
علامتی تصویر / اے آئی
اگر آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ دنیا میں پہلا بت کس نے بنایا تھا تو شاید اس کا جواب دینا آسان نہ ہو، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ پہلا بت بنانے کی ضرورت آخر پیش کیوں آئی؟ اگر انسان ایک خدا کو جانتا تھا تو پھر اس نے اپنے ہاتھوں سے دوسرے معبود کیوں تراش لیے؟ آخر وہ کون سا لمحہ تھا جب احترام عبادت میں بدل گیا، عقیدت الوہیت بن گئی اور مخلوق، خالق کے برابر لا کھڑی کی گئی؟
یہ سوال محض مذہبی نہیں، بلکہ انسانی نفسیات، تاریخ اور تہذیب کا سب سے اہم سوال ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر یہ ہے کہ انسان کی ابتدا توحید سے ہوئی۔ حضرت آدمؑ پہلے انسان بھی تھے اور پہلے نبی بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی پہلی مذہبی تعلیم ایک خدا کی عبادت تھی، نہ کہ متعدد خداؤں کی۔ اگر یہ حقیقت سامنے رہے تو پھر اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ توحید کیسے آئی، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ شرک آیا کہاں سے؟
غور کیجیے، دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے یہ کہا ہو کہ "میں خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور مجھے بہت سے خداؤں کی عبادت سکھانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔" تاریخ میں بادشاہ ملتے ہیں، کاہن ملتے ہیں، فلسفی ملتے ہیں، بت تراش ملتے ہیں، مگر ایسا کوئی نبی نہیں ملتا جو کثرتِ معبود کی دعوت دیتا ہو۔ اس کے برعکس نبوت کی پوری تاریخ ایک خدا کی طرف بلاتی ہے۔ یہی حقیقت شرک کی اصل کو سمجھنے کی پہلی کنجی ہے۔
شرک کسی ایک لمحے میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ ایک تدریجی عمل تھا۔ ابتدا احترام سے ہوئی۔ کسی نیک انسان کو یاد رکھنے کے لیے اس کی نشانی بنائی گئی۔ پھر آنے والی نسلوں نے اس نشانی کو مقدس سمجھا۔ اس کے بعد یہ عقیدہ پیدا ہوا کہ شاید یہ شخصیت ہماری دعائیں خدا تک پہنچا دے۔ پھر اس سے مدد مانگی جانے لگی، اور آخرکار عبادت شروع ہو گئی۔ گویا شرک کا آغاز ہمیشہ تعظیم کے غلو سے ہوا، دشمنی سے نہیں۔
یہی اصول مظاہرِ فطرت پر بھی لاگو ہوا۔ سورج روشنی دیتا تھا، اس لیے مقدس سمجھا گیا۔ دریا زندگی دیتے تھے، اس لیے ان میں الوہیت تلاش کی گئی۔ آگ فائدہ پہنچاتی تھی، اس لیے اس کی تعظیم ہونے لگی۔ انسان نے فائدہ پہنچانے والی چیزوں کا احترام کیا، پھر احترام تقدیس میں اور تقدیس عبادت میں بدلتی چلی گئی۔
یہ انسانی نفسیات کا ایک معروف اصول ہے کہ انسان جس چیز سے غیر معمولی فائدہ یا خوف محسوس کرتا ہے، اسے غیر معمولی مقام دینے لگتا ہے۔ اگر اس رجحان کی اصلاح نہ کی جائے تو وہ آہستہ آہستہ عبادت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ شاید اسی لیے ہر دور میں انبیائے کرام آئے تاکہ انسان کو یاد دلائیں کہ سبب اور مسبّب میں فرق باقی رہنا چاہیے۔ سورج روشنی دیتا ہے، لیکن روشنی کا خالق سورج نہیں۔ دریا پانی دیتے ہیں، مگر پانی کا مالک دریا نہیں۔ انسان خدمت کر سکتا ہے، مگر تقدیر کا مالک انسان نہیں۔
شرک کا ایک اور سبب اختیار کی تقسیم بھی ہے۔ جب انسان ایک خدا پر کامل اعتماد کھو دیتا ہے تو وہ اپنی مختلف ضرورتوں کے لیے مختلف سہارے تلاش کرنے لگتا ہے۔ رزق کے لیے ایک طاقت، اولاد کے لیے دوسری، بارش کے لیے تیسری، جنگ کے لیے چوتھی۔ یوں معبودوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے برعکس توحید انسان کو یہ یقین دیتی ہے کہ زندگی کے تمام معاملات ایک ہی رب کے اختیار میں ہیں۔
یہ بھی غور طلب ہے کہ دنیا کی تقریباً ہر زبان میں خدا کے لیے ایک بنیادی لفظ موجود ہے۔ اللہ، خدا، ایشور، پرماتما، ایل، ایلوہ، God، Deus اور Theos جیسے الفاظ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ انسان ایک اعلیٰ ہستی کے تصور سے ہمیشہ آشنا رہا۔ لیکن متعدد خداؤں کے نام ہر تہذیب میں مختلف ہیں، ان کی تعداد مختلف ہے، ان کے اختیارات مختلف ہیں اور ان کی کہانیاں بھی مختلف ہیں۔ گویا وحدت کا تصور مشترک ہے، جبکہ کثرت کا تصور مقامی اور تاریخی ہے۔
تاریخِ مذاہب کا مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے کہ شرک کبھی ایک ہی صورت میں باقی نہیں رہا۔ ہر قوم نے اپنے اپنے معبود بنائے، اپنے اپنے دیوتے تراشے اور اپنی اپنی مذہبی روایات تشکیل دیں۔ اگر شرک بھی آسمانی ہدایت ہوتا تو اس کے بنیادی اصول ہر جگہ یکساں ہوتے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس کے برعکس توحید کا بنیادی پیغام ہر نبی کی زبان پر ایک ہی رہا۔
آج شاید پتھر کے بت کم ہوں، مگر شرک کی نفسیات اب بھی زندہ ہے۔ جب انسان کسی طاقت، دولت، شخصیت، نظریے یا خواہش کو اس مقام پر بٹھا دیتا ہے جہاں صرف خدا کا حق ہے، تو مسئلہ وہی پیدا ہوتا ہے جس کے خلاف انبیائے کرام نے پوری تاریخ میں آواز بلند کی۔ اس لیے شرک صرف بتوں کا نام نہیں، بلکہ ہر اس کیفیت کا نام ہے جس میں انسان خالق اور مخلوق کے درمیان حدِ امتیاز کو مٹا دے۔
شاید اسی لیے توحید صرف یہ اعلان نہیں کہ ’خدا ایک ہے‘، بلکہ یہ بھی اعلان ہے کہ اختیار ایک ہے، حاکمیت ایک ہے، عبادت ایک ہے، امید ایک ہے، خوف ایک ہے اور آخری جواب دہی بھی ایک ہی ذات کے سامنے ہے۔
جب یہ حقیقت سمجھ میں آ جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ شرک کسی ایک مذہب کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی فکر کی وہ لغزش ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان خالق سے زیادہ مخلوق پر اعتماد کرنے لگتا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ نبوت کی پوری تاریخ انسان کو کسی نئے خدا کی طرف نہیں، بلکہ اس ایک خدا کی طرف واپس بلانے کی تاریخ ہے جسے وہ جانتا تو تھا، مگر رفتہ رفتہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتا چلا گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔