فکر و خیالات

ایمان: انسان کی ایٹمی توانائی...ایف اے مجیب

ایمان انسان کو زندگی کا مقصد، مشکلات میں ثابت قدمی اور اختیار میں ذمہ داری کا شعور دیتا ہے۔ یہ اخلاق، ضبط، قناعت اور کردار کو مضبوط کر کے زندگی کو بامعنی سفر میں بدل دیتا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

انسان کی زندگی صرف سانسوں، خواہشوں اور ضرورتوں کا نام نہیں۔ اسے زندہ رکھنے والی اصل قوت وہ مقصد ہے جو اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کا وجود بے معنی نہیں۔ جب انسان کو اپنی زندگی کا مقصد معلوم ہو جاتا ہے تو مشکلات راستے کی رکاوٹیں نہیں رہتیں بلکہ منزل تک پہنچنے کے مراحل بن جاتی ہیں۔ یہی شعور عزم، حوصلہ اور زندگی کی حقیقی خواہش پیدا کرتا ہے۔ ایمان اسی داخلی قوت کا سرچشمہ ہے۔ ایک خدا پر کامل یقین اور اس کی قدرت، حکمت، رحمت اور عدل پر اعتماد انسان کے اندر ایسا ذہنی و روحانی توازن پیدا کرتا ہے جو اسے حالات کا غلام بننے سے بچاتا ہے۔ وہ کامیابی کو محض مال و دولت میں نہیں دیکھتا اور ناکامی کو زندگی کا اختتام نہیں سمجھتا۔ اس کے سامنے ایک بلند تر مقصد ہوتا ہے، اس لیے اس کی جدوجہد وقتی فائدے سے آگے بڑھ کر کردار اور ذمہ داری سے جڑ جاتی ہے۔

جب زندگی کا مقصد صرف دولت، آسائش اور خواہشات کی تکمیل بن جائے تو وسائل بڑھنے کے باوجود اندر کا خلا بڑھتا جاتا ہے۔ ہوس کی کوئی آخری حد نہیں؛ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لیتی ہے۔ یوں انسان زندگی کے ذرائع تو جمع کر لیتا ہے، مگر زندگی گزارنے کی وجہ کھو دیتا ہے۔ اس کے برعکس ایمان دولت کو ذریعہ، طاقت کو ذمہ داری اور زندگی کو امانت سمجھنے کا شعور دیتا ہے۔ یہی شعور انسان کو قناعت، کفایت اور اعتدال سکھاتا ہے۔ ایمان کو اس اعتبار سے انسان کی جسم و روح کے لیے ایک ایٹمی طاقت کہا جا سکتا ہے۔ ایٹمی توانائی کسی معمولی مادے میں پوشیدہ عظیم قوت کو ظاہر کرتی ہے، اسی طرح ایمان انسان کے اندر چھپی اخلاقی، ذہنی اور روحانی صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے۔ ایمان والا شخص مشکل حالات میں بھی اپنے اندر سے قوت حاصل کرتا ہے۔ وہ ناکامی کو آخری حقیقت نہیں سمجھتا، محرومی میں صبر رکھتا ہے اور اختیار ملنے پر حدود و ذمہ داری کو فراموش نہیں کرتا۔

ایمان انسان کو باحوالہ زندگی بھی عطا کرتا ہے۔ اسے احساس رہتا ہے کہ اس کا وجود ایک بڑے مقصد سے وابستہ ہے اور اس کے اعمال کی جواب دہی ہے۔ یہی احساس کردار کی حفاظت کرتا ہے۔ جب انسان تنہائی میں بھی خود کو جواب دہ سمجھتا ہے تو اخلاق محض سماجی دکھاوا نہیں رہتے بلکہ اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسی مقام پر ایمان انسان کو طاقتور بھی بناتا ہے اور دانشور بھی، کیونکہ وہ طاقت کے استعمال کے ساتھ اس کی حدود اور علم کے ساتھ اس کی ذمہ داری کو بھی سمجھتا ہے۔

حقیقی ترقی صرف دولت، ٹیکنالوجی اور سہولتوں میں اضافے کا نام نہیں۔ ترقی اس وقت بامعنی ہوتی ہے جب عقل کے ساتھ کردار، طاقت کے ساتھ ذمہ داری، خواہش کے ساتھ ضبط اور آزادی کے ساتھ اخلاق بھی آگے بڑھیں۔ ایمان انسان کے اندر انہی عناصر کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ اسی لیے ایمان زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کو مقصد دینے والی قوت ہے۔ یہ انسان کو مشکلات سے بچانے کا وعدہ نہیں کرتا، بلکہ مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہنے کی توانائی دیتا ہے۔ جس انسان کے اندر مقصد زندہ ہو، اس کا عزم زندہ رہتا ہے؛ اور جس کا عزم زندہ ہو، اس کی زندگی محض دن گزارنے کا نام نہیں رہتی بلکہ ایک بامعنی سفر بن جاتی ہے۔ ایمان اسی سفر کی وہ داخلی توانائی ہے جو انسان کو بکھرنے کے بجائے سنورنے، جھکنے کے بجائے سنبھلنے اور صرف زندہ رہنے کے بجائے بامقصد زندگی گزارنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔