
’3 ٹی فوڈرنک‘ کے بانی شمس عالم خان
کیا آپ ’چیاشی‘ لفظ کے بارے میں جانتے ہیں؟ یقیناً آپ اس لفظ سے واقف نہیں ہوں گے۔ یہ لفظ پٹنہ میں کچھ ہی لوگ استعمال کرتے ہیں، اور میں نے اکثر میڈیا اداروں میں کام کرنے والوں کی زبان سے یہ لفظ سنا ہے۔ جو شریف النفس حضرات ’عیاشی‘ نہیں کرتے، وہ ’چائے‘ پینے کو ’چیاشی‘ نام دے کر محظوظ ہوتے ہیں۔ آج سے تقریباً 20 سال قبل جب میں روزنامہ ’پندار‘ اور ’راشٹریہ سہارا‘ میں کام کرتا تھا تو اپنے رفقائے کار کو دفتر سے باہر جاتا دیکھ کر پوچھتا تھا ’’کہاں جا رہے ہیں؟‘‘ اکثر جواب ملتا تھا ’’چیاشی کرنے جا رہا ہوں۔‘‘ ایسی ہی ’چیاشی‘ کی ایک محفل میں جب کچھ دوست چائے اور نمکین کا مزہ لے رہے تھے تو اچانک یہ بات نکل پڑی کہ پٹنہ کے سلطان گنج علاقہ میں کوئی ایسا ریسٹورینٹ نہیں ہے جہاں ذائقہ دار ’چکن رول‘ یا پھر ’چکن تندوری‘، ’چکن چاؤمین‘، ’بریانی‘ وغیرہ میسر ہو۔ یہ بات نکلی، اور پھر ایک ایسا ادارہ وجود میں آیا جو کامیابی کی روشن مثال بن چکا ہے۔
Published: undefined
بات ہے نومبر 2015 کی، جب شمس عالم خان اپنے دوستوں کے ساتھ چائے ناشتہ کا لطف اٹھا رہے تھے۔ ہنسی مذاق میں ذائقہ دار پکوانوں کا ذکر کب سنجیدہ گفتگو میں تبدیل ہو گیا، پتہ ہی نہیں چلا۔ پھر شمس عالم اچانک ہی ریسٹورینٹ شروع کرنے کا ارادہ کر بیٹھے۔ یہ ارادہ اتنا پختہ تھا کہ انھوں نے خلیجی ملک میں الیکٹرانک انجینئرنگ شعبہ میں تقریباً 1.70 لاکھ ماہانہ تنخواہ کو پس پشت ڈالا اور ایک دوست کے مخلصانہ تعاون سے ’3 ٹی فوڈرنک‘ کی بنیاد ڈال دی۔ آج تقریباً 10 سالوں بعد ’3 ٹی فوڈرنک‘ لوگوں کی زبان سے ہوتے ہوئے ان کے دلوں میں اپنی ایک الگ جگہ بنا چکا ہے۔ ’3 ٹی فوڈرنک‘ کا ٹیگ لائن ہے ’ٹیسٹ دی ٹیسٹ‘، یعنی ’ذائقے سے لذت آشنا ہوں‘۔ ’3 ٹی فوڈرنک‘ نے اپنے اس ٹیگ لائن کو حقیقت کا جامہ پہنایا، اور اب تک کی ایماندارانہ تجارت کا نتیجہ ہے کہ یہ ادارہ نئی پرواز بھرنے کے لیے تیار ہے۔ ’3 ٹی فوڈرنک‘ کے بانی اور پروپرائٹر شمس عالم کا کہنا ہے کہ بہت جلد ’3 ٹی فوڈرنک‘ فرنچائزی کی شکل میں مختلف شہروں تک پہنچنے والا ہے۔
Published: undefined
آج ہم جب ’3 ٹی فوڈرنک‘ کی کامیابی کو دیکھ رہے ہیں، تو ضروری ہے کہ ان 10 سالوں میں شمس عالم خان کی محنت اور جدوجہد پر ایک سرسری نظر ڈالیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ تقریباً 10 لاکھ روپے سرمایہ لگا کر ریسٹورینٹ شروع تو ہو گیا، لیکن اسے لوگوں تک پہنچانا بہت آسان نہیں تھا۔ دراصل سلطان گنج، عالم گنج، سبزی باغ اور اس کے آس پاس والے علاقوں میں لوگ باہر کے کھانے پر بہت زیادہ خرچ نہیں کرتے، اس لیے معیاری اور ذائقہ دار پکوان کے ساتھ ساتھ قیمت بھی بہت مناسب رکھنی تھی۔ ابتدا ہوئی ’چکن رول‘ سے، جس نے بہت کم وقت میں شہرت حاصل کر لی۔ یہ کولکاتا اسٹائل ’کاٹھی رول‘ کی طرح تھا جو ڈیلیوری اور پِک اَپ کے ذریعہ بڑی تعداد میں گھر گھر پہنچنے لگا۔ بوقت شام سلطان گنج میں ریسٹورینٹ کے باہر ’چکن رول‘ کھانے کے لیے نوجوانوں کی بھیڑ بھی جمع ہونے لگی۔ اس کے ساتھ ہی چائنیز فاسٹ فوڈ نے بھی لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا۔ اس سے حوصلہ پا کر ’کولکاتا بریانی‘، ’چکن تندوری‘ اور ’چکن چاؤمین‘ وغیرہ کو مینیو میں شامل کیا گیا، جس کا ذائقہ لوگوں کو بہت پسند آیا۔ شمس عالم کا جنون اور منصوبہ بندی کام کر گئی، لیکن اس ذائقہ کو برقرار رکھنا، معیار میں کسی طرح کی کمی نہ ہونے دینا بڑا چیلنج تھا۔ اس کے لیے ماہر باورچی رکھے گئے، جن کی تعداد بعد میں بڑھائی گئی تاکہ کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔
Published: undefined
سب سے زیادہ چیلنج بھرا دور کورونا کا تھا کیونکہ اس وبا نے پوری دنیا میں ریسٹورینٹ کاروبار کو ٹھپ کر دیا تھا۔ شمس عالم کہتے ہیں کہ ’’یہ وہ دور تھا جب لاک ڈاؤن کے سبب ریسٹورینٹ مکمل طور پر بند تھا، لیکن ملازمین کو تنخواہ بھی دی جاتی تھی اور کھانا بھی دیا جاتا تھا۔ یہ مرحلہ انتہائی دشوار گزار تھا، حالانکہ گھر والوں کی مدد اور لینڈ لارڈ کے تعاون نے حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیا۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کورونا وبا کا پہلا مرحلہ گزرنے کے بعد جب وبا کے دوسرے مرحلہ میں شام 7 بجے سے لاک ڈاؤن لگنا شروع ہوا، تو حالات فکر انگیز ہو گئے۔ چونکہ ریسٹورینٹ کے بیشتر آرڈر شام اور رات میں ہی ملتے تھے، اس لیے شام کا لاک ڈاؤن اس شعبہ کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہو رہا تھا۔ اچھی بات یہ رہی کہ ملازمین اور احباب سبھی نے مل کر اس مشکل وقت کا مقابلہ کیا۔ پھر جب خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا، تو حالات بہتر سے بہترین ہوتے چلے گئے۔
Published: undefined
کورونا کے وقت (2020 میں) ہی شمس عالم خان نے دہلی کے شاہین باغ میں بھی ریسٹورینٹ شروع کیا تھا، لیکن لاک ڈاؤن کے سبب 3-4 ماہ میں ہی اسے بند کرنا پڑا۔ ویسے بھی کورونا سے جنگ لڑتے ہوئے پٹنہ کے ساتھ ساتھ دہلی میں کاروبار سنبھالنا آسان نہیں تھا۔ ایک ناکامی شمس عالم کو پٹنہ کے انیس آباد علاقہ میں بھی ملی، جہاں انھوں نے ’تندوری بریانی‘ نام سے 2023 میں ایک ریسٹورینٹ کھولا تھا جس کا مرکزی تصور ’ہوم ڈیلیوری‘ تھا۔ منصوبہ تھا علی نگر، البا کالونی، پولیس کالونی اور ہارون نگر کالونی وغیرہ میں اپنی خدمات فراہم کرنا۔ یہاں ’آن لائن ایگریگیٹرس‘ کے کچھ اصول و ضوابط نے نقصان پہنچایا، اور کچھ مارکیٹ ریسرچ میں ہوئی غلطی نے۔ شمس عالم بتاتے ہیں کہ ’’آن لائن ایگریگیٹرس کئی بار فوڈ ڈیلیوری کے بعد 60 فیصد تک رقم اپنے پاس رکھ لیتے تھے، جس سے منافع میں بہت کمی ہو جاتی تھی۔ دوسری طرف جن کالونیوں سے بہت امیدیں تھیں، وہاں لوگ صحت کا خیال رکھتے ہوئے باہر کے سامان کم کھاتے تھے، یا پھر بڑے ہوٹلوں کا رخ کرتے تھے۔‘‘ یہ ایک ’کلاؤڈ کچن‘ تھا جو ایک سال بعد بند ہو گیا، لیکن شمس عالم کو اس سے کچھ انتہائی اہم تجربات حاصل ہوئے۔
Published: undefined
ایک طرف دہلی اور انیس آباد میں ناکامی ملی، لیکن دوسری طرف سلطان گنج کا ’3 ٹی فوڈرنک‘ نئی اونچائیاں چھوتا رہا۔ اس ریسٹورینٹ کے تئیں لوگوں میں پیدا ہو چکے بھروسہ کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 2024 میں آن لائن ایگریگیٹرس ’سویگی‘ سے ’ویج بریانی‘ میں اسے ’نمبر 1‘ کا تمغہ حاصل ہوا اور ’چکن بریانی‘ میں ’نمبر 2‘ کا۔ چونکہ یہ تمغے لذیذ پکوان کھانے والوں کی ووٹنگ سے حاصل ہوئے، اس لیے شمس عالم کا حوصلہ بلند ہونا لازمی تھا۔ یہی حوصلہ ہے جس نے ’3 ٹی فوڈرنک‘ کو نئی پرواز کی راہ دکھائی، اور اب کچھ کاغذی کارروائی کے بعد دیگر شہروں میں بھی اس کی فرنچائزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ شمس عالم کا کہنا ہے کہ تقریباً 3 ماہ میں کاغذی کارروائی مکمل ہو جائے گی، لیکن ابھی سے فرنچائزی کے لیے فون آنے شروع ہو چکے ہیں۔ اڈیشہ سے ایک فون آیا ہے، جن سے پہلے مرحلہ کی بات چیت ہو چکی ہے۔ دہلی سے بھی ایک شخص نے فرنچائزی کے لیے رابطہ قائم کیا ہے۔ یعنی لذیذ پکوانوں کے لیے پٹنہ میں مشہور ہو چکا ’3 ٹی فوڈرنک‘ کا ذائقہ اب دوسرے شہروں میں بھی پہنچنے والا ہے۔ ’چکن رول‘ سے شروع ہوئے ’3 ٹی فوڈرنک‘ کے سفر کی آج سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں صبح، شام، رات، ہر وقت کے پکوان مل جائیں گے۔ بلکہ ہر وقت، ہر موسم اور ہر عمر والوں کے لیے یہاں پکوانوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ یہ آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ چکن کباب رول کھائیں گے یا لوڈیڈ چکن پاپ کارن، یا پھر فرنچ فرائیز، پنیر چلی رول، کرسپی ویج برگر، چکن ریشمی، تندوری بریانی، چکن مانڈی، نوڈلس، ایوارڈ وننگ چکن بریانی، چکن منچورین، چکن کڑاہی، مغلئی پراٹھا، یا کچھ اور، پکوانوں کی یہ فہرست بہت طویل ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined