فکر و خیالات

گاندھی جی: تحریک آزادی کے عظیم رہنما اور عدم تشدد و سچائی کے پیغامبر

موہن داس کرم چند گاندھی، جنہیں محبت اور احترام سے ’باپو‘ اور ’مہاتما‘ کہا جاتا ہے، 2 اکتوبر 1869ء کو گجرات کے ساحلی شہر پوربندر میں ایک خوش حال گجراتی ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔

<div class="paragraphs"><p>مہاتما گاندھی، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

مہاتما گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

قومی تحریکِ آزادی کے عظیم رہنما موہن داس کرم چند گاندھی عدم تشدد، سچائی، مساوات اور انسانیت کے علم بردار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ انہیں نہ صرف ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے حوالے سے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن، حریت اور عدمِ تشدد کے پیغام کے ایک مؤثر ترجمان کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

موہن داس کرم چند گاندھی، جنہیں محبت اور احترام سے ’باپو‘ اور ’مہاتما‘ کہا جاتا ہے، 2 اکتوبر 1869ء کو گجرات کے ساحلی شہر پوربندر میں ایک خوش حال گجراتی ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کرم چند گاندھی ریاستِ کاٹھیاواڑ کی مختلف ریاستوں میں دیوان کے منصب پر فائز رہے، جب کہ ان کی والدہ پُتلی بائی مذہبی مزاج رکھنے والی خاتون تھیں۔ 2 اکتوبر کو ہر سال ملک بھر میں ’گاندھی جینتی‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہندوستان کی قومی زندگی میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اقوامِ متحدہ نے بھی 2 اکتوبر کو ’عالمی یومِ عدمِ تشدد‘ قرار دیا ہے۔

ابتدائی زندگی، سچائی، احتیاط اور اعلیٰ تعلیم

گاندھی جی کی ابتدائی تعلیم پوربندر میں ہوئی، بعد ازاں وہ راج کوٹ کے الفریڈ ہائی اسکول میں زیر تعلیم رہے۔ ان کی میٹرک کی تعلیم 1887ء میں مکمل ہوئی۔  دورِ طالب علمی ہی سے  ان کی شخصیت میں سچائی اور خود احتسابی کے اوصاف نمایاں ہونے لگے تھے۔ اُس دور کے  بعض واقعات نے گاندھی جی کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے اور سچائی کے ساتھ ان کی وابستگی کو مزید مضبوط کیا۔ چنانچے اُس دور کا ایک واقعہ اس سلسلے میں خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔

1883ء کے لگ بھگ کا زمانہ تھا۔ چودہ سالہ موہن داس راج کوٹ کے اسکول میں زیرِ تعلیم تھے۔ ایک روز ہیڈ ماسٹر نے کلاس میں ان سے دریافت کیا کہ وہ ہفتے کے روز جمناسٹک کی کلاس سے غیر حاضر کیوں رہے۔ موہن داس نے عرض کیا کہ وہ اپنے والد کی تیمارداری میں مصروف تھے۔ ان کے پاس گھڑی بھی نہیں تھی اور بادلوں کی وجہ سے وقت کا درست اندازہ نہ ہو سکا، چنانچہ جب وہ اسکول پہنچے تو دوسرے طلبہ جا چکے تھے۔ ہیڈ ماسٹر نے ان کے جواب پر یقین نہیں کیا اور انہیں جھوٹا قرار دے دیا۔ ایک کم سن طالب علم کے لیے سچائی کے باوجود جھوٹ کا الزام سننا نہایت تکلیف دہ تھا۔ موہن داس اس الزام سے دل گرفتہ ہو گئے اور رو پڑے۔ انہیں اپنی سچائی اور بے گناہی پر یقین تھا، مگر وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر تھے کہ اپنے استاد کو اپنی بات کا یقین کیسے دلائیں۔

اس واقعے نے ان کے ذہن پر ایک گہرا نقش چھوڑا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ صرف سچا ہونا ہی کافی نہیں، بلکہ سچائی کو ثابت کرنے کے لیے انسان کو محتاط بھی ہونا چاہیے۔ یہ احساس ان کی آئندہ زندگی کے لیے ایک اہم سبق بن گیا۔ دراصل ہر متحرک اور ذمہ دار انسان کے لیے یہ بات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ اپنے معاملات میں سچائی کے ساتھ ساتھ احتیاط، نظم اور ذمہ داری کو بھی ملحوظ رکھے۔ کیونکہ بعض اوقات انسان حق پر ہوتا ہے، مگر اس کی بے احتیاطی اسے اپنے حق کو ثابت کرنے میں دشواری سے دوچار کر دیتی ہے۔ گاندھی جی کی شخصیت میں سچائی محض ایک اخلاقی دعویٰ نہیں تھی بلکہ مسلسل خود احتسابی کا عمل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات بھی آگے چل کر ان کے بڑے اخلاقی تصورات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

1888ء میں وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلستان گئے۔ اپنی والدہ کی خواہش اور خاندانی مذہبی ماحول کے پیشِ نظر انہوں نے بیرونِ ملک جانے سے قبل گوشت، شراب اور بعض دوسری چیزوں سے پرہیز کا عہد کیا۔ لندن میں انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1891ء میں بیرسٹر بن کر ہندوستان واپس آئے۔ قانون کی تعلیم کے ساتھ ساتھ لندن میں ان کے مطالعے کا دائرہ بھی وسیع ہوا۔ مختلف مذاہب، فلسفوں اور اخلاقی تصورات کے مطالعے نے ان کی شخصیت میں غور و فکر، خود احتسابی اور نظم و ضبط کی عادت کو پختہ کیا۔ یہی اوصاف آگے چل کر ان کی عملی زندگی اور سیاسی جدوجہد کا اہم سرمایہ بنے۔

خدمتِ خلق اور ایثار کا جذبہ

گاندھی جی کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو خدمتِ خلق اور دوسروں کے لیے ایثار کا جذبہ تھا۔ ان سے منسوب ایک مشہور واقعہ ہے کہ سفر کے دوران ان کا ایک جوتا ریل کی پٹری پر گر گیا۔ انہوں نے فوراً دوسرا جوتا بھی اتار کر پٹری پر پھینک دیا، تاکہ جس شخص کو ایک جوتا ملے، اسے دوسرا بھی مل جائے۔ یہ واقعہ اپنی ظاہری سادگی کے باوجود ایثار اور دوسروں کے کام آنے کے اس تصور کی علامت بن گیا جسے گاندھی جی نے اپنی عملی زندگی میں نمایاں کیا۔

جنوبی افریقہ کا تلخ تجربہ اور ’ستیاگرہ‘

گاندھی جی کی عملی زندگی کا ایک فیصلہ کن باب جنوبی افریقہ سے شروع ہوا۔ 1893ء میں وہ ایک قانونی مقدمے کے سلسلے میں جنوبی افریقہ گئے۔ وہاں انہیں نسلی امتیاز اور ناانصافی کے ایسے تجربات سے گزرنا پڑا جنہوں نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ 31 مئی 1893ء کو پیٹرمارٹزبرگ ریلوے اسٹیشن پر انہیں فرسٹ کلاس کا ٹکٹ رکھنے کے باوجود صرف اس بنا پر ریل کے فرسٹ کلاس ڈبے سے باہر پھینک دیا گیا کہ وہ غیر سفید فام تھے۔ یہ واقعہ ان کی زندگی میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ گاندھی ہیریٹیج پورٹل بھی پیٹرمارٹزبرگ کے اسی واقعے کو ان کی آئندہ جدوجہد اور ستیاگرہ کے بیج پڑنے سے جوڑتا ہے۔

اس تجربے نے ان کے اندر ظلم اور نسلی امتیاز کے خلاف مزاحمت کا عزم پیدا کیا۔ لیکن ان کی مزاحمت کا راستہ تشدد نہیں بلکہ سچائی، اخلاقی قوت اور عدمِ تشدد تھا۔ اسی فکر نے آگے چل کر ’ستیاگرہ‘ کی شکل اختیار کی، جو جنوبی افریقہ میں ان کی جدوجہد کا اہم اصول بنا اور بعد میں ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں ایک مؤثر سیاسی و اخلاقی قوت ثابت ہوا۔

ہندوستان واپسی اور جدوجہدِ آزادی

جنوبی افریقہ میں تقریباً 2 دہائیاں گزارنے کے بعد گاندھی جی جنوری 1915ء میں ہندوستان واپس آئے۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کا سفر کیا، عوامی زندگی کا مشاہدہ کیا اور ملک کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کو قریب سے سمجھنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں وہ ہندوستان کی قومی تحریک کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہو گئے۔ عدمِ تشدد، سچائی، سول نافرمانی، عدمِ تعاون اور عوامی بیداری ان کی جدوجہد کے نمایاں ذرائع بنے۔ چمپارن، کھیڑا، احمد آباد، نمک مارچ اور بھارت چھوڑو تحریک جیسے مختلف مراحل میں ان کی قیادت نے قومی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔ گاندھی جی بارہا قید و بند کی صعوبتوں سے گزرے، لیکن جیل بھی ان کے عزم کو متزلزل نہ کر سکی۔ ان کا یقین تھا کہ ظلم کے خلاف پُرامن مگر پُرعزم مزاحمت ایک ایسی اخلاقی قوت پیدا کر سکتی ہے جس کے سامنے جابرانہ اقتدار دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔

رفقائے کار اور مسلمانوں کا تاریخی کردار

ہندوستان کی تحریکِ آزادی کسی ایک فرد یا جماعت کی جدوجہد کا نام نہیں تھی۔ گاندھی جی کے ساتھ مختلف نظریات، مذاہب، علاقوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے قومی تحریک میں حصہ لیا۔ پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل، سی آر داس، خان عبدالغفار خان، مولانا محمد علی، پنڈت مدن موہن مالویہ، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، مولانا ابو الکلام آزاد، حکیم اجمل خاں، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عبدالباری، سروجنی نائیڈو اور ڈاکٹر راجندر پرساد سمیت متعدد شخصیات اس جدوجہد سے وابستہ رہیں۔

اس ضمن میں ہندوستان کے مسلمانوں اور ان کے مذہبی، سیاسی و سماجی اداروں کے تاریخی کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے اور متعدد مسلم تنظیموں نے قومی تحریکِ آزادی میں فعال حصہ لیا۔ جمعیت علمائے ہند، مجلسِ احرار، مومن کانفرنس، خدائی خدمت گار تحریک اور شیعہ پولیٹیکل کانفرنس سمیت مختلف تنظیموں اور رہنماؤں نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیا۔ یہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کی ایک اہم خصوصیت تھی کہ اس میں مختلف مذہبی اور سماجی طبقات کے افراد نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا اور قربانیاں پیش کیں۔

’مہاتما‘ کا لقب اور عوامی پذیرائی

گاندھی جی کے نام کے ساتھ ’مہاتما‘ کا لفظ اس قدر مانوس ہو گیا کہ رفتہ رفتہ وہ ان کے نام کا لازمی حصہ بن گیا۔ عام طور پر یہ مشہور ہے کہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور نے 1915ء میں گاندھی جی کو ’مہاتما‘ کا خطاب دیا تھا۔ گاندھی جی اور ٹیگور کے درمیان باہمی احترام کا گہرا رشتہ تھا۔ گاندھی جی، ٹیگور کو ’گرو دیو‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے، جب کہ ٹیگور نے گاندھی جی کو ’’مہاتما‘‘ کہا۔ دونوں عظیم شخصیات کے بعض سیاسی اور فکری معاملات میں اختلافات بھی تھے، لیکن ہندوستان کی قومی زندگی پر دونوں کا اثر غیر معمولی تھا۔

صحافت اور تصنیف و تالیف

گاندھی جی صرف سیاسی رہنما ہی نہیں بلکہ ایک صاحبِ مطالعہ قلم کار اور صحافی بھی تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی اور سماجی جدوجہد کے ساتھ ساتھ صحافت کو عوامی بیداری اور اصلاحِ معاشرہ کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ ’انڈین اوپینین‘، ’ینگ انڈیا‘، ’نوجوان بھارت‘ اور ’ہریجن‘ جیسے اخبارات و جرائد کے ذریعے انہوں نے اپنے خیالات عوام تک پہنچائے۔ ان کی تحریروں میں سیاسی آزادی کے ساتھ سماجی اصلاح، مذہبی رواداری، غربت، ذات پات، چھوت چھات اور انسانی مساوات جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ ان کی مشہور خودنوشت ’سچائی کے تجربات‘ بنیادی طور پر گجراتی زبان میں لکھی گئی۔ اس میں انہوں نے اپنی زندگی کو محض کامیابیوں کی داستان کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اپنی کمزوریوں، لغزشوں، تجربات اور خود احتسابی کو بھی کھلے دل سے بیان کیا۔ یہی بے لاگ خود احتسابی اس کتاب کو محض ایک سوانح نہیں بلکہ اخلاقی تجربات کی ایک اہم دستاویز بناتی ہے۔ گاندھی ہیریٹیج پورٹل پر ان کی تحریروں اور ’کلیکٹیڈ ورکس آف مہاتما گاندھی‘ کے 100 سے زیادہ جلدوں کا مستند ذخیرہ موجود ہے، جو ان کی غیر معمولی قلمی سرگرمی کا اندازہ فراہم کرتا ہے۔

زبان اور قومی یکجہتی

گاندھی جی زبان کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور عوام سے براہِ راست رابطے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ وہ ہندوستانی زبانوں، خصوصاً ہندی اور ہندوستانی کے فروغ کے حامی تھے اور چاہتے تھے کہ قومی زندگی میں ایسی زبانوں کو اہمیت حاصل ہو جو عام لوگوں تک آسانی سے پہنچ سکیں۔ گجراتی ان کی مادری زبان تھی، لیکن انہوں نے مختلف ہندوستانی زبانوں سے رابطہ رکھا اور عام لوگوں سے ان کی اپنی زبان میں بات کرنے کو اہمیت دی۔ ان کے نزدیک آزادی صرف سیاسی اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں تھی، اس کا تعلق عوام کو اپنی زبان، تہذیب اور اجتماعی خود اعتمادی سے جوڑنے سے بھی تھا۔

گاندھی جی کی شہادت

30 جنوری 1948ء کو نئی دہلی میں ایک دعائیہ اجتماع کی طرف جاتے ہوئے ناتھورام گوڈسے نے گاندھی جی کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ ان کی شہادت آزاد ہندوستان کے ابتدائی دنوں کا ایک عظیم قومی سانحہ تھی۔ ان کی موت کی خبر نے ہندوستان ہی نہیں، دنیا بھر میں گہرے رنج و الم کی کیفیت پیدا کر دی۔ وہ شخص جو اپنی پوری زندگی نفرت، تشدد اور انتقام کے بجائے سچائی، عدمِ تشدد اور انسانی ہم آہنگی کا پیغام دیتا رہا، خود تشدد کا نشانہ بن گیا۔ یہی تضاد ان کی شہادت کو تاریخ کا ایک نہایت المناک باب بناتا ہے۔

گاندھی جی کا پیغام اور آج کا دور

گاندھی جی کی زندگی ہمیں یہ سبق دے گئی ہے کہ سیاسی جدوجہد صرف طاقت اور تصادم کا نام نہیں اخلاقی قوت، عوامی بیداری، سچائی اور پُرامن مزاحمت بھی تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔ آج دنیا جنگ، نفرت، عدم برداشت، انتہا پسندی اور تشدد جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں گاندھی جی کے عدمِ تشدد، انسانی مساوات، مذہبی رواداری اور سچائی کے تصورات پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ان کے بعض سیاسی اور معاشی نظریات سے اختلاف ممکن ہے، لیکن انسانی وقار، امن اور عدمِ تشدد کے حوالے سے ان کا ورثہ آج بھی عالمی سطح پر زیرِ بحث ہے۔

اگر ہم واقعی ’باپو‘ کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو محض ان کی تصاویر پر پھول چڑھانا یا رسمی تقریریں کرنا کافی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے مساوات، تشدد کے بجائے مکالمے اور انتقام کے بجائے انصاف کو جگہ دیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔