
’تندوری دربار بینکوئٹ ہال‘ کے بانی محمد عارف خان
انسان اپنی زندگی میں کئی خواب دیکھتا ہے، لیکن ہر خواب پورا ہو جائے یہ ضروری نہیں۔ خاص طور سے اگر خواب ذریعۂ معاش سے جڑا ہوا نہیں ہے، تو پھر اس کا پورا ہونا محال ہی سمجھ لیجیے۔ ظاہر ہے ڈاکٹر، انجینئر، سائنسداں یا تاجر بننے کا خواب اگر کوئی دیکھتا ہے تو محنت اور شدید لگن سے کامیابی ضرور مل جاتی ہے۔ لیکن اگر کسی نے ذریعۂ معاش سے الگ ہٹ کر کچھ ایسا کرنے کی کوشش کی، جس سے قلبی سکون حاصل ہو یا سماج کی خدمت ہو سکے، تو پھر راستے انتہائی دشوار ہو جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی خواب اتر پردیش کے جونپور باشندہ محمد عارف خان نے 2012 میں دیکھا تھا، جس کی تکمیل 2024 میں کچھ اس طرح ہوئی کہ وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ خواب تھا جونپور میں بینکوئٹ ہال کھولنے کا، جو اس وقت ’تندوری دربار‘ کے نام سے پورے علاقہ میں اپنی ایک الگ شناخت بنا چکا ہے۔ نام سے یہ ایک ریسٹورینٹ معلوم ہوتا ہے، لیکن بینکوئٹ ہال کا یہ نام رکھنے کے پیچھے ایک خاص وجہ پوشیدہ ہے، جس سے پردہ ہم آگے اٹھائیں گے۔
بینکوئٹ ہال کا خواب دیکھنے اور پھر اسے شرمندۂ تعبیر کرنے والے محمد عارف خان کی پیدائش 2 اگست 1978 کو جونپور میں ہوئی تھی۔ انھوں نے بنارس واقع ’ودیاپیٹھ یونیورسٹی‘ سے 2002 میں اردو سبجیکٹ سے گریجویشن کی سند حاصل کی۔ اردو ادب سے محبت رکھنے والے محمد عارف کو ہمیشہ سے یہ خلش محسوس ہوتی تھی کہ جونپور میں کوئی ایسا بینکوئٹ ہال نہیں ہے جہاں مقامی لوگ ادبی تقاریب بہتر انداز میں منعقد کر سکیں یا پھر کسی خوشی کے موقع پر جشن کا اہتمام کر سکیں۔ اس خلش کا احساس انتہائی شدت کے ساتھ انھیں 2012 میں ہوا جب وہ ادبی و سیاسی سرگرمیوں کا حصہ رہتے تھے۔ چھوٹا سا جلسہ منعقد کرنے کے لیے بھی انھیں ایسی جگہ نہیں مل پاتی تھی جہاں باوقار شخصیتوں کے ساتھ سنجیدہ گفتگو ہو سکے۔ یہی وہ موقع تھا جب انھوں نے عزم کیا کہ حالات بہتر ہوئے تو خود بینکوئٹ ہال کی بنیاد رکھیں گے۔ حالانکہ ایک طرف ’ذریعۂ معاش کی فکر‘ اور دوسری طرف ’دل کی خواہش‘، یہ خواب کس طرح پورا ہو انھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
دراصل 2002 کے بعد سے ہی محمد عارف خان ذریعۂ معاش کے لیے الگ الگ شعبوں سے جڑے، لیکن کبھی ناکامی ہاتھ لگی اور کبھی کامیابی کے باوجود کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ سب کچھ چھوڑ کر گھر بیٹھنا پڑ گیا۔ سب سے پہلے انھوں نے کمپیوٹر کی اہمیت سمجھتے ہوئے ہارڈویئر کا کورس کیا اور ایک ہارڈویئر سنٹر شروع کیا۔ 04-2003 میں بہار کے ایک این جی او سے بھی منسلک ہوئے اور ’عالمی کمپیوٹر خواندگی مشن‘ کی فرنچائزی لے کر جونپور میں ہی کمپیوٹر کا علم روشن کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران محمد عارف نے محنت تو بہت کی، لیکن جس نتیجے کی امید تھی وہ حاصل نہیں ہوا۔ 2005 میں انھوں نے دہلی کے لیے رخت سفر باندھا اور ریڈیمیڈ گارمنٹ کی ایک بڑی کمپنی میں ملازمت کر لی۔ اپنا کاروبار کرنے کا شوق رکھنے کی وجہ سے دہلی میں ان کا دل نہیں لگا، اس لیے ریڈیمیڈ گارمنٹ کمپنی سے ایک معاہدہ کر 2008 میں واپس جونپور آ گئے اور اپنی گارمنٹ شاپ شروع کر دی۔ یہ فرنچائزی سسٹم ان کے لیے بہت سودمند ثابت ہو رہا تھا، لیکن اچانک کمپنی نے پورے ہندوستان میں فرنچائزی نظام کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ یعنی کامیابی کی سیڑھیاں چڑھ رہے محمد عارف اچانک پھسل کر زمین پر آ گئے۔
یہ وقت محمد عارف خان کے لیے ایک بڑی آزمائش والا ثابت ہوا۔ انھیں اپنے والد کے پلاسٹک سامان تیار کرنے والی مشین سے جڑے کاروبار میں ہاتھ بٹانا پڑا تاکہ خالی نہ بیٹھنا پڑے۔ لیکن انھیں اس خاندانی کاروبار میں قطعی دلچسپی نہیں تھی، اس لیے بہت غور و خوض کے بعد بیرون ملک سامان ایکسپورٹ کرنے کا ارادہ کیا۔ اس کے لیے مارکیٹ کا اندازہ کرنے کے مقصد سے کم و بیش ایک سال تک وہ مختلف خلیجی ممالک میں رہے۔ 2016 میں انھوں نے سبزیاں اور مصالحے دبئی و شارجہ وغیرہ بھیجنا شروع کر دیا۔ اس کاروبار میں انھیں دن دونی رات چوگنی ترقی ملی اور وہ ایک طرح سے مطمئن ہو گئے۔ ایک چھوٹی سی ٹیم بنا کر اپنا کاروبار تیزی کے ساتھ پھیلا رہے تھے کہ اچانک 2019 میں کورونا وبا نے سب کچھ تباہ و برباد کر دیا۔ محمد عارف خان نے بتایا کہ فلائٹس کئی مہینوں تک بند رہے جس نے کاروبار کو پوری طرح ٹھپ کر دیا۔ انھیں 30 سے 35 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا اور ایسا لگا جیسے سب کچھ ختم ہو گیا۔
کورونا وبا نے محمد عارف خان ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا میں ان جیسے لاکھوں لوگوں کے کاروبار پر قفل لگا دیا تھا۔ بیشتر اس جھٹکے کو برداشت نہیں کر پائے، لیکن ناامیدی کو کفر سمجھنے والے پھر سے کھڑے ہوئے اور اپنی صلاحیت و محنت سے زندگی کے لیے نئی راہ تلاش کی۔ محمد عارف خان نے بھی خود کو سنبھالا اور کچھ نیا کرنے کا جذبہ لے کر قدم آگے بڑھایا۔ اس بار انھوں نے ریسٹورینٹ کھولنے کی تیاری کی اور بہت منصوبہ بندی کے ساتھ ستمبر 2022 میں اس کا آغاز ہوا۔ ریسٹورینٹ کا نام رکھا گیا ’تندوری دربار‘، جو کم وقت میں ہی مقامی لوگوں کی پسند بن گیا۔ یہاں کے لذیذ پکوان نے لوگوں کو اس قدر دیوانہ بنا دیا کہ جونپور ہی نہیں، قرب و جوار سے بھی شادی اور دیگر تقاریب کے لیے آرڈرس ملنے لگے۔ کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ قریب میں ہی اگر کوئی ہال بن جائے تو بہت آسانیاں فراہم ہو جائیں گی۔ یہی وہ موقع تھا جب محمد عارف خان کو بینکوئٹ ہال کا خواب پورا ہوتا دکھائی دیا۔ انھوں نے بلاتاخیر آس پاس کے لوگوں سے بات چیت شروع کی اور خوشی کی انتہا نہ رہی جب ریسٹورینٹ سے ملحق جگہ انھیں بینکوئٹ ہال کے لیے مل گئی۔ فوراً انھوں نے اس جگہ کا رینوویشن شروع کیا اور ایک دیوار توڑ کر ریسٹورینٹ کو اس سے ملا دیا۔ جب بینکوئٹ ہال کا نام رکھنے کی باری آئی تو محمد عارف کے ذہن میں صرف ’تندوری دربار‘ چل رہا تھا، کیونکہ یہ نام جونپور میں ہر خاص و عام کی زبان پر چڑھ چکا تھا۔
نومبر 2024 وہ یادگار لمحہ تھا جب بینکوئٹ ہال کا افتتاح ہوا۔ اب یہ بینکوئٹ ہال اور ریسٹورینٹ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چکے ہیں۔ 2 سالوں میں یہاں کم و بیش 150 چھوٹی بڑی تقاریب منعقد ہو چکی ہیں، اور خاص بات یہ ہے کہ ادبی تقاریب کے لیے محمد عارف خان کوئی رقم نہیں لیتے ہیں۔ کئی مواقع پر تو طعام کا بھی مفت انتظام کرتے ہیں۔ یہ ان کے خلوص کا بھی مظہر ہے اور ادب سے ان کی محبت کا بھی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ’ذریعۂ معاش‘ کی شکل میں ریسٹورینٹ اور ’دل کی خواہش‘ بینکوئٹ ہال دونوں ہی قلیل مدت میں کامیابی کا پرچم بلند کرنے کے ساتھ ساتھ مالی منفعت کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔