
مہوا موئترا / آئی اے این ایس
بالآخر حکومت نے شعلہ بیان مقرر اور ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سے نجات پا لی۔ انہیں پارلیمنٹ کی رکنیت سے معطل کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ پارلیمنٹ کی ایتھکس کمیٹی یا ’اخلاقی کمیٹی‘ کی سفارش پر کیا گیا۔ جیسا کہ قارئین کو معلوم ہے کہ ان پر پارلیمنٹ میں سوال کے عوض رقم لینے اور پارلیمنٹ کے اکاؤنٹ کی لاگ اِن کے لیے پاس ورڈ ایک کاروباری درشن ہیرانندانی کو شیئر کرنے کا الزام ہے۔ مہوا نے ثانی الذکر الزام کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا ضرور کیا ہے لیکن اس معاملے میں وہ تنہا نہیں ہیں۔ ایسا نہ کرنے کا کوئی قانون بھی نہیں ہے۔ بہت سے ارکان پارلیمنٹ کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ خود پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر جا کر سوال پوسٹ کریں۔ لہٰذا ان کے سکریٹریز یہ کام کرتے ہیں۔ بلکہ ایک رکن پارلیمنٹ نے تو ایوان کے اندر اعتراف کیا کہ وہ خود دوسروں سے سوالات پوسٹ کرواتے ہیں۔ جب مہوا پر یہ الزام عاید کیا گیا تھا تو انھوں نے پارلیمنٹ کے سکریٹریٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں تمام تفصیلات منظر عام پر لائے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔
جہاں تک اول الذکر الزام کا تعلق ہے تو ان کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ پارلیمنٹ کی ایتھکس یا اخلاقی کمیٹی کی کارروائی میں بھی کافی جھول بتایا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے نہ تو ان سے جرح کی، نہ ہی درشن ہیرانندانی سے جرح کی، نہ ہی ان کے خلاف شکایت کرنے والے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے سے جرح کی اور نہ ہی اس وکیل سے جرح کی جو پہلے مہوا کا پارٹنر تھا اور جس کی تفصیلات کی بنیاد پر نشی کانت دوبے نے شکایت کی تھی۔ کمیٹی نے مہوا کے خلاف ایک سو سے زائد صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کی جسے جمعے کو پارلیمان میں پیش کیا گیا۔ اس رپورٹ کو پڑھنے کے لیے ممبران کو محض دو گھنٹے کا وقت دیا گیا اور نصف گھنٹے کی آدھی ادھوری بحث کے بعد اسے منظور کر لیا گیا اور مہوا کی معطلی کا فیصلہ سنا دیا گیا۔
حالانکہ کمیٹی کی کارروائی اور اس کے طریقہ کار اور لوک سبھا کے اسپیکر کے رویے پر بھی سوال اٹھایا گیا اور اپوزیشن رہنماؤں نے بہت سے معاملات اٹھائے اور یہ مطالبہ کیا کہ مہوا کو اپنا موقف رکھنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن اپوزیشن کے مطالبات نامنظور کر دیے گئے۔ کانگریس کے ر کن منیش تیواری نے کہا کہ وہ چالیس سال سے وکالت کر رہے ہیں لیکن ایسا کیس انھوں نے پہلی بار دیکھا کہ ملزم کوصفائی کا موقع نہیں دیا گیا اور نہ ہی الزام لگانے والوں سے جرح کی گئی۔ اس پر لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ پارلیمنٹ نہ تو عدالت ہے اور نہ ہی وہ جج ہیں۔ اس طرح انھوں نے اپوزیشن رہنماؤں کے الزامات کو خارج کر دیا۔
مہوا موئترا نے پارلیمنٹ کے اس فیصلے کے خلاف ایوان کے باہر زبردست تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ 49 سال کی ہیں اور اس رویے کے خلاف 30 سال تک لڑائی لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول جب کسی کی تباہی قریب ہوتی ہے تو اس کی عقل خبط ہو جاتی ہے۔ انھوں نے حکومت پر ایک غلط فیصلہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کے پارلیمانی حلقے کے عوام اس فیصلے کا ترکی بہ ترکی جواب دیں گے۔ ترنمول کانگریس کی رہنما اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس فیصلے کو غیر جمہوری قرار دیا۔ انھوں نے بھی ایتھکس کمیٹی کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔
جس وقت مہوا پارلیمنٹ کے باہر بپھرے ہوئے انداز میں میڈیا سے خطاب کر رہی تھیں تو ان کے پیچھے پورا اپوزیشن کھڑا تھا۔ یہاں تک کہ کانگریس کی سابق صدر اور سینئر رہنما سونیا گاندھی بھی ان کے پیچھے کھڑی نظر آ رہی تھیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ تین ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی غیر اطمینان بخش کارکردگی کے بعد اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے جس طرح کانگریس کے خلاف بیانات دیے تھے اس سے ایسا لگ رہا تھا کہ اپوزیشن کا اتحاد ”انڈیا“ بکھر جائے گا اور اب اس میں اتحاد نہیں ہو سکے گا۔ لیکن مہوا کے معاملے میں جس طرح تمام اپوزیشن متحد ہو گیا اس سے یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ اتحاد کے بکھراؤ کی باتیں بے بنیاد تھیں اپویشن متحد ہے۔
یاد رہے کہ مہوا موئترا ایک شعلہ بیان مقرر ہیں۔ وہ جب پارلیمنٹ میں بولتی ہیں تو پورا ایوان گوش برآواز ہو جاتا ہے۔ ان کی تقریر بے بنیاد نہیں ہوتی بلکہ دلائل اور حقائق سے پُر ہوتی ہے۔ ان کے نشانے پر عام طور پر حکمراں طبقہ ہوتا ہے۔ مہوا نے ابتدائی تعلیم ہندوستان میں اور اعلیٰ تعلیم امریکہ میں پائی۔ حالانکہ وہ ہندی بھی اچھی بول لیتی ہیں لیکن عام طور پر انگریزی ہی میں تقریر کرتی ہیں۔ ایسا بارہا ہوا کہ پارلیمنٹ میں کی گئی ان کی تقریر کئی کئی دنوں تک میڈیا میں زیر بحث رہی۔
مبصرین کے مطابق حکومت مہوا سے نجات پانے کی ایک عرصے سے کوشش کر رہی تھی۔ اسی درمیان بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کی ملاقات مہوا کے سابق دوست اور سپریم کورٹ کے وکیل جے اننت سے ہو گئی۔ دوبے کے بقول انھوں نے انھیں اس کے ثبوت فراہم کر دیے کہ کس طرح مہوا نے اپنا پاس ورڈ ہیرانندانی کو فراہم کیا تھا۔ اس کی بنیاد پر دوبے نے شکایت کی اور پھر ایتھکس کمیٹی کے حوالے یہ کیس کر دیا گیا۔ اب ایتھکس کمیٹی نے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی جسے منظور کر کے انھیں معطل کر دیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے درشن ہیرانندانی سے پیسے لے کر پارلیمنٹ میں سوالات پوچھے تھے جو کہ غیر اخلاقی بھی ہے اور مجرمانہ بھی ہے۔ یاد رہے کہ مہوا نے پارلیمنٹ میں جو 61 سوالات پوچھے ان میں سے پچاس گوتم اڈانی سے متعلق تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے سوالوں سے پریشان تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نہیں چاہتے کہ کوئی ان کے اور گوتم اڈانی کے رشتوں پر سوال اٹھائے۔ اسی لیے ان کے خلاف ایک جال بنا گیا اور اس میں ان کو ایک مچھلی کی طرح پھانس لیا گیا۔ مہوا لاکھ ہاتھ پاؤں مارتی رہیں لیکن ہوا وہی جو حکومت چاہتی تھی۔ یعنی اب وہ پارلیمنٹ میں اڈانی سے متعلق سوال نہیں پوچھ سکتیں۔ واضح رہے کہ سینئر کانگریس رہنما راہل گاندھی بھی اڈانی اور مودی کے رشتوں کے بارے میں سوال پوچھتے رہے ہیں۔ بلکہ سب سے زیادہ سوالات انھوں نے ہی پوچھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے عدالت کا سہارا لے کر ان کے خلاف بھی کارروائی کر دی تھی اور ان کی بھی رکنیت چھین لی تھی۔ لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے اسے بحال کر دیا گیا۔ اس طرح حکومت راہل گاندھی کے معاملے میں ناکام ہو گئی۔ لیکن مہوا کے خلاف عدالت کا سہارا لینے کے بجائے خود پارلیمنٹ کا سہارا لیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ سب سے سپیریئر ہے۔ اس سے قبل بھی سوال کے بدلے رقم لینے کے معاملات سامنے آئے تھے اور ان میں جب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ اس کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ مہوا عدالت میں جانے کے امکانات تلاش کر رہی ہیں۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ان کے خلاف تو کارروائی کر دی گئی لیکن ان سے پہلے دانش علی اور رمیش بدھوڑی کا معاملہ ایتھکس کمیٹی کے سامنے گیا تھا لیکن اس میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اب بدھوڑی نے دانش علی سے معافی مانگ لی ہے۔ ادھر دانش علی کو بی ایس پی صدر مایاوتی نے پارٹی سے نکال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انھیں مہوا کا ساتھ دینے اور عوام مخالف حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں پر کا کانگریس کا ساتھ دینے کی وجہ سے پارٹی سے نکالا گیا ہے۔ دانش علی نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کے عوام مخالف فیصلوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔
دریں اثنا ایسی خبریں ہیں کہ حکومت نہیں چاہتی کہ مہوا اگلا پارلیمانی انتخاب لڑیں اس لیے ان کے ارد گرد ایک اور جال بنا جا رہا ہے تاکہ انھیں جیل میں ڈال دیا جائے۔ ایتھکس کمیٹی نے حکومت کی ایجنسیوں سے ان کی جانچ کا جو مطالبہ کیا ہے اسے اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت انھیں پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے سے روکنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔