فکر و خیالات

کاش! جو بیان نیویارک میں دیا، وہ آر ایس ایس کی شاخوں میں دیا گیا ہوتا... میناکشی نٹراجن

کسی کے عقیدہ پر مہر کوئی دوسرا ثبت نہیں کر سکتا۔ مذہب کے دو سطح ہیں۔ اس کے روحانی حصہ کی کوئی حد بندی نہیں ہو سکتی۔ وہ لازوال ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکہ میں موہن بھاگوت، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/ashajadeja">@ashajadeja</a></p></div>

امریکہ میں موہن بھاگوت، تصویر ’ایکس‘ @ashajadeja

 

حال ہی میں کچھ بیانات بیرون ملک میں دیے گئے۔ 100 سال مکمل کرنے والی ثقافتی تنظیم کے سربراہ نے نیویارک میں جو کہا، اس کی گونج ہندوستان میں سنائی پڑ رہی ہے۔ کچھ سال پہلے تک بھی مثالی اقلیت کی تعریف بیان کی جاتی تھی۔ یہی تنظیم سب کی قوم پرستی کی مادی تصدیق کرتی ہے۔ اس بار یہ بتایا گیا ہے کہ کون کیا کرنے پر ہندو نہیں رہے گا؟ بہت خوب!

کاش کہ قول اور عمل میں فرق نہ ہوتا۔ یہ سوچنا لازمی ہے کہ اس نئی تعریف کے تحت اب کون کون ہندو نہیں رہ پائیں گے۔ ہندوستان کے تہذیبی ماحول میں ابھی کچھ اور طرح کی بھی گونج اور آہ سنائی پڑتی رہتی ہیں۔ اگر ضمیر کے کانوں سے سنا جائے، تو بیان کچھ کہتا ہے۔ یعنی جنہوں نے اخلاق پر پتھر برسائے، وہ ہندو نہیں۔ گجرات کے اونا میں دلتوں پر کوڑے برسائے، وہ ہندو نہیں۔ جنہوں نے کسان تحریک کے کارکنوں کو دہشت گرد کہا، وہ بھی ہندو نہیں۔ ایک معمولی چوڑی والے کو پیٹا، وہ ہندو نہیں۔ اتراکھنڈ کے مندر کے احاطے میں جس پیاسے کو پانی نہیں ملا، اس کو لہولہان کیا گیا، وہ ہندو نہیں۔ جس نے عہد ساز حق کے متلاشی پر 3 گولیاں چلائیں، وہ ہندو نہیں۔ وہ حکومتیں، جو ووٹر فہرست سے نام کاٹ کر انہیں راشن تک سے محروم کرتی ہیں، ہندو نہیں۔ جو بلڈوزر چلواتی ہیں، ڈٹینشن سنٹر بھیج دیتی ہیں، 100 سر کٹوانے کی وکالت کرتی ہیں، وہ بھی نہیں۔ جو رام نام لے کر کروڑوں کا غبن کرتے ہیں، وہ بھی ہندو نہیں۔ گراہم اسٹین کو زندہ جلانے والے بھی ہندو نہیں۔ لو جہاد کے نام پر نفرت پرستی ہندو نہیں۔ ڈی لسٹنگ کی مشق ہندو نہیں۔

مگر یہ سب تو بہت پہلے سے وہ جانتے ہیں، جو سچا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اصل میں جو کوئی تشدد، بدکاری، نفرت اور تفریق کا استعمال کرتے ہیں، وہ عقیدہ رکھنے والے ہو ہی نہیں سکتے، نہ ہی مذہبی ہو سکتے ہیں۔ چونکہ ان کا راستہ ’ادھرم‘ کا ہے، جن کا یقین انسانیت میں نہیں۔ وہ صرف ہندو ہی نہیں بلکہ وہ کبھی اسلام، عیسائی، بدھ، جین، سکھ یا ملحد بھی نہیں ہو سکتے۔ ملحد بھی اس لیے کہ وہ انسانیت پسند تو ہوتے ہیں۔

کاش کہ یہ بیان شاخوں میں بار بار دیا گیا ہوتا۔

ویسے ان سب سے پرے کچھ اور بھی خیال آتے ہیں۔ کسی کے عقیدہ پر دوسرا کوئی تصدیق کا مہر ثبت نہیں کر سکتا۔ مذہب کے 2 سطح ہیں۔ اس کے روحانی پہلو کی کوئی حد بندی نہیں ہو سکتی۔ وہ لازوال ہے۔ اُپنشد کہتے ہیں کہ وہ کیا نہیں ہے، صرف ’نیتی-نیتی‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔ وہ کیا ہے، یہ بتانا مشکل ہے۔ روحانیت سرحدوں سے اوپر ہے، جہاں سوچ ختم ہو جاتی ہے۔ عمل یا سلسلہ مسلسل بہتا ہے، یگانگت بنتی ہے۔ لیکن مذہب کا انتظامی ڈھانچہ اس سے الگ ہے۔ وہاں حد ہوتی ہے۔ چوکی بٹھاتے ہیں، خود ساختہ پہریدار ڈنڈا بجاتے ہیں۔

روحانیت میں سرحد ہو سکتی ہے، جہاں سے آنا جانا کوئی خاص بڑی بات نہیں۔ کئی تہذیبوں کی قدریں مشترک ہو جاتی ہیں۔ علی کو گاتے گاتے کشن کنہیا کو گانے لگتے ہیں۔ لیکن سرحد پختہ ہوتی ہے۔ سرحد کی ضرورت تقسیم ہے۔ اس کے بغیر اس کا گزارا نہیں چلتا۔ ہر مذہب کے انتظامی نظام میں سرحدیں کھینچی جاتی ہیں۔ یہاں لین دین کے لیے پرمٹ جاری ہوتا ہے۔ خاص طور پر عورتوں کو کوئی اجازت نہیں ملتی۔ وہ روحانی طور پر آزاد ہونے کے باوجود شاذ و نادر ہی انتظامی ڈھانچوں کی تبدیلی کر سکتی ہیں۔ انہیں صوفیوں، بھکتی اور عالمہ سنتوں نے کیا، جنہوں نے پھر دنیا کے کسی قانون کو نہیں مانا۔

مذہب کا یہ انتظامی ڈھانچہ بازار سے گٹھ جوڑ قائم کرتا ہے۔ ورنہ اس کا گزر بسر ممکن نہیں۔ جہاں روحانیت کو ایک متعین شکل ملی نہیں کہ مادی تعمیر شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے ارد گرد بازار پنپتا ہے۔ چڑھاوا اسی کا حصہ ہے۔ بازار آئے گا تو منافع کی بات ہوگی، کمانے کی نیت بنے گی۔ ورنہ کس رام یا بھگوان نے کچھ مانگا ہے۔ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ سرحدوں میں بندھے ملک و ریاستوں کی تاریخ محض چند سو سال کی ہے۔ اس سے بھی کچھ کم ہی ہے۔ اس حد بندی کے بعد کوئی نیا فلسفہ، کوئی بیداری، کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ کوئی فرقہ اگر پھیلا ہے تو وہ ہے... بازار۔

روحانیت محدود ہو کر قائم بھی نہیں رہ سکتی۔ نانک نے اپنی زندگی میں دور دور تک سیاحت کی اور اس سے اپنا سلسلہ قائم کیا۔ بدھ چلتے گئے۔ اُپنشد ’چرَیوتی چلیشیامہ نرنتر‘ کو گاتے ہیں۔ جو سرحد بنا کر ٹھہر گئے، وہ تباہ ہوں گے۔ یہ کرناٹک کے قرون وسطیٰ کے سنت بسونّا کہتے ہیں۔ آدیواسیت اور خانہ بدوشی اس لیے تقریباً 2 لاکھ سال سے قائم ہے کہ وہ محدود نہیں ہوتے۔ زمین اور فطرت کے چکر کو سمجھ کر گھومتے ہیں۔ چل پڑتے ہیں۔

ایسے میں کچھ ایک ردعمل بھی یاد آتے ہیں۔ یہ کہا گیا کہ بابر کے ملک میں وزیر اعلیٰ کو عزت ملی۔ تب لگتا ہے کہ آخر اپنی سمجھ کو کیا اتنا موجودہ زمانے تک محدود رکھنا چاہیے کہ ہمیں ماضی کی ترتیب ہی سمجھ میں نہ آئے۔ اس وقت کی سرحدیں آج سے بے حد مختلف تھیں۔ یہ درست ہے کہ انسان کو اپنی جائے پیدائش سے بہت لگاؤ ہوتا ہے۔ بابر وہیں پیدا ہوا۔ اس نے اپنی سلطنت کو وسعت دی، لیکن کیا ازبکستان صرف اسی کا ہے؟ کیا کوئی ملک صرف کسی حکمران کا ہوتا ہے؟ یا اس بیان کے ذریعہ ہم آج بھی ہندوستان کو محض اس کے حکومتی نظام کا مانتے ہیں۔ پھر ازبکستان کے ساتھ صرف یہی ایک رشتہ تو نہیں۔ کہتے ہیں کہ لوک کہانیوں میں مشہور مہیوال، سوہنی کا محبوب، ازبکی تھا۔ اس وقت آج کی ملک و ریاست کی حدیں نہیں تھیں۔ تکشیلا یا ساگل صوبہ (سیالکوٹ) پر کسی زمانے میں ایرانی حکمران دارا اوّل کا بھی کنٹرول رہا۔ وسط ایشیائی گھاس کے میدانوں سے آیا گروہ شمال مغرب سے پنجاب تک بڑھا۔ وہ سنسکرت کی مادری زبان بولنے والا گروہ تھا۔ متعدد وسط ایشیائی گروہ یوچی، ہند، یون، شک، پارتھیائی شمالی اور مغربی ہندوستان تک پھیلے۔ صرف مغلوں کی بات کریں تو ان کی اصل وسط ایشیائی قبائلی تھی، وہ تہذیبی طور پر فارسی ہوئے، نوروز مناتے رہے۔ انہوں نے عرب میں پنپنے والے اسلام کو اپنایا۔ ان کی اگلی نسلوں کی پیدائش شمالی ہندوستان میں ہوئی، شمالی ہندوستان کا رنگ ان پر چڑھا، ان کی ابتدائی زبان ترکی رہی۔ تو انہیں ان سب میں کہاں کا کہا جائے؟

اُس وقت کی بنیاد پر اب کسی کا کوئی ’اکھنڈ ملک‘ بن نہیں سکتا۔ دراصل اُس وقت بھی کوئی ’اکھنڈ ملک‘ نہیں تھا۔ سرحدیں تھیں، جو بنتی بگڑتی رہتی تھیں۔ ان سے پرے روحانی سلسلہ چشمے کی طرح بہتا تھا۔ وہ کہیں قید نہیں ہوا۔ ہندوستان کے خطۂ ارض کا تہذیبی پھیلاؤ جنوبی ایشیا تک ہوا۔ لیکن ہر پھیلاؤ میں مقامی رنگ شامل ہوئے۔ ہندوستان کو محض زمین ماننا انہیں زیب دیتا ہے جو اس کے ذریعہ وسائل پر قبضہ چاہتے ہیں۔ لیکن ہندوستان کہاں نہیں ہے! جہاں انسانی ہمدردی ہے، وہاں ہندوستان ہے۔ نیلسن منڈیلا، سرحدی گاندھی، ڈاکٹر کوٹنیس کیا ہندوستان کا عکس نہیں ہیں۔ بھلے آج کی حکومت انہیں دماغی نکسل کہہ ڈالے، اتنا طے ہے کہ یہ سبھی مذہبی تھے، انسانیت سے بھرے ہوئے تھے اور اس کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر سکتے تھے۔ پھر وہ ہندو تھے یا نہیں؟ ہندوستان کے تھے یا نہیں؟ یہ سوال غیر متعلق ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔