فکر و خیالات

تحریکِ آزادی کے عظیم قائد حاجی امداد اللہ مکیؒ...شاہد صدیقی علیگ

حاجی امداد اللہ مکیؒ نے 1857 کی جنگِ آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ تھانہ بھون میں مجاہدین کی قیادت سے لے کر مکہ مکرمہ میں دینی خدمات تک، ان کی زندگی جدوجہد اور قربانی کی روشن مثال ہے

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

آج ہم آزادی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو اس میں ان علمائے کرام اور مجاہدینِ آزادی کا بھی اہم کردار ہے جنہوں نے انگریزوں کی ناقابلِ تسخیر طاقت کے تصور کو چیلنج کیا۔ مدارس کے ان سرفروشوں نے کفن باندھ کر میدانِ جدوجہد میں قدم رکھا اور اپنے ایمان، جرأت اور بے مثال قربانیوں سے سامراجی اقتدار کو للکارا۔ ان کی جدوجہد کے تذکرے کے بغیر ہندوستان کی تاریخِ آزادی نامکمل ہے۔ انہی جانبازوں میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کا نام نمایاں ہے، جنہوں نے 1857 کی جنگِ آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔

حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی ولادت 18 اپریل 1818 کو ضلع سہارنپور کے قصبے نانوتہ میں مولانا محمد امین کے گھر ہوئی۔ ان کا سلسلۂ نسب ابراہیم بن ادہم تک پہنچتا ہے۔ ابھی آپ کی عمر سات برس ہی تھی کہ والدہ بی بی حسینی کا انتقال ہو گیا۔ آپ نے نانوتہ میں فارسی، عربی اور دینی علوم کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں دہلی کا رخ کیا، جہاں اس وقت کے ممتاز علما سے حدیث، تفسیر اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔

آپ نے مولانا سید نصیر الدین دہلوی سے بیعت کی، جو تحریکِ مجاہدین سے وابستہ تھے۔ آپ کی خواہش تھی کہ ان کے ساتھ صوبہ سرحد جا کر جہاد میں حصہ لیں، لیکن والد کی علالت اور بعد ازاں سید احمد شہید کی بالاکوٹ میں شہادت کے باعث یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔

1844 میں آپ حج کی ادائیگی کے لیے حجاز مقدس تشریف لے گئے۔ مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران مولانا اسحاق کی صحبت نے آپ کے اندر انگریزی غلامی کے خلاف جدوجہد کے جذبے کو مزید تقویت دی۔ 1846 میں آپ ہندوستان واپس آئے اور تھانہ بھون کو دینی و روحانی رہنمائی کا مرکز بنایا۔

10 مئی 1857 کو میرٹھ سے جنگِ آزادی کا آغاز ہوا تو اس کے اثرات سہارنپور اور مظفرنگر تک بھی پہنچے۔ ان علاقوں کے علما اور مجاہدین نے انگریز اقتدار کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی قیادت میں مختلف طبقات کے لوگوں نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیا۔ تھانہ بھون اس تحریک کا اہم مرکز بن گیا، جہاں مجاہدین کی تنظیم، مشاورت اور آئندہ حکمتِ عملی کے لیے مجلسِ شوریٰ قائم کی گئی۔ اسی مشاورت کے نتیجے میں حاجی امداد اللہ کو امیر منتخب کیا گیا۔

مجاہدین اور انگریز فوج کے درمیان متعدد مقامات پر سخت معرکے ہوئے۔ شیر علی باغ کے قریب ہونے والی لڑائی میں مجاہدین کو کامیابی ملی۔ بعد ازاں شاہی گڑھی کے محاذ پر بھی شدید مقابلہ ہوا۔ اس معرکے میں حافظ محمد ضامن نے جامِ شہادت نوش کیا۔ مجاہدین نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کیا، لیکن انگریز فوج کی عسکری قوت اور گورکھا و سکھ دستوں کی شمولیت کے باعث حالات کا رخ بدل گیا۔ بالآخر مجاہدین کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور حاجی امداد اللہ سمیت دیگر رہنماؤں کے لیے علاقے میں قیام مشکل ہو گیا۔

انگریز حکومت نے حاجی امداد اللہ کو گرفتار کرنے کے لیے مخبروں کا جال پھیلا دیا۔ ایسے حالات میں آپ نے تقریباً ڈیڑھ برس تک مظفرنگر، سہارنپور اور انبالہ کے مختلف علاقوں میں قیام کیا۔ مسلسل تعاقب کے باعث آپ کراچی پہنچے اور وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے حجاز مقدس روانہ ہو گئے۔

مکہ مکرمہ میں آپ نے اپنی زندگی کا باقی حصہ دینی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی رہنمائی کے لیے وقف کر دیا۔ آپ کی علمی و روحانی شخصیت نے برصغیر کے مسلمانوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ وطن سے دور رہنے کے باوجود ہندوستان کی آزادی کی تمنا اور غلامی کے خلاف آپ کی جدوجہد کا باب تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے 18 اکتوبر 1899 کو مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔ آپ کو جنت المعلیٰ میں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ، بانی مدرسہ صولتیہ، کی آرام گاہ کے قریب سپردِ خاک کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔