
’مدرسہ تحفیظ القرآن‘ کے بانی مولانا اکرام الحق قاسمی (کرسی پر بیٹھے ہوئے)
مشہور و معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے کہا ہے ’’جہالت صرف اسی صورت میں دور ہو سکتی ہے جب دانشگاہوں کے سبھی دروازے عوام پر کھول دیے جائیں گے۔‘‘ اسی طرح عظیم فلسفی اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سرو پلّی رادھا کرشنن کا قول ہے کہ ’’استاد وہ نہیں جو طالب علم کے دماغ میں کسی بات کو جبراً ٹھونسے، بلکہ حقیقی استاد تو وہ ہے جو اسے آنے والے کل کے چیلنجز کے لیے تیار کرے۔‘‘ ایسے وقت میں، جب تعلیم نے تجارت کی شکل اختیار کر لی ہے، کم ہی اشخاص ایسے ہیں جو ان اقوال کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ ان اشخاص میں ہی ایک ہیں مولانا اکرام الحق قاسمی، جنھوں نے بے انتہا تگ و دو کے بعد ’مدرسہ تحفیظ القرآن‘ کے نام سے ایسا تعلیمی ادارہ قائم کیا جو گزشتہ 8 سالوں سے خاص و عام کے درمیان علم کی روشنی پھیلا رہا ہے۔ یہ تعلیمی ادارہ ریاست بہار کے ارریہ ضلع واقع بابوآن گاؤں (وارڈ نمبر 2، پوسٹ بسمتیا) میں موجود ہے اور مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ معیاری عصری تعلیم کا بھی یہاں خاص انتظام ہے۔
اس ادارہ کی بنیاد کے پیچھے صرف مولانا اکرام الحق قاسمی کی جدوجہد ہی شامل نہیں ہے، بلکہ ایک دلچسپ سوچ بھی کارفرما ہے۔ غالباً 2009 کی بات ہے جب مولانا اکرام الحق دہلی میں ’القرآن اکیڈمی ٹرسٹ‘ کی بنیاد رکھنے کے بعد ترجمۂ قرآن کی تعلیم دینے میں مصروف تھے۔ اُس وقت وہ ہوٹلوں میں چھوٹے بچوں کو کام کرتے ہوئے دیکھتے تو یہ سوچ کر بہت افسردہ ہوتے تھے کہ تعلیم حاصل کرنے اور کھیلنے کی عمر میں انھیں کام کرنا پڑ رہا ہے۔ انھوں نے کچھ دوستوں سے مشورہ اور تعاون کے بعد ایسے بچوں کو ہوٹلوں میں ہی پڑھانے کا منصوبہ بنایا اور ایک وقت ایسا تھا جب 5 اساتذہ کو رکھ کر الگ الگ ہوٹلوں میں وہاں کام کرنے والے بچوں کو دینی تعلیم دی جانے لگی۔ ان کی کوشش تھی کہ اس سلسلہ کو آگے بڑھایا جائے تاکہ غریبی کے سبب دینی تعلیم سے ناآشنا بچوں کو مذہب اسلام کے قریب لایا جائے۔ لیکن کچھ ہوٹل مالکان کی ناخوشی اور کچھ بچوں کی عدم دلچسپی نے حوصلہ پست کر دیا۔ حالانکہ اس ٹوٹے ہوئے حوصلہ نے روشنی کی ایک نئی کھڑکی کھول دی۔ ایک نیا منصوبہ تیار ہوا، اور وہ منصوبہ تھا تعلیمی ادارہ قائم کر غریب طبقہ کے بچوں کو انتہائی کم خرچ میں معیاری تعلیم دلانے کا۔ ایک ایسا ادارہ وجود میں لانے کا جہاں ان بچوں کی رہائش اور طعام کا بھی انتظام ہو اور ایک منظم انداز کے ساتھ دینی و عصری تعلیم کی روشنی بھی پھیلائی جائے۔
یہ منصوبہ 2012 میں بنا، جب ہوٹلوں میں بچوں کو تعلیم دینے کا تقریباً 3 سالہ سلسلہ منقطع ہوا۔ فوری طور پر پہلا قدم یہ اٹھایا گیا کہ بابوآن گاؤں میں تقریباً 3.5 کٹھہ زمین کی خریداری ہوئی۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ مولانا اکرام الحق قاسمی معاشی طور پر مضبوط تھے، اس لیے بہ آسانی اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہناتے چلے گئے، تو آپ غلط ہیں۔ یہ تو مسلم بچوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے اور ناخواندگی کے بھنور سے نکالنے کا ان کا جذبہ تھا کہ وہ اپنے دوست و احباب کی مدد سے قدم آگے بڑھاتے گئے۔ معاشی سطح پر ان کی جدوجہد کو اگر یہاں پیش کیا جائے تو ایک الگ کہانی سامنے آئے گی۔ بس اتنا سمجھ لیجیے کہ 2006 سے 2012 کے درمیان انھیں بے حد تنگی کا سامنا تھا، اور بہ مشکل دن گزر رہے تھے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ خدائے پاک نے انھیں خلوص اور نیک بختی کا ایسا جذبہ عطا کیا تھا، جس نے مشکل وقت میں بھی قدم ڈگمگانے نہیں دیا۔ 2010 کے بعد مولانا اکرام الحق کے معاشی حالات دھیرے دھیرے بہتر ہونے شروع ہوئے تھے اور 2012 تک انھوں نے خود کو اس لائق بنا لیا کہ تعلیمی ادارہ قائم کر اس کا انتظام و انصرام دیکھ سکیں۔
میں آپ کو یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ مولانا اکرام الحق قاسمی کی پیدائش بھی بابوآن میں ہی ہوئی ہے، اور اسی لیے انھوں نے سوچا کہ کیوں نہ اس نیک کام کا آغاز اپنے ہی گاؤں سے کیا جائے۔ 1979 میں پیدائش کے بعد انھوں نے اپنا بچپن اسی گاؤں میں گزارا، پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مقصد سے تاریخی ادارہ دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا۔ وہاں سے 1998 میں فضیلت کی سند لے کر فراغت پائی اور اس کے بعد سے تعلیم و تعلم کے شعبہ میں سرگرمی سے مصروف ہیں۔ دارالعلوم دیوبند میں رہ کر انھوں نے جو کچھ پڑھا اور سیکھا، اسی کی تشہیر کو اپنا مقصد بنا کر سب سے پہلی ملازمت 1999 میں راجستھان کے ایک مدرسہ میں اختیار کی۔ 2005 میں دہلی آمد ہوئی جہاں ’مدرسۃ البنات‘ میں بطور استاد مقرر ہوئے اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کا درس دینے لگے۔ یہاں ایک سال کا ہی وقت گزرا ہوگا کہ مولانا عبدالکریم پارکھ کے ذریعہ چلائے جا رہے پروگرام ’200 گھنٹوں میں قرآن کا ترجمہ سیکھیں‘ سے متاثر ہو کر ترجمۂ قرآن کی کلاس شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ کچھ ماہرینِ عربی نے مل کر ایک ٹیم بنائی اور پھر 200 گھنٹوں میں ترجمۂ قرآن سکھانے کی خدمت شروع ہو گئی۔ جلد ہی مولانا اکرام الحق قاسمی نے محسوس کیا کہ خود ایک ادارہ بنا کر ترجمۂ قرآن سکھایا جائے، اور پھر ’القرآن اکیڈمی ٹرسٹ‘ وجود میں آیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ 2009 میں القرآن اکیڈمی نے باضابطہ طور پر 200 گھنٹے میں ترجمۂ قرآن سکھانے کا کام شروع کر دیا، اور یہ عمل 11 ماہ میں مکمل ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ ادارہ ایک سال کے اندر قرآن کا ترجمہ سکھانے کا کام انجام دے رہا ہے، اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ فی الوقت اس ادارہ میں تقریباً 500 طلبا ترجمۂ قرآن سیکھ رہے ہیں۔
’مدرسہ تحفیظ القرآن‘ کی بنیاد ڈالنے میں مولانا محمد اکرام الحق کو ’القرآن اکیڈمی ٹرسٹ‘ سے حاصل تجربات کا بہت فائدہ پہنچا۔ ساتھ ہی انھیں 2 ناکامیوں سے حاصل تجربات کا بھی فائدہ ملا۔ پہلی ناکامی تو ہوٹل کے بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ منقطع ہونا ہے، اور دوسری ناکامی بیوہ و یتیموں کو پکا ہوا کھانا مفت فراہم کرنے سے جڑا ہے۔ دراصل 2010 کے آس پاس ہی بیوہ و یتیموں کے لیے پکا ہوا کھانا اور خشک اجناس تقسیم کرنے کا سلسلہ مولانا اکرام الحق نے اپنے کچھ خوشحال دوستوں کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا۔ اس کے لیے دہلی میں 2 باورچی اور کچھ لوگ کھانا تقسیم کرنے کے مقصد سے رکھے گئے تھے۔ دہلی کی سینکڑوں ضرورت مند خواتین اس سے مستفید ہوتی تھیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ پکا ہوا کھانا تقسیم کرنے میں کئی پیچیدگیاں سامنے آنے لگیں، جس سے چند سالوں میں یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ حالانکہ خشک اجناس کی تقسیم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، لیکن یہ 40-35 بیوہ خواتین تک محدود ہو گیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس منصوبہ سے استفادہ کرنے والی یہ خواتین صرف دہلی سے ہی نہیں، بلکہ بہار اور مغربی بنگال سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔
بہرحال، مولانا اکرام الحق قاسمی نے اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں سے حاصل تجربات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا بیشتر زور فنڈنگ کی طرف لگایا۔ 2012 سے 2017 کے درمیان وہ لوگوں سے ملاقات کرتے رہے اور اپنے منصوبوں کے بارے میں انھیں مطلع کیا۔ دوڑ بھاگ کا فائدہ ملا اور اتنی رقم جمع ہو گئی کہ عمارت کی تعمیر شروع ہو سکے۔ اس کام میں ان کے قریبی دوستوں کے ساتھ ساتھ ایسے احباب نے بھی مدد کی جو بیرون ملک کام کر رہے ہیں۔ مناسب فنڈ جمع ہونے کے بعد جب ’مدرسہ تحفیظ القرآن‘ کی 16 کمروں پر مشتمل عمارت 2018 میں تیار ہوئی تو ایک سادہ لیکن پروقار تقریب کے ذریعہ نیک عمل کا آغاز بھی ہو گیا۔ ابتدا میں تقریباً 35 بچوں کے لیے 2 ٹیچر رکھے گئے، لیکن بعد میں بچوں کی بڑھتی تعداد کو دیکھ کر اساتذہ کی بھی تعداد بڑھائی گئی۔ ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے 2019 تک عمارت کی پہلی منزل بھی تیار ہو گئی۔ پھر وہ دور آیا جب کورونا نے پوری دنیا کو تہس نہس کر دیا۔ لاک ڈاؤن اور لوگوں کی جسمانی دوری نے ’مدرسہ تحفیط القرآن‘ کے انتظام کو بھی اثر انداز کیا، لیکن مولانا اکرام الحق نے اس مشکل وقت میں نہایت دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے اساتذہ کے لیے انٹرنیٹ کا انتظام کیا اور جن بچوں کے پاس اسمارٹ فون نہیں تھے، انھیں اسمارٹ فون دستیاب کرایا۔ گویا کہ انھوں نے تعلیم کا کسی بھی طرح نقصان نہیں ہونے دیا۔ مولانا اکرام الحق بتاتے ہیں کہ ’’ہم لوگ ہمیشہ مقامی تھانہ سے رابطے میں رہتے تھے۔ جب بھی لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا، سبھی اساتذہ اور بچوں کو گھر بھیج دیا گیا۔ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد جتنے لوگوں کو ایک جگہ رہنے کی اجازت مقامی انتظامیہ دیتی تھی، اتنے ہی اساتذہ اور بچوں کو بلایا جاتا تھا۔‘‘
’مدرسہ تحفیظ القرآن‘ میں 2019 سے عصری تعلیم کا بھی انتظام کیا جانا تھا، لیکن کورونا کے سبب اس میں تاخیر ہوئی۔ 2022 میں اس تعلیمی ادارہ نے اوّل درجہ سے آٹھویں درجہ تک سی بی ایس ای بورڈ کی تعلیم دینی شروع کی، اور اب یہاں طلبا کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ فی الوقت یہاں تقریباً 400 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن میں 318 بچوں کے لیے قیام و طعام کا انتظام ہے۔ ان بچوں کو پڑھانے کے لیے موجودہ وقت میں 21 اساتذہ اور دیکھ بھال کے لیے تقریباً ایک درجن اسٹاف کی سہولت دی گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ مولانا اکرام الحق نے اپنی نگرانی میں ’مدرسہ تحفیظ القرآن‘ کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر اب خود کو دیگر خدمات میں مصروف کر لیا ہے۔ ان کا بیشتر وقت دہلی میں ہی گزرتا ہے، لیکن بابوآن میں موجود مولانا اختر حسین (ناظم مدرسہ)، مولانا قمر الزماں نعمانی (صدر مدرس) اور مفتی عبدالحسیب (ناظم تعلیمات) نے ’مدرسہ تحفیظ القرآن‘ کی ذمہ داری اچھی طرح سنبھال لی ہے۔ اگر کوئی مشکل پیش آئے یا صلاح و مشورہ کرنا ہو، تو فون پر مولانا اکرام الحق ہمیشہ دستیاب رہتے ہیں۔ اکثر وہ بابوآن کا دورہ بھی کرتے ہیں، اور اب ان کا ارادہ اپنے آبائی وطن میں لڑکیوں کے لیے مخصوص تعلیمی ادارہ بنانے کا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ انھوں نے اس مقصد سے زمین کا ایک ٹکڑا خرید بھی لیا ہے۔ یعنی ایک نئے سفر کا آغاز ہو چکا ہے، اور مولانا اکرام الحق قاسمی دعاؤں کے طالب ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔