
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی خبر سن کر جشن مناتے ہوئے نوجوان مظاہرین، تصویر قومی آواز/ویپن
جب بھی میں حکومت کی کسی پالیسی یا قدم کی ذرا بھی تنقید کرتی، تو میرے والد مجھ سے کہتے تھے– ’’اگر تمہیں حکومت میں کچھ غلط لگتا ہے، تو خود وزیر اعظم بن جاؤ!‘‘ جب میں کہتی کہ ملک میں اِس چیز کو بدلنے کی ضرورت ہے، تو ان کا جواب ہوتا– ’’صرف باتیں کرنے سے کچھ نہیں بدلتا۔‘‘ مجھے ان کی بات ہمیشہ منطقی لگتی تھی۔ اگر میں کسی چیز کو بدلنا چاہتی ہوں، تو مجھے خود اس کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔ میں اپنے آس پاس کے لوگوں سے بات کرتی، اپنی رائے بناتی، لیکن یہ دیکھ کر مایوسی بھی ہوتی کہ اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔
پھر آئی 25 جولائی 2026 کی وہ تاریخی تاریخ، جس دن ہندوستان کے مرکزی وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ جسے میں درست سمجھتی ہوں، صرف اس کے حق میں کھڑے ہونے سے بھی ایک بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ اس سال جون کے آغاز میں شروع کی گئی ایک طنزیہ مہم دیکھتے ہی دیکھتے ڈیجیٹل دنیا سے باہر نکل آئی۔ جلد ہی یہ مہم میرے پسندیدہ ایپ انسٹاگرام سے نکل کر دہلی کے جنتر منتر کی سڑکوں تک پہنچ گئی۔ یہ مظاہرہ نیٹ امتحان کے پرچہ لیک ہونے اور ہندوستان کے اس خستہ حال تعلیمی نظام کے خلاف تھا، جس کی یہ ’پیپر لیک‘ ایک علامت بن چکی تھی۔
اس پرچہ لیک کے سبب پیدا ہونے والی ذہنی اذیت سے تنگ آ کر کم از کم 12 طلبا نے خودکشی کر لی تھی۔ اس افسوس ناک واقعے نے میرے سمیت ملک کے لاکھوں لوگوں کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ابھی 2 سال پہلے ہی میں خود کئی داخلہ امتحانات دے رہی تھی۔ نظام کی ایسی ناکامیوں کے سبب (جنہیں آسانی سے روکا جا سکتا تھا) طلبا کو دم توڑتے دیکھ کر میرے اندر غصہ بھر گیا۔ اسی غصے نے ہم میں سے بہت سے نوجوانوں کو سڑکوں پر اترنے پر مجبور کر دیا۔ شروع میں جب میں اس تحریک سے جڑی، تو مجھے کسی بڑی تبدیلی کی امید نہیں تھی۔ ہماری تعداد بہت کم تھی اور ہمارے خلاف کھڑے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ۔ لیکن جیسے جیسے دن گزرتے گئے، یہ تعداد بدلنے لگی اور ہمارے دلوں میں امید کی ایک نئی شمع روشن ہو گئی۔ پورے ہندوستان سے طلبا اس تحریک میں شامل ہونے لگے۔ یہ تعداد اتنی بڑی ہو گئی کہ مظاہرے کی جگہ بھی چھوٹی پڑنے لگی۔ یہ مکمل طور پر طلبا کی تحریک تھی، اور اس میں شامل مظاہرین کا ایک بڑا حصہ اس نسل سے تھا جسے ہم ’جین-زی‘ کہتے ہیں۔
جین-زی سب سے بہتر کیا کرتی ہے؟ ہم میمز بناتے ہیں اور سوشل میڈیا چلاتے ہیں۔ ہم نے بھی یہی کیا۔ مین اسٹریم نیوز میڈیا کے کام کرنے کے طریقے کو بے نقاب کرنے کے لیے شاید نیوز رپورٹنگ بہترین ذریعہ نہیں تھی، اور نہ ہی نیوز چینل اس کے لیے صحیح پلیٹ فارم تھے۔ ٹی وی خبروں میں جو دکھایا جا رہا تھا اور زمینی حقیقت میں جو ہو رہا تھا، اس میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ اسی لیے نیوز چینلز کے مقابلے میں انسٹاگرام خبروں کا زیادہ قابل اعتماد ذریعہ بن گیا۔ سوچیے، ایک اتوار کے خصوصی نیوز بلیٹن کے مقابلے میں ایک میم سچ کو زیادہ ایمانداری سے بیان کر رہا تھا! جو لوگ آن لائن رہ کر اس تحریک کی حمایت کر سکتے تھے، انہوں نے اپنا کام کیا۔ وہیں، جو لوگ زمین پر موجود تھے، انہوں نے موسیقی، نکڑ ناٹک، ملک کے مجاہدین آزادی کو یاد کرتے نعروں، طنزیہ تختیوں اور ’کاسپلے‘ کے ذریعے اپنے درد اور غصے کو آواز دی۔ مظاہرے کی جگہ پر کم از کم 3 اسپائیڈر مین، 2 گاندھی، پاورپف گرلز اور ایک گوریلا بھی پہنچے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔