حکمت کو عام کرنے اور انسانی وقار و حقوق کے احترام کو مضبوط بنانے کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے اور آزادی کو محض ایک جشن نہیں بلکہ ایک قومی امانت سمجھیں گے۔

آج کا شُکر ہمیں اپنے ماضی کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور آج کا عزم ہمیں روشن مستقبل کی تعمیر کا راستہ دکھاتا ہے۔ آئیے شُکر کے ساتھ ماضی کو یاد کریں، شعور کے ساتھ حال کا جائزہ لیں اور عزم کے ساتھ مستقبل کی تعمیر کریں۔ وطنِ عزیز ہندوستان ہمیشہ امن، اتحاد، ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن رہے۔ جئے ہند!

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔